نتائج تلاش

  1. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    اُن کے دو مجھ سے کبوتر کے جو جوڑے اُڑ گئے تو یہ بولے کیا کیا ہے ہے نگوڑے اُڑ گئے (انشا اللہ خان انشا)
  2. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے (غالب رحمتہ اللہ علیہ)
  3. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں (غالب رحمتہ اللہ علیہ)
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دیدار عام کیجئے پردہ اُٹھائیے تاچند بندہ ہائے خدا آرزو کریں مستی میں مجھ سے بے ادبی ہوگی یار سے مجھ کو گناہگار نہ جام و سبو کریں (آتش)
  5. کاشفی

    مشاعرہ بے ادباء، محفل فورم کی سالگرہ کا ایک سپیشل آئٹم

    وہ ہمیں کافر کہتے ہیں تو کہتے رہیں کاشفی امی کہتی ہیں جو کہتا ہے وہ خود ہوتا ہے
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    خزاں تھی جب تلک مشہور تھے پرہیزگاروں میں بہار آتے ہی کیسے جا ملے ہم بادہ خواروں میں (اسیر)
  7. کاشفی

    اردو رباعیات

    دل میں ہوسِ درہم و دینار نہ رکھ خم پشت ہے عصیاں کا بہت بار نہ رکھ پیری میں سر اِس غرض سے ہلتا ہے صفی یعنی دنیا سے اب سروکار نہ رکھ (مولانا صفی لکھنوی)
  8. کاشفی

    اردو رباعیات

    جی بالکل صحیح، چیک کر لیا کرونگا۔ ای بُک، مشکل ہے۔
  9. کاشفی

    Pakistani- formal-wear -2010-designer special

    چشمِ بدور!
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    میں دیتا تھا دل جب کسی نے نہ روکا نہ دو جان اب لوگ سمجھا رہے ہیں (سخنورانِ باکمال جلال لکھنوی)
  11. کاشفی

    دمِ قتل انصاف فرما رہے ہیں - بشیر احمد خان مرحوم

    غزل (جناب بشیر احمد خان مرحوم تعلقہ دار ملیح آباد شاگرد حضرت جلال) دمِ قتل انصاف فرما رہے ہیں خطائیں مری مجھ کو گنوا رہے ہیں سرِ بزم دشمن سے شرما رہے ہیں نہیں کچھ تو یوں مجھ کو تڑپا رہے ہیں وہ کہتے ہیں من پر گیا کس غضب میں تسلی مجھے دے کے پچھتا رہے ہیں اُمید وفا غیر سے توبہ توبہ خدا جانے...
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    یہ انسان بن جائیں کچھ ساتھ رہ کر فرشتوں کو ہم راہ پر لا رہے ہیں (ریاض)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    انیس! دم کا بھروسہ نہیں ٹھر جاؤ چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے ( میر انیس)
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جان جب لی تھی حیا ان کو نہیں آئی تھی شرم آتی ہے اُنہیں قبر پر اب آنے میں (جناب ثمر بسوانی)
  15. کاشفی

    غول پریوں کے چلے آتے ہیں ویرانے میں - فضا بسوانی

    غزل (جناب فضا بسوانی) غول پریوں کے چلے آتے ہیں ویرانے میں کون سی بات ہے ایسی ترے دیوانے میں اور محفل میں مرے دل کی لگی بھڑکائی کہہ کے بے درد نے، کیا سوز ہے پروانے میں پاؤں رکھے وہ کہیں، دل پہ مرے پڑتا ہے یہ قیامت کی ادا ہے ، مرے مستانے میں دیکھ کر حُسن بتاں میں تو زخود رفتہ...
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جس طرح پردے سے باہر کوئی معشوق آئے اس طرح آتی ہے مے شیشے سے پیمانے میں (جناب قمر بسوانی)
  17. کاشفی

    اردو رباعیات

    لطف ساقی سے جو محروم ہیں میخانے میں آنکھ سے اشک ٹپک پڑتے ہیں پیمانے میں چشم ساقی کی محبت نہیں چھپتی دل میں بادہء تند ٹھہرتی نہیں پیمانے میں (جناب خلیل بسوانی)
  18. کاشفی

    قتیل شفائی تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے - قتیل شفائی

    واہ واہ ! بہت ہی خوب جناب سخنور صاحب۔!
  19. کاشفی

    مژدہ اے دل پھر ہوائے انقلاب آنے کو ہے - مولانا سید علی حیدر صاحب طبا طبائی

    جی بالکل جناب فاتح صاحب۔۔شریک محفل کرتا رہونگا۔۔ شکریہ بہت بہت۔
Top