غزل
(جناب بشیر احمد خان مرحوم تعلقہ دار ملیح آباد شاگرد حضرت جلال)
دمِ قتل انصاف فرما رہے ہیں
خطائیں مری مجھ کو گنوا رہے ہیں
سرِ بزم دشمن سے شرما رہے ہیں
نہیں کچھ تو یوں مجھ کو تڑپا رہے ہیں
وہ کہتے ہیں من پر گیا کس غضب میں
تسلی مجھے دے کے پچھتا رہے ہیں
اُمید وفا غیر سے توبہ توبہ
خدا جانے...
غزل
(جناب فضا بسوانی)
غول پریوں کے چلے آتے ہیں ویرانے میں
کون سی بات ہے ایسی ترے دیوانے میں
اور محفل میں مرے دل کی لگی بھڑکائی
کہہ کے بے درد نے، کیا سوز ہے پروانے میں
پاؤں رکھے وہ کہیں، دل پہ مرے پڑتا ہے
یہ قیامت کی ادا ہے ، مرے مستانے میں
دیکھ کر حُسن بتاں میں تو زخود رفتہ...
لطف ساقی سے جو محروم ہیں میخانے میں
آنکھ سے اشک ٹپک پڑتے ہیں پیمانے میں
چشم ساقی کی محبت نہیں چھپتی دل میں
بادہء تند ٹھہرتی نہیں پیمانے میں
(جناب خلیل بسوانی)