فیروز اللغات اردو تو بہت پہلے کہیں نظر سے گزری تھی اور بادی النظر میں بلا مبالغہ ایسا محسوس ہوا تھا کہ واقعی کوئی گئی گزری لغت ہے مضحکہ خیز حد تک بیکار ۔۔۔یہ اس وقت کے تاثرا ت ہیں ۔۔۔
البتہ والد صاحب کے پاس فیروز اللغات فارسی کا بوسیدہ سانسخہ تھا (اب میرےپاس ہے) وہ واقعی اردو کے لیے شاندار اثاثہ...