غزل
(پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی)
دل ہی بجھا ہوا ہو تو لطفِ بہار کیا
ساقی ہے کیا ، شراب ہے کیا، سبزہ زار کیا
یہ دل کی تازگی ہے ، وہ دل کی فسردگی
اس گلشن ِ جہاں کی خزاں کیا بہار کیا
کس کے فسونِ حسن کا دنیا طلسم ہے
ہیں لوح آسماں پہ یہ نقش و نگار کیا
اپنا نفس ہوا ہے گلوگیر وقت...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
طرزِ دیوانگی نہیں جاتی
ہوش کی لوں تو، لی نہیں جاتی
خلشِ عاشقی نہیں جاتی
نہیں جاتی ، کبھی نہیں جاتی
بات پُوری کرو ، تمہاری بات
بیچ میں سے تو، لی نہیں جاتی
کیوں کیئے تھے ستم جو کہتے ہو
یہ دُوہائی سُنی نہیں جاتی
دیکھ اُس چشمِ مست کو زاہد...
شکریہ جناب سخنور صاحب! جناب عالی! آپ کو ، فاتح صاحب کو ، وارث صاحب کو ، م م مغل صاحب کو اور احمد بھائی کو کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔۔ بلکہ آپ مجھے آپ سب کی سنگت میں رہنے کی اجازت عنایت فرمائیں۔یعنی اپنا اپنا فیس بک ایڈریس عنایت فرمائیں۔خوشی ہوگی مجھے۔
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
مجھ کو عشقِ زلفِ عنبر فام ہے
صبحِ محشر بھی نظر میں شام ہے
عشق پر تکلیف کا الزام ہے
درد میرے واسطے آرام ہے
حُسن میں حور و پری کا نام ہے
آدمی کو آدمی سے کام ہے
بزم سے میرے اُٹھانے کے لیئے
پوچھتے ہیں آپ کو کچھ کام ہے
جس کے دل کو دیکھئے تیرا ہے...