نتائج تلاش

  1. کاشفی

    علی سردار جعفری اقبال خدا کے حضور میں - علی سردار جعفری

    اقبال خدا کے حضور میں (علی سردار جعفری) "اے انفس و آفاق میں‌پیدا ترے آیات حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تری ذات" برپا ہے ترے نام پہ دنیا میں‌قیامت ژولیدہ ہیں ارباب بصیرت کے خیالات ہے دھرم سیاست کے مداری کا تماشا مذہب کو بنا رکھا ہے یاروں نے خرافات سینوں میں نہیں اسم محمدصلی اللہ...
  2. کاشفی

    کراچی نہیں جاؤں گی

    اسرار الحق مجاز لکھنؤی مرحوم صاحب کی روح سے معذرت کے ساتھ۔۔۔۔ کراچی پاکستان یہ میرا چمن ہے ، میرا چمن ، میں اپنے چمن کا بلبل ہوں (کوئی مینا ہے۔۔۔؟) سر شار نگاہِ نرگس ہوں، پابستہء گیسوئے سنبل ہوں یہ میرا چمن ہے ، میرا چمن ، میں اپنے چمن کا بلبل ہوں جو طاق حرم میں روشن ہے، وہ شمع...
  3. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلا کریں یہ نظر تھی پہلے بھی مضطرب، یہ کسک تو دل میں‌کبھو کی ہے کفِ باغباں پہ بہار گل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر کہ ہر ایک پھول کے پیرہن میں نمود میرے لہو کی ہے
  4. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    آپ کی گزارش سر آنکھوں‌پر۔۔۔۔۔۔ لیکن انتظامیہ ہونے کے ناطہ آپ کوتمام پیغامات کو پڑھنا چاہیئے ۔۔۔کہ کس نے شروعات کی۔۔۔ اگر کوئی الطاف حسین صاحب کے بارے میں‌کچھ تہذیب کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے کچھ لکھے گا تو ان کے حق میں‌ضرور ہر جگہ ‌کچھ نہ کچھ لکھوں گا۔۔۔ آپ دوسروں کو سمجھائیں کہ وہ تعصب پسندی...
  5. کاشفی

    اشعار کے استعمال سے شعلہ بیاں‌مقرر بنیئے

    معزز خواتین آج سے کچھ عرصے پہلے جب میں‌کلاس ہشتم میں تھا۔۔۔۔۔ اس دوران اسکول میں ایک تقریری مقابلہ منعقد کیا گیا۔۔۔۔ جس کےخصوصی مہمانوں میں جرنل حمید گل اور نثار بزمی صاحب، جمیل الدین عالی، حسن اکبر کمال اور دیگر شامل تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری تقریر کا عنوان تھا علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمتہ...
  6. کاشفی

    بہاروں کو خزاں ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے - طاہرہ صفی

    غزل ( طاہرہ صفی) بہاروں کو خزاں ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے یقیں کو بھی گماں ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے اگر اس کی عنایت ہو، جو ہو اس کا کرم شامل تو ذرے کو جہاں ہونے میں‌کتنی دیر لگتی ہے ہوائیں رُخ بدل لیں تو بچیں گے آشیانے بھی کہ منظر کو دھواں ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے جہاں نیت بدل...
  7. کاشفی

    دل جلے جب بھی کہیں جاں سے گزر جائیں گے - قمر الزماں قمر

    غزل ( قمر الزماں قمر) دل جلے جب بھی کہیں جاں سے گزر جائیں گے دور تک درد کے انگارے بکھر جائیں گے تشنہ ہونٹوں کے لئے خون سے تر جائیں گے اس طرح عرش پہ یہ خاک بسر جائیں گے چاندنی دھوپ کی گرمی سے پگھل جائے گی رات کے خواب سحر ہوتے بکھر جائیں گے رشتہء جاں کو نہیں جنجر قاتل کی طلب چاہنے...
Top