نتائج تلاش

  1. ب

    مصطفیٰ زیدی نظم - شہر جنوں میں چل - مصطفی زیدی

    شہر جنوں میں چل مری محرومیوں کی رات اس شہر میں جہاں ترے خوں سے حنا بنے یوں رائگاں نہ جائے تری آہِ نیم شب کچھ جنبشِ نسیم بنے کچھ دعا بنے اس رات دن کی گردشِ بے سود کے عوض کوئی عمودِ فکر کوئی زاویہ بنے اک سمت انتہائے افق سے نمود ہو اک گھر دیار دیدہ و دل سے جدا بنے اک داستانِ کرب کم آموز کی جگہ تیری...
  2. ب

    مصطفیٰ زیدی ماہ و سال

    اسی روش پہ ہے قائم مزاجِ دیدہ و دل لہو میں اب بھی تڑپتی ہیں بجلیاں کہ نہیں زمیں پہ اب بھی اترتا ہے آسماں کہ نہیں؟ کسی کی جیب و گریباں کی آزمائش میں کبھی خود اپنی قبا کا خیال آتا ہے ذرا سا وسوسہءِ ماہ و سال آتا ہے ؟ کبھی یہ بات بھی سوچی کہ منتظر آنکھیں غبار راہ گزر میں اجڑ گی ہوں گی...
  3. ب

    مصطفیٰ زیدی کفِ مومن سے نہ دروازۂ ایماں سے ملا - مصطفی زیدی

    کفِ مومن سے نہ دروازۂ ایماں سے ملا رشتۂ درد اسی دشمنِ ایماں سے ملا اس کا رونا ہے کہ پیماں شکنی کے با وصف وہ ستمگر اسی پیشانیٔ خندہ سے ملا طالبِ دستِ ہوس اور کئی دامن تھے ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا کوئی باقی نہیں اب ترکِ تعلق کے لیئے وہ بھی جا کر صفِ احبابِ گریزاں سے ملا کیا...
  4. ب

    مصطفیٰ زیدی نظم - رہ و رسم آشنائی - مصطفی زیدی

    زمیں نئی تھی فلک نا شناس تھا جب ہم تری گلی سے نکل کر سوئے زمانہ چلے نظر جھکا کہ بہ اندازِ مجرمانہ چلے چلے بَجیب دریدہ، بہ دامنِ صَد چاک کہ جیسے جنسِ دل و جاں گنوا کے آئے ہیں تمام نقدِ سیادت لٹا کہ آئے ہیں جہاں اک عمر کٹی تھی اسی قلمرو میں شناختوں کے لیئے ہر شاہراہ نے ٹوکا ہر اک نگاہ کے نیزے...
  5. ب

    طارق عزیز بارہواں حواری طارق عزیز

    جس دا سارے شہر وچ نئیں سی کوئ حبیب اوہنے ٹکراں مار کے کیتی لا ل صلیب
  6. ب

    مصطفیٰ زیدی جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گيا مصطفی زیدی

    جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گيا شاہی تو مل گئ دل شاہانہ چھٹ گيا کوئ تو غم گسار تھا، کوئ تو دوست تھا اب کس کے پاس جائیں کہ ویرانہ چھٹ گيا دنیا تمام چھٹ گئ پیمانے کے ليئے وہ میکدے میں آے تو پیمانہ چھٹ گيا کیا تیز پا تھے دن کی تمازت کے قافلے ہاتوں سے رشتہء شب افسانہ چھٹ گیا اک دن...
  7. ب

    مصطفیٰ زیدی پہلا پتھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفی زیدی

    صبا ہمارے رفیقوں سے جا کے یہ کہنا بہ صَد تشکر و اخلاص و حسن و خو ش ادبی کہ جو سلوک بھی ہم پر روا ہوا اس میں نہ کو ئ رمز نہاں ہے نہ کوئ بوالعجبی ہمارے واسطے یہ رات بھی مقدر تھی کہ حرف آے ستاروں پہ بے چراغی کا لباس چاک پہ تہمت قبائے زریں کی دل شکستہ پر الزام بد دما غی کا صبا جو راہ...
  8. ب

    طارق عزیز (اک بھید) طارق عزیز

    میری طرح دے لوک ہمیشہ ایس دنیا وچ آئے نیں جیہڑے اپنے انت د یاں تصویراں نا ل لیائے نیں دل وچ چور جے لکیا ہو وے اوہنوں وی اے دسو ظاہر ہو کے چھپیا ہو وے اوہنوں وی دسو
  9. ب

    دیکھ رہین احتیاط یوں نہ ابھی سنبھل کے چل

    دیکھ رہین احتیاط یوں نہ ابھی سنبھل کے چل صورت موج تند خو، سمت بدل بدل کے چل قریہ ء جاں کے اس طرف روشنیوں کی بِھیڑ ہے آج حدودِ ذات سے چار قدم نکل کے چل دشتِ انا میں ہے تجھے، تیرگیوں کا سامنا ذہن سے برف چھیل دے، دھوپ بدن پہ مل کے چل موجِ ِہوا سے کر کشید، اور سفر کا حو صلہ راہ کے خار...
  10. ب

    طارق عزیز اک شرارتی دعا۔۔۔ ۔۔۔ طارق عزیز

    او شاہ پری خیا لاں دی اوہ جٹی ہیر سیالاں دی اوہنوں ویکھ کے موسم گلاب دیوے اوہنوں ویکھ کے نشہ شراب دیوے جے اوہدے نال وصال ہووے گل اے بڑی کمال ہووے
  11. ب

    عدیم ہاشمی اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا - عدیم ہاشمی

    اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا وہ خود اک چاند ہے پھر چاند سا کیا قیامت ہو گیا چلنا بھی مجھ کو پلٹ کر دیکھنا بھی تھا ترا کیا الٹ جاتی ہے صورت آئینے میں دکھائے گا حقیقت آئینہ کیا بہت نزدیک آتے جا رہے ہو بچھڑ جانے کا سودا کر لیا کیا بڑے محتاط ہوتے جا رہے ہو زمانے نے تمہیں سمجھا دیا کیا تہی...
  12. ب

    مصطفیٰ زیدی تعبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصطفی زیدی

    مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو تھکے ہوے کھڑکیوں کے چہرے جلی ہوئ آسماں کی رنگت سیاہ آفا‍ق تک بگولے لہو کے آتش فشاں کی ساعت وجود پر ایک بوجھ سا تھا نہ صبح وعدہ نہ شام فرقت اسی مہیب آتشیں گھڑی میں کسی کی دستک سنی تو دل نے کہا کہ صحرا کی چوٹ کھائے کوئ غریب الدیار ہو گا یہ سچ کہ دل کی ہر...
  13. ب

    تعارف پھر اس کے بعد،،،،،،،،،،،،،،؟؟؟

    السلام و علیکم، محترم ممبران آپ شائد اس تعارف کا عنوان دیکھ کر میری ذہنی صحت پر شک کریں ، لیکن حکم عقوبت جاری کرنے سے پیشتر ضروری ہے کہ دامن یو سف پر بھی ایک نظر ڈال لی جاے۔ تو یوں ہے کہ میں پانچ بار اپنا تعارف بھیجنے کی کو شش کر چکا ، پر کیا کیجیئے اس کے۔ای۔ایس۔سی کا ابھی تعارف مکمل ہوا نہیں...
  14. ب

    ایک گمنام سپاہی کی قبر پر

    تیری مہراب پہ اے عصر کہن کی تاریخ صرف گو تم کے حسیں بت کا تبسم کیوں ہے کس ليئے کیل سے لٹکی ہے فقط ایک صلیب ایک زنجیر کے حلقے کا ترنم کیوں ہے ایک ارسطو سے ہے کیوں گوشہءدانش پر نور ایک سقراط کے سینے کا تلاطم کیوں ہے اسی محراب کے سائے میں کئ ابن علی کئ خونخوار یزید وں سے رہے گرم ستیز...
  15. ب

    ابن انشا ایک سبق جغرافیہ کا۔۔۔۔ابن انشاء

    :hatoff: جغرافیہ میں سب سے پہلے یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا گول ہے۔ ایک زمانے میں بیشک چپٹی ہو ی تھی، پھر گول قرار پائ ۔ گول ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ مشرق کی طرف سے جاتے ہیں مغرب کی طرف جا نکلتے ہیں۔ کوئ ان کو پکڑ نہیں سکتا۔ اسمگلروں مجرموں اور سیاست دانوں کے لیے بڑی آسانی ہو گئ ہے۔...
  16. ب

    عدیم ہاشمی راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عدیم ہاشمی

    راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے اس نے پوچھا تو ہے اتنا، ترا حال اچھا ہے ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہے پھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے ترے آنےسے کوئ ہوش رہے یانہ رہے اب تلک تو ترے بیمار کا حال اچھا ہے یہ بھی ممکن ہے تری بات ہی بن جائے کوئ اسے دے دے کوئ اچھی سی...
  17. ب

    عدیم ہاشمی ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے۔۔۔۔۔۔۔۔عدیم ہاشمی

    ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے گھر کے آنسو تھے مگر بر سر بازار گرے ہم ہی آنہوں سے نہیں ہار کے ناچار گرے آندھیاں جب بھی چلی ہیں کئ اشجار گرے پھر وہی خواب ، وہی طوفاں وہی دو آوازیں جیسے در پہلے گرے بعد میں دیوار گرے ایسی آواز سے دل ٹوٹ کے سینے میں گرا جیسے منجد ھار میں بھونچال سے کہسار...
  18. ب

    سلیم کوثر پیار کرنے کے لیے گیت سنانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم کوثر

    پیار کرنے کے لیے گیت سنانے کے لیے اک خزانہ ہے میرے پاس لٹانے کے لیے یاد کے زخم ہیں وعدوں کی دھنک ہے میں ہوں یہ بہت ہے تیری تصویر بنانے کے لیے ہم بھی کیا لوگ ہیں خوشبو کی روایت سے الگ خود پہ ظاہر نہ ہوے تجھ کو چھپانے کے لیے راستہ روک ہی لیتا ہے تغیر کا غبار ورنہ ہر راہ کھلی ہے یہاں جانے کے...
  19. ب

    ابن انشا سورج کا ڈبہ گول ہو گیا ابن انشاء

    اخبار میں ایک برطانوي سائنسدان کا بیان آیا ہے کہ سورج کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔ایک روز یک لخت اس کا چراغ گل ہو جائے گا۔اس کا جانا ٹہر گیا ہے صبح گیا یا شام گيا۔ یہ خبر پڑھ کر ہماری آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا ہےکیونکہ اس امر کے باوجود کہ ہمیں سورج پر بعض اعتراض ہیں، اس کی خوبیاں اظہر...
  20. ب

    افتخار عارف کوچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افتخار عارف

    جس روز ہمارا کوچ ہوگا پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی شیریں سخنوں کے حرف دشنام بے مہر زبانیں بند ہوں گی پلکوں پہ نمی کا ذکر ہی کیا یادوں کا سراغ تک نہ ہوگا ہمواری ء ہر نفس سلامت دل پر کوی داغ تک نہ ہوگا پامالئ خواب کی کہانی کہنے کو چراغ تک نہ ہوگا معبود ! اس آخری سفر میں تنہائ کو سرخ رو...
Top