مصطفیٰ زیدی نظم - شہر جنوں میں چل - مصطفی زیدی

بنگش نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 23, 2008

  1. بنگش

    بنگش محفلین

    مراسلے:
    72
    شہر جنوں میں چل مری محرومیوں کی رات
    اس شہر میں جہاں ترے خوں سے حنا بنے
    یوں رائگاں نہ جائے تری آہِ نیم شب
    کچھ جنبشِ نسیم بنے کچھ دعا بنے
    اس رات دن کی گردشِ بے سود کے عوض
    کوئی عمودِ فکر کوئی زاویہ بنے
    اک سمت انتہائے افق سے نمود ہو
    اک گھر دیار دیدہ و دل سے جدا بنے
    اک داستانِ کرب کم آموز کی جگہ
    تیری ہزیمتوں سے کوئی واقعہ بنے
    تو ڈھونڈنے کو جائے تڑپنے کی لذتیں
    تجھ کو تلاش ہو کہ کوئی با وفا بنے
    وہ سر بہ خاک ہو تری چوکھٹ کے سامنے
    وہ مرحمت تلاش کرے تو خدا بنے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,833
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ بنگش! بہت خوبصورت نظم ہے-
     

اس صفحے کی تشہیر