یہ غزل کوئی تیس سال قبل پڑھی تھی ۔کیا کمال غزل ہے میر صاحب کی ۔آج اچانک ایک شعر سے داغ دہلوی یاد آگئے ۔
ہوش و حواس و تاب و تواں داغ کھو چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
شادآباد رہیں ہمارے فرخ منظور بھائی
اس دھاگے کے تقریباََ بیس صفحات کے بالاستیعاب مطالعے سے میں دو عظیم نتائج اخذ کر سکا ہوں ۔
ایک ڈھاک کے تین پات اور دوسرے مرغی کی ایک ٹانگ ۔
آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا ۔
یار ذیشان بھائی ! یہاں میں آپ سے اختلاف کی جرات کروں گا کیوں کہ محترم خلیل الرحمان پر جب بات ہو گی تو اس کے محرکات دھاگے کے متعلقات ہی میں ہیں ، اور جس کی بنیاد فیمنزم ہی ہے اور جس کا محرک محترمہ ماروی سرمدکے کلمات ہیں ، اور جس کی نظریاتی بنیاد فیمنزم کا تصور ہے۔ ;)
میرا خیال تھا کہ یہاں مارچ کے نقاط ،ان کے محرکات اور ان کی نظریاتی بنیادوں پر بحث ہو گی ۔ یہاں تو بات فیمزم سے شروع وحدت الوجود اور ڈرون حملوں تک پہنچ چکی ہے ۔ ہماری فکری برداشت کب ایک دوسرے کی بات تحمل سے سننے کے قابل ہوگی ؟ کیا ہمیں یہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ آپ ایک موضوع سے دوسرے موضوع پر جست...
ایک سوال -
یہ مارچ کی جدو جہد کرنے والے ان اقدامات کے خلاف ہیں جو چھوٹی بچیوں اور بچوں وغیرہ سے جسمانی زیادتی وغیرہ کے قوانین کو سخت تر کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں ۔
اس میں کہاں تک صداقت ہے ؟