آپ کی بات بھی درست لیکن یہاں ذہن میں پیدا ہونے والے ان خیالات کی بات کی گئی ہے جو بظاہر اعضاء کے لیے کیے گئے ہیں لیکن جن کی جڑوں میں درست نیّتوں سے کیے گئے اعمال ہی کا لہو کارفرما ہوتا ہے۔
میں نے اسی حقیقت کو اپنے ایک شعر میں ڈھالا ہے۔
آرزوؤں کے لہو کا تھاصلا
جنتیں کھو کر یہ سنگ ِ در ملا...