یہ راکھ راکھ رتیں اپنی رات کی قسمت
تم اپنی نیند بچھاو تم اپنے خواب چنو
بکھرتی ڈوبتی نبضوں پہ دیہان کیا دینا
تم اپنےدل میں دھڑکتے ہوے حروف سنو
تمہارے شہر کی گلیوں میں سیل رنگ بخیر
تمہارے نقش قدم پھول پھول کھلتےر ہیں
وہ رہگزر جہاں تم لمحہ بھر ٹہر کے چلو
وہاں پہ ابر جھکیں آسماں ملتے رہیں...
:مجھے خبر تھی میرے بعد وہ بکھر جاتا
سو اس کو کس کے بھروسے پہ چھوڑ کر جاتا
وہ خوشبؤں میں گھرا تھا کہ مثل سایہء ابر
میان صحن چمن میں ادھر اّدھر جاتا
وہ کوئ نشہ نہیں تھا کہ ٹوٹتا مجھ میں
وہ سا نحہ بھی نہیں تھا کہ جو گزر جاتا
وہ خواب جیسا کوئ تھا نگار خانہ ء حسن
میں جتنا دیکھتا وہ اتناہی سنور جاتا...