انساں کہ شکم سیریِ اُو یک نان است
از حرص و ہوا شام و سحر نالان است
در بحرِ وجودش بنگر طوفان است
آخر چو حباب یک نفَس مہمان است
انسان کہ جس کی شکم سیری ایک نان سے ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے لالچ کی وجہ سے صبح و شام نالاں ہی رہتا ہے۔ اس کے وجود میں موجزن طوفانوں کو دیکھ اور یہ بھی دیکھ کہ وہ بلبلے کی طرح...
پہلے شعر میں زخم کا غلط تلفظ ہے یہ زخ،م ہے یعنی فاع یا درد کے وزن پر۔ تیسرے شعر میں ہجر کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے یہ بھی فاع ہے۔ پانچویں شعر میں دیے، آپ نے یے کی تشدید کے ساتھ یعنی دی یے فعلن باندھا ہے، یہ دیے یعنی چمن کے وزن پر ہے۔ کنارا کشی کر لے مری ذات سے تُو، کر لے اور مری کی وجہ سے بے وزن...
چلیں میں بتا دیتا ہوں
فارسی شعرا
سعدی شیرازی
حافظ شیرازی
ابوالفیض فیضی
صائب تبریزی
بیدل
اور بہت سے
اردو شعرا
میر تقی میر
غالب
اقبال
اصغر گونڈوی
جوش ملیح آبادی
اور بہت سے
لگتا اور گیا کی تقطیع ایسے ہو سکتی ہے ضرورتِ شعری کے تحت یعنی ان الفاظ کا الف گرایا جا سکتا ہے۔ جہاں فارسی کا لفظ ہے، اصول کے مطابق اس کا الف گرانا جائز نہیں لیکن شعرا اسکی پابندی نہیں کرتے اور ایسے الفاظ کا الف بھی گرا دیتے ہیں۔