غزل
(مولانا سید علی حیدر صاحب طبا طبائی نظم لکھنوی)
مژدہ اے دل پھر ہوائے انقلاب آنے کو ہے
دور گردوں ہو چُکا، دورِ شراب آنے کو ہے
حُسن کی آئینہ داری کو شباب آنے کو ہے
زلف میں بل گیسؤں میں پیچ و تاب آنے کو ہے
آنکھ میں تیری مروت بھول کر آتی نہیں
شرم سو سو بار آنے کو حجاب آنے کو ہے...
شامِ جوانی
لو آیا پیغام جوانی
لائی مژدہ شام جوانی
آئی رات مرادوں والی
بدلی صورت بھولی بھالی
تازہ اُمنگیں جوش پر آئیں
لاکھوں اُمیدیں لے کر آئیں
عمر نے مَل کے شباب کا غازہ
کر دیا حُسن کا گلشن تازہ
سبزہء خط بھی نمو پر آیا
سنبل تر لبِ جُو لہرایا
سُرخی لگی گالوں پہ چمکنے
رنگ...
غزل
(میر انیس)
گنہ کا بوجھ جو گردن پہ ہم اُٹھا کے چلے
خدا کے آگے خجالت سے سر جھکا کے چلے
کسی کا دل نہ کیا ہم نے پائمال کبھی
چلے جو راہ تو چیونٹی کو ہم بچا کے چلے
مقام یوں ہوا اس کارگاہء دنیا میں
کہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آکے چلے
طلب سے عار ہے اللہ کے فقیروں کو
کبھی جو...