کاشفی

محفلین
غزل
(پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی)

دل ہی بجھا ہوا ہو تو لطفِ بہار کیا
ساقی ہے کیا ، شراب ہے کیا، سبزہ زار کیا

یہ دل کی تازگی ہے ، وہ دل کی فسردگی
اس گلشن ِ جہاں کی خزاں کیا بہار کیا

کس کے فسونِ حسن کا دنیا طلسم ہے
ہیں لوح آسماں پہ یہ نقش و نگار کیا

اپنا نفس ہوا ہے گلوگیر وقت نزع
غیروں کا زندگی میں ہو پھر اعتبار کیا

دیکھا سرور بادہء ہستی کا خاتمہ
اب دیکھیں رنگ لائے اجل کا خمار کیا

اب کے تو شام غم کی سیاہی کچھ اور ہے
منظور ہے تجھے مرے پروردگار کیا

دنیا سے لے چلا ہے جو تو حسرتوں کا بوجھ
کافی نہیں ہے سر پہ گناہوں کا بار کیا

جس کی قفس میں آنکھ کھلی ہو مری طرح
اُس کے لئے چمن کی خزاں کیا بہار کیا

کیسا ہوائے حرص میں برباد ہے بشر
سمجھا ہے زندگی کو یہ مشت غبار کیا

خلعت کفن کا ہم تو زمانے سے لے چُکے
اب ہے عروس مرگ تجھے انتظار کیا

بعد فنا فضول ہے نام و نشاں کی فکر
جب ہم نہیں رہے تو رہے گا مزار کیا

اعمال کا طلسم ہے نیرنگ زندگی
تقدیر کیا ہے گردش لیل و نہار کیا

چلتی ہے اس چمن میں ہوا انقلاب کی
شبنم کو آئے دامن گل میں قرار کیا

تفسیر حال زار ہے بس اک نگاہ یاس
ہو داستان ِ درد کا اور اختصار کیا

دونوں کو ایک خاک سے نشوونما ملی
لیکن ہوائے دہر سے گل کیا ہے خار کیا

چھٹکی ہوئی ہے گورغریباں پہ چاندنی
ہے بیکسوں کو فکر چراغ مزار کیا

کچھ گل نہاں ہیں پردہء خاک چمن میں بھی
تازہ کرے گی ان کو ہوائے بہار کیا

راحت طلب کو درد کی لذت نہیں نصیب
تلوؤں میں آبلے جو نہیں لطف خار کیا

خاک وطن میں دامن مادر کا چین ہے
تنگی کنار کی ہے لحد کا فشار کیا

انساں کے بغض جہل سے دنیا تباہ ہے
طوفاں اُٹھا رہا ہے یہ مشت غبار کیا
 
پاس دل پاس وفا جذبہ ایمان ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انسان ہونا
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے ان ہی اجزاء کا پریشان ہونا
میں نے سنا ہے کہ یہ اشعار بھی پنڈت کے نارائن کے ہیں کیا واقعی ایسا ہی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 

فاتح

لائبریرین
واہ کاشفی صاحب۔ سبحان اللہ! ہمیشہ کی طرح عمدہ انتخاب ہے۔ بہت شکریہ!

عظیم اللہ صاحب، آپ نے جن دو اشعار کے متعلق پوچھا ہے وہ بھی چکبست ہی کے ہیں لیکن درج ذیل املا کے ساتھ یعنی
پاسِ دل، پاسِ وفا، جذبۂ ایماں ہونا
آدمیّت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

نو گرفتار ِ بلا طرزِ فغاں کیا جانے
کوئی ناشاد سکھا دے انھیں نالاں ہونا

زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انھی اجزا کا پریشاں ہونا
 

کاشفی

محفلین
واہ کاشفی صاحب۔ سبحان اللہ! ہمیشہ کی طرح عمدہ انتخاب ہے۔ بہت شکریہ!

عظیم اللہ صاحب، آپ نے جن دو اشعار کے متعلق پوچھا ہے وہ بھی چکبست ہی کے ہیں لیکن درج ذیل املا کے ساتھ یعنی
پاسِ دل، پاسِ وفا، جذبۂ ایماں ہونا
آدمیّت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

نو گرفتار ِ بلا طرزِ فغاں کیا جانے
کوئی ناشاد سکھا دے انھیں نالاں ہونا

زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انھی اجزا کا پریشاں ہونا

بہت بہت شکریہ جناب فاتح صاحب! خوش و خرم رہیں۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
دل ہی بجھا ہوا ہو تو لطفِ بہار کیا
ساقی ہے کیا ، شراب ہے کیا، سبزہ زار کیا


یہ دل کی تازگی ہے ، وہ دل کی فسردگی
اس گلشن ِ جہاں کی خزاں کیا بہار کیا

کس کے فسونِ حسن کا دنیا طلسم ہے
ہیں لوح آسماں پہ یہ نقش و نگار کیا

اپنا نفس ہوا ہے گلوگیر وقتِ نزع
غیروں کا زندگی میں ہو پھر اعتبار کیا

دیکھا سرور بادہء ہستی کا خاتمہ
اب دیکھیں رنگ لائے اجل کا خمار کیا

اب کے تو شامِ غم کی سیاہی کچھ اور ہے
منظور ہے تجھے مرے پروردگار کیا

دنیا سے لے چلا ہے جو تو حسرتوں کا بوجھ
کافی نہیں ہے سر پہ گناہوں کا بار کیا

جس کی قفس میں آنکھ کھلی ہو مری طرح
اُس کے لیے چمن کی خزاں کیا بہار کیا

کیسا ہوائے حرص میں برباد ہے بشر
سمجھا ہے زندگی کو یہ مشتِ غبار کیا

خلعت کفن کا ہم تو زمانے سے لے چُکے
اب ہے عروسِ مرگ تجھے انتظار کیا

بعدِ فنا فضول ہے نام و نشاں کی فکر
جب ہم نہیں رہے تو رہے گا مزار کیا

اعمال کا طلسم ہے نیرنگِ زندگی
تقدیر کیا ہے گردشِ لیل و نہار کیا

چلتی ہے اس چمن میں ہوا انقلاب کی
شبنم کو آئے دامنِ گل میں قرار کیا

تفسیرِ حال زار ہے بس اک نگاہِ یاس
ہو داستان ِ درد کا اور اختصار کیا

دونوں کو ایک خاک سے نشوونما ملی
لیکن ہوائے دہر سے گل کیا ہے خار کیا

چھٹکی ہوئی ہے گورِ غریباں پہ چاندنی
ہے بیکسوں کو فکرِ چراغِ مزار کیا

کچھ گل نہاں ہیں پردہء خاکِ چمن میں بھی
تازہ کرے گی ان کو ہوائے بہار کیا

راحت طلب کو درد کی لذت نہیں نصیب
تلووں میں آبلے جو نہیں لطفِ خار کیا

خاکِ وطن میں دامنِ مادر کا چین ہے
تنگی کنار کی ہے لحد کا فشار کیا

انساں کے بغضِ جہل سے دنیا تباہ ہے
طوفاں اُٹھا رہا ہے یہ مشتِ غبار کیا

پنڈت برج نارائن چکبست۔
 

فاتح

لائبریرین
واہ کیا خوب انتخاب ہے۔ شکریہ۔ اگر ہو سکے تو چکبست کا مزید کلام بھی شیئر کیجیے
 
غزل
(پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی)
دل ہی بجھا ہوا ہو تو لطفِ بہار کیا
ساقی ہے کیا ، شراب ہے کیا، سبزہ زار کیا
یہ دل کی تازگی ہے ، وہ دل کی فسردگی
اس گلشن ِ جہاں کی خزاں کیا بہار کیا
کس کے فسونِ حسن کا دنیا طلسم ہے
ہیں لوح آسماں پہ یہ نقش و نگار کیا
اپنا نفس ہوا ہے گلوگیر وقت نزع
غیروں کا زندگی میں ہو پھر اعتبار کیا
دیکھا سرور بادہء ہستی کا خاتمہ
اب دیکھیں رنگ لائے اجل کا خمار کیا
اب کے تو شام غم کی سیاہی کچھ اور ہے
منظور ہے تجھے مرے پروردگار کیا
دنیا سے لے چلا ہے جو تو حسرتوں کا بوجھ
کافی نہیں ہے سر پہ گناہوں کا بار کیا
جس کی قفس میں آنکھ کھلی ہو مری طرح
اُس کے لئے چمن کی خزاں کیا بہار کیا
کیسا ہوائے حرص میں برباد ہے بشر
سمجھا ہے زندگی کو یہ مشت غبار کیا
خلعت کفن کا ہم تو زمانے سے لے چُکے
اب ہے عروس مرگ تجھے انتظار کیا
بعد فنا فضول ہے نام و نشاں کی فکر
جب ہم نہیں رہے تو رہے گا مزار کیا
اعمال کا طلسم ہے نیرنگ زندگی
تقدیر کیا ہے گردش لیل و نہار کیا
چلتی ہے اس چمن میں ہوا انقلاب کی
شبنم کو آئے دامن گل میں قرار کیا
تفسیر حال زار ہے بس اک نگاہ یاس
ہو داستان ِ درد کا اور اختصار کیا
دونوں کو ایک خاک سے نشوونما ملی
لیکن ہوائے دہر سے گل کیا ہے خار کیا
چھٹکی ہوئی ہے گورغریباں پہ چاندنی
ہے بیکسوں کو فکر چراغ مزار کیا
کچھ گل نہاں ہیں پردہء خاک چمن میں بھی
تازہ کرے گی ان کو ہوائے بہار کیا
راحت طلب کو درد کی لذت نہیں نصیب
تلوؤں میں آبلے جو نہیں لطف خار کیا
خاک وطن میں دامن مادر کا چین ہے
تنگی کنار کی ہے لحد کا فشار کیا
انساں کے بغض جہل سے دنیا تباہ ہے
طوفاں اُٹھا رہا ہے یہ مشت غبار کیا
زبردست انتخاب
چکبست بہت صاحبِ طرز شاعر تھے
ان کا یہ شعر تو ضرب المثل ہے

زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انھی اجزا کا پریشاں ہونا

شادو آباد رہیں
 

کاشفی

محفلین
زبردست انتخاب
چکبست بہت صاحبِ طرز شاعر تھے
ان کا یہ شعر تو ضرب المثل ہے

زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، انھی اجزا کا پریشاں ہونا

شادو آباد رہیں
شکریہ سید شہزار ناصر صاحب!
خوش و خرم رہیئے۔۔
 
Top