وُہ
(احسان بن دانش)
وہ علم میں جس کے اول سے ہر راز ِنہانِ ہستی ہے
وہ جس کے اشاروں پر رقصاں عالم کی بلندی پستی ہے
وہ جس کی نظر کے تاروں سے وحشی کا گریباں سلتا ہے
وہ جس کے تجلی خانے سے خورشید کو جلوہ ملتا ہے
وہ جس کا وظیفہ کرتے ہیں کُہسار کے بیخود نظارے
وہ جس کی لگن میں تر رہتے ہیں...
غزل
(شاد عارفی)
دُنیا کی اب حالت یہ ہے دنیا کے یہ نقشے ہیں
اپنا جن کو کہتے ہیں ہم دشمن اُن سے اچھے ہیں
میرے حال پہ ہنسنے والو! مانگو مستقبل کی خیر
مجبوروں پر ہنسنے والے اکثر روتے دیکھے ہیں
آپ کو میرے صحرا کے کانٹو ں پر بستر کا کیا درد
آپ تو پھولوں کے دامن میں نکہت بن کر سوتے ہیں...
غزل
(یاس)
نگاہ لطف گر اے ساقیء مے خانہ ہو جائے
میں بن جاؤں شرابِ ناب، دل پیمانہ ہو جائے
دلِ مضطر پہ رحم آتا ہے اور ہوتی ہے وحشت بھی
کہیں رسوا نہ کردے اور خود رسوا نہ ہو جائے
کروں ایجاد وہ رنگِ محبت بزم دنیا میں
طریقِ راہ و رسم قیس اک افسانہ ہو جائے
مری مٹی میں اک برقِ تپاں ہے...
چاند اور ہم
(افسر میرٹھی)
چاندنی افسردہ بھی ہے زرد بھی
چھَن رہا ہے ہلکا ہلکا درد بھی
دل کی دھڑکن گویا دل کو چھوڑ کر
منتشر ہے چاندنی کے فرش پر
کچھ پریشانی ہے ایسی ماہ میں
جیسے کھو جائے مسافر راہ میں
چاندنی میں کوئی شے بیتاب ہے
حسن کا شاید پریشاں خواب ہے
چاند ہے اشکوں سے منہ...
غزل
(وحشت کلکتوی)
ہوسِ سُود میں سودائے زیاں کرتا ہوں
جو مجھے چاہئے کرنا وہ کہاں کرتا ہوں
دل پھُنکا جاتا ہے پر آہ کہاں کرتا ہوں
کس قدر پاس ترا سوزِ نہاں کرتا ہوں
حال دل کچھ تو نگاہوں سے عیاں کرتا ہوں
اور کچھ طرزِ خموشی سے بیاں کرتا ہوں
شغلِ اُلفت میں کوئی دم بھی نہیں ہے بیکار
اور جب کچھ...