دیکھنا، جذبِ محبت کا اثر، آج کی رات
میرے شانے پہ ہے اُس شوخ کا سر آج کی رات
اور کیا چاہیے اب اے دلِ مجروح تجھے!
اس نے دیکھا تو بہ اندازِ دگر آج کی رات
پھول کیا، خار بھی ہیں آج گلستاں بکنار!
سنگ ریزے ہیں نگاہوں میں گہر آج کی رات
محوِ گلگشت ہے یہ کون مرے دوش بدوش
کہکشاں بن گئی ہر راہگذر آج...