داغ طرزِ دیوانگی نہیں جاتی - داغ دہلوی

کاشفی

محفلین
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)

طرزِ دیوانگی نہیں جاتی
ہوش کی لوں تو، لی نہیں جاتی

خلشِ عاشقی نہیں جاتی
نہیں جاتی ، کبھی نہیں جاتی

بات پُوری کرو ، تمہاری بات
بیچ میں سے تو، لی نہیں جاتی

کیوں کیئے تھے ستم جو کہتے ہو
یہ دُوہائی سُنی نہیں جاتی

دیکھ اُس چشمِ مست کو زاہد
تجھ سے اتنی بھی پی نہیں جاتی

بددعا سُن رہی ہے کیوں شب غم
سامنے سے چلی نہیں جاتی

اُڑتی رہتی ہے گو ہماری خاک
چھوڑ کر وہ گلی نہیں جاتی

وہ نہ جائیں عدو کے گھر جب بھی
بدگمانی مری نہیں جاتی

گرچہ بلبل ہزار نالاں ہو
گُل تر کی ہنسی نہیں جاتی

جلوہء یار سامنے ہے مگر
شوق کی بے خودی نہیں جاتی

دعوئے عشق پر وہ کہتے ہیں
یہ تعلّی سُنی نہیں جاتی

اَب وہ آتے ہیں آرزو میری
مر کے کمبخت جی نہیں جاتی

وقت آخر ہوا مگر اے داغ
ہوس زندگی نہیں جاتی
 
Top