غلاموں کی صفوں سے آ رہی ہیں کیسی آوازیں
کہ جیسے آج ہر اک تختِ شاہی کو گرا دیں گے
کہ جیسے ہر جلالِ بادشاہی کو گرا دیں گے
پریشاں ہو گئے آقا!
ابھی تو کچھ دیوں کی روشنی ہے آپ کی زد میں
ابھی تو کچھ اضافہ اور ہو گا آپ کے قد میں
ابھی تو کچھ اندھیرا اور بڑھنا ہے شبستاں میں
ابھی تازہ لہو کچھ اور...