اک دن جو بہرِ فاتحہ اک بنتِ مہر و ماہ
پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ
زُہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ
ہونٹوں پہ دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا اِلہ
برپا ضمیرِ زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں، دلوں میں لرزہ بر اندام ہو گیا
یوں آئی ہر نگاہ سے آوازِ الاماں
جیسے کوئی پہاڑ پہ آندھی میں دے آذاں
دھڑکے وہ دل کہ...