در کعبہ اگر دل سوئے غیرست ترا
طاعت ہمہ فسق و کعبہ دیرست ترا
ور دل بہ خدا و ساکن میکدهای
می نوش کہ عاقبت بخیرست ترا
ابوسعید ابوالخیر
اگر کعبے میں بھی تیرا دل غیر پر متوجہ ہے
تو تیری عبادتیں تمام تر گناہ ہیں
اور اگر میکدے میں تیرا دل خدا کی طرف متوجہ ہے
تو پیتا رہ کہ تیری آخرت بخیر ہے۔
میرا لیپ ٹاپ یہ ہے۔
P5M76EA#A2N
HP Pavilion Gaming Notebook
چھٹی جنریشن کا ہے اس کا پرویسر (آئی 7۔6700) یہ آکٹا تھریڈہے اور کواڈ کور کے مقابلے میں زیادہ پاور لیتا ہے۔
لیکن پرفارمنس میں توقع سے بڑھ کر ہے ۔ہائی پاور کے باوجود چار پانچ گھنٹے بیٹری چلاتا ہے ۔۔۔ این وی ڈیا ۔ 950 ایم ۔ چار جی بی کا...
میرے سفر کے تکون کا رقبہ توشاید ایک بھی نا نکلے ۔ :)
مشرق ترین۔لاہور۔۔۔31.528534, 74.359895
شمال ترین ۔لاہور۔۔۔31.528534, 74.359895
جنوب ترین۔خمیس مشیط۔(سعودی عرب)۔۔۔18.302310, 42.764782
مغرب ۔ مدینہ (سعودی عرب)۔24.526165, 39.566522
خالد صاحب ۔ آپ اس کو ذرا سائنٹفک اسلوب میں یوں بھی لکھ سکتے ہیں ۔:)
مشرق ترین ۔نئی سبزی منڈی یا سہراب گوٹھ ۔وغیرہ
مغرب ۔ ویسٹ وارف ۔ شیر شاہ ۔ بلدیہ ٹاؤن۔وغیرہ
جنوب ترین ۔ کیماڑی ۔ منوڑہ ۔وغیرہ
شمال ترین ۔ سرجانی ٹاؤن ۔وغیرہ
اور خطوط طول البلد اور عرض البلد تو گوگل ارتھ سے مل ہی سکتے ہیں ۔:)
بہت اچھا ۔ اب واضح ہو گیا ۔۔۔۔
یعنی لفظ لگیچر میں ایک ہی لگیچر ہے ۔ جب کہ ترسیمے میں دو ترسیمے۔۔، اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ لگیچر اور ترسیمہ در اصل ایک ہی چیز ہیں ۔:)
کیا میں درست سمجھا ؟
لگیچر کیا ہوتا ہے ؟
اس مراسلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حروف کی انفرادی اشکال کو یا ان اکائیوں جو آدھی شکلوں یا کسی حرف کی بیچ کی نامکمل شکل کو کہا جاتا ہوگاہے جنہیں جوڑ کر الفاظ ملائے اور بنائے جاتے ہیں ۔ کیا یہ صحیح ہے ؟
مجھے فورس کشیدہ والے میں ب ، ،ک ، اور ف کی کشیدگی میں( جبکہ وہ اکیلے استعمال ہوئے ہوں یا آخر میں جہاں کھینچے جانے کی گنجائش ہو) گولائی کا عنصر نظر انداز ہوتا نظر آیا بہت سپاٹ اور سیدھی سی شکل لگی ۔ باقی سب بہترین ہیں ۔
کیا یہ میرا خیال ہے یا اس کی کوئی تکنیکی وجہ ؟
عصیاں بنی آدم کےہیں گرچہ صحرا
ہیں تیری عنایت کے لیےاک تنکا
رہتے ہیں گنہ گار سوار کشتی
کیا غم کہ ترا رحم ہے مثل ِدریا
ترجمانی ۔ سید عاطف علی۔
شیخ ابوالخیر کوایک خراج تحسین ۔کیا ہی خوب رباعی کہی ہے ماشاءاللہ
گماں مبر کہ بپایاں رسید کار مغاں
ہزار بادہء ناخوردہ در رگ تاک است
اقبال۔
یہ نہ سمجھ لو کہ پیر مغاں کا کام اب انجام کو پہنچ چکا ہے۔
ابھی تو بہت شراب انگور کی رگوں میں (سے کشید کی جانی) ہے۔