آپ مذاق کررہے ہیں۔۔آپ کو، سخنور صاحب کو، وارث صاحب کو، اور دیگر ہستیوں کو سب مطلب معلوم ہے۔۔۔ مجھے تو شاعری کے بارے میں اگربتی کی روشنی کے برابر بھی علم نہیں۔۔اور آپ اور دیگر سخندانِ محفل تو شاعری کی دنیا میں آفتاب کے مانند ہیں۔۔ خواہ مخواہ تنگ کرتے ہیں ہمیں۔۔:)
شکریہ خوشی جی۔ شکریہ سخنور صاحب!
مکمل غزل!
غزل
(مُنشی سید ریاض احمد ، متخلص ریاض - خیر آبادی، شاعری کا وطن لکھنؤ)
بہار نام کی ہے، کام کی بہار نہیں
کہ دستِ شوق کسی کے گلے کا ہار نہیں
رہے گی یاد اُنہیں بھی ، مجھے بھی، وصل کی رات
کہ اُن سا شوخ نہیں، مجھ سا بیقرار نہیں
سحر بھی...
غزل
(ریاض خیر آبادی)
خیالِ شبِ غم سے گھبرا رہے ہیں
ہمیں دن کو تارے نظر آرہے ہیں
دم وعظ کیسے مزے میں ہیں واعظ
بھرے جام کوثر کے چھلکا رہے ہیں
لگا دو ذرا ہاتھ اپنی گلے میں
جنازہ لئے دل کا ہم جارہے ہیں
یہ اُلجھے ہیں رندوں سے کیا شیخ صاحب
بڑھاپے میں کیوں ڈاڑھی رنگوارہے ہیں...