نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    آنکھیں ساقی کی جب سے دیکھی ہیں ہم سے دو گھونٹ پی نہیں جاتی سُن لیا جان نے یہ کیا دمِ نزع کہتی ہے میں ابھی نہیں جاتی (جلیل)
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کوئی ایسی بھی ہے صورت ترے صدقے ساقی رکھ لوں میں دل میں اُٹھا کر ترے مےخانے کو (جلیل)
  3. کاشفی

    دمِ قتل انصاف فرما رہے ہیں - بشیر احمد خان مرحوم

    آپ مذاق کررہے ہیں۔۔آپ کو، سخنور صاحب کو، وارث صاحب کو، اور دیگر ہستیوں کو سب مطلب معلوم ہے۔۔۔ مجھے تو شاعری کے بارے میں اگربتی کی روشنی کے برابر بھی علم نہیں۔۔اور آپ اور دیگر سخندانِ محفل تو شاعری کی دنیا میں آفتاب کے مانند ہیں۔۔ خواہ مخواہ تنگ کرتے ہیں ہمیں۔۔:)
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    میں اپنے آپ کو بے اختیار ہی کہہ دوں خدا گواہ ہے اتنا بھی اختیار نہیں (جلیل)
  5. کاشفی

    مژدہ اے دل پھر ہوائے انقلاب آنے کو ہے - مولانا سید علی حیدر صاحب طبا طبائی

    شکریہ جناب فاتح الدین بشیر صاحب! جیتے رہیں۔ خوش رہیں۔
  6. کاشفی

    غول پریوں کے چلے آتے ہیں ویرانے میں - فضا بسوانی

    شکریہ سخنور صاحب! شکریہ رانا صاحب! شکریہ بہنا عائشہ عزیز !
  7. کاشفی

    دمِ قتل انصاف فرما رہے ہیں - بشیر احمد خان مرحوم

    شکریہ جناب سید محمد نقوی صاحب!
  8. کاشفی

    دمِ قتل انصاف فرما رہے ہیں - بشیر احمد خان مرحوم

    شکریہ فاتح صاحب! فاتح صاحب ! مطلب تو مجھے خود بھی سمجھ میں نہیں آیا۔آپ سمجھائیں پلیز۔
  9. کاشفی

    دمِ قتل انصاف فرما رہے ہیں - بشیر احمد خان مرحوم

    شکریہ جناب سخنور صاحب!
  10. کاشفی

    بہار نام کی ہے، کام کی بہار نہیں - ریاض خیر آبادی

    شکریہ خوشی جی۔ شکریہ سخنور صاحب! مکمل غزل! غزل (مُنشی سید ریاض احمد ، متخلص ریاض - خیر آبادی، شاعری کا وطن لکھنؤ) بہار نام کی ہے، کام کی بہار نہیں کہ دستِ شوق کسی کے گلے کا ہار نہیں رہے گی یاد اُنہیں بھی ، مجھے بھی، وصل کی رات کہ اُن سا شوخ نہیں، مجھ سا بیقرار نہیں سحر بھی...
  11. کاشفی

    خیالِ شبِ غم سے گھبرا رہے ہیں - ریاض خیر آبادی

    شکریہ جناب سخنور صاحب!
  12. کاشفی

    خیالِ شبِ غم سے گھبرا رہے ہیں - ریاض خیر آبادی

    غزل (ریاض خیر آبادی) خیالِ شبِ غم سے گھبرا رہے ہیں ہمیں دن کو تارے نظر آرہے ہیں دم وعظ کیسے مزے میں ہیں واعظ بھرے جام کوثر کے چھلکا رہے ہیں لگا دو ذرا ہاتھ اپنی گلے میں جنازہ لئے دل کا ہم جارہے ہیں یہ اُلجھے ہیں رندوں سے کیا شیخ صاحب بڑھاپے میں کیوں ڈاڑھی رنگوارہے ہیں...
  13. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    یہ کیا مذاق فرشتوں کو آج سوجھا ہے ہجوم حشر میں لے آئے ہیں پلا کے مجھے تما م عمر کے شکوے مٹائے جاتے ہیں وہ دیکھتے ہیں دم نزاع مسکرا کے مجھے (ریاض)
  14. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    ہے ریاض اک جوان مست خرام نہ پئے اور جھومتا جائے! (ریاض)
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اس قدر مشتاق ہوں زاہد خدا کے نور کا بُت بھی بنوایا کبھی میں نے تو سنگ طور کا (امیر مینائی)
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    مشتاق اس قدر ہوں خدا کے حضور کا سجدہ کروں جو بت بھی ملے سنگ طور کا (آتش)
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا موسٰی نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا (سودا)
  18. کاشفی

    غزل-لمحہ لمحہ سلگتی ہوئی زندگی کی مسلسل قیامت میں ہیں! -ڈاکٹر فریاد آذر

    عمدہ انتخاب ہے جناب پیاسا صحرا صاحب! بیحد شکریہ شریک محفل کرنے کے لیئے۔
  19. کاشفی

    کلاسیکی شعرا کے کلام سے انتخاب

    غنچہء گُل کی صبا گود بھری جاتی ہے اک پری آتی ہے اور ایک پری جاتی ہے (انشا اللہ خان انشا)
Top