یہی تو عمران کا قول ہے جو وہ 15 سال سے قوم کو بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اسمبلی والے ایک دوسرے کی کرپشن کا برابر تذکرہ کر کے ایک دوسرے کو خاموش کر دیتے ہیں ۔ :)آداب
اس سے پہلے ایک خاص قسم کا رومال سر پر باندھنا مجاہدین کے عالمی رابطے کے مظہر کے طور پر مستعمل رہ چکا ہے ۔لیکن یہ اور بات ہے کہ جب وحدت ہی پارہ پارہ ہو تو یہ شکستہ مظاہر اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں ۔۔۔شاید انہیں مکمل طور پہ بے مقصد نہیں کہا جانا طاہیے۔
لیکن شمشاد بھائی ۔۔۔ اس پر تو واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ یہ 17دسمبر 2012 کو ایشو ہوا ہے اور13 جون 2013 کو ختم ہو چکا ہے۔ایسی صورت میں کیا ہو سکتا ہے ؟ ۔۔۔عید الافطر کی چھٹی میں میرے ساتھ بھی یہی مسئلہ پیش آیا تھا ۔
برادر فاتح ۔۔۔محض بچپن کی یاد داشت کی بنیاد پہ لکھا گیا ہے کوئی سند یا حوالہ فراہم نہ کر سکوں گا اور میرے پاس یہاں کتب وسائل بھی نہیں کہ کچھ کوشش ہی کرسکوں۔:sad4:
ایک اور بر سبیل تذکرہ ۔کم و بیش کچھ اسی لب و لہجے کا اظہار۔
سرہانے میر کے ۔۔۔۔آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے ۔سو گیا ہے
میر صاحب
سودا کی جو بالیں پہ ہوا۔۔۔ شور قیامت
خدّام ِ ادب بولے ۔۔ابھی آنکھ لگی ہے
مرزا سودا
میر و سودا کے دو ٹکراتے اشعاریاد آ گئے۔۔۔۔
چشم گریاں میں جو آؤ۔ تو سنبھل کر آنا
دیکھنا پاؤں نہ پھسلے۔ کہ یہاں کائی ہے۔۔۔میر
رکھنا قدم ۔۔تصور جاناں۔ سنبھال کے
کائی ہے جا بہ جا۔ مری چشم پرآب میں۔۔۔سودا
والد صاحب سنایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میر کا کلام آہ ہے اور سودا کا کلا م واہ
آپ کا کہنا بجا رنگ روپ دبستان یہ سب اردو زبان کے مشہور و معروف پہلو ہیں اور میں نے بی اے اور ایم اے اردو کے سلیبس کی کتب اردو کے طلبہ کی طرح پڑھی ہیں اس کی عمومی مثالیں فسانہء عجائب اور باغ و بہار اور آرائش محفل کے لہجوں سے دی جاتی ہے ۔میرا نقطہء نظر میں یہ سب اردو زبان کے مروجہ لہجات ہیں انہیں...
فارقٖلیط صاحب ۔ خلیل صاحب کی طرح آپ بھی میرے بزرگ ہیں اور محترم بھی۔
اعتراض اور تنقید کو میں احترام سے متعارض اور متصادم نہیں سمجھتا سو میں نے بھی بر سبیل تذکرہ خلیل صاحب کی ترجمانی کے طور پہ لکھ دیا تھا اس میں گراں گزرنے کا کوئی سوال ہی نہیں ۔:smile2:
اور ہاں ۔ میرے خیال میں دکنی اردو کوئی اردو...
فارقلیط صاحب ! لگتا ہے یہاں خلیل صاحب نے منطوق تلفظ کو کتابت میں اتارنے کے لیے ایسا کیا ہے ۔ اس کے بغیر محض بقیہ اشاروں سے لطف اتنا نکھر کے سامنے نہ آ پاتا ۔
احباب سے گزارش ہی کہ اس دھاگے کو رواں دواں رکھیں تاکہ خیریت;) سے آگاہی رہے۔ کل پاکستان بھی جانا ہے ۔نہ جانے کیا ٹمپریچر ہے آب و ہوا کا اور تحقیقات کا بھی :)۔
ذرا یہ غور سے سُن لیں جو ہیں سب حاضِر و ناظِر
ہیں اور حاضر کو ذرا دور کر نا شاید بہتر ہو کیوں کہ ہ اور ح اگر چہ ہم عجمیوں کے نزدیک ایک ہی ہوتے ہیں اس لئے اتنے قریب نہ ہوں تو شایدروانی اور بہتر ہو۔
یہ سننا تھا کہ بھالو کوُد کر یوں سامنے آیا
اور اک بھونچال کی مانند اُس نے سب کو چونکایا
یہاں یوں...