نتائج تلاش

  1. کاشفی

    وُہ - احسان بن دانش

    وُہ (احسان بن دانش) وہ علم میں جس کے اول سے ہر راز ِنہانِ ہستی ہے وہ جس کے اشاروں پر رقصاں عالم کی بلندی پستی ہے وہ جس کی نظر کے تاروں سے وحشی کا گریباں سلتا ہے وہ جس کے تجلی خانے سے خورشید کو جلوہ ملتا ہے وہ جس کا وظیفہ کرتے ہیں کُہسار کے بیخود نظارے وہ جس کی لگن میں تر رہتے ہیں...
  2. کاشفی

    غزل: دُنیا کی اب حالت یہ ہے دنیا کے یہ نقشے ہیں : از : شاد عارفیؔ

    شکریہ جناب فاتح صاحب! خوش و خرم رہیں۔۔ مزے لیتے رہیں۔
  3. کاشفی

    غزل: دُنیا کی اب حالت یہ ہے دنیا کے یہ نقشے ہیں : از : شاد عارفیؔ

    غزل (شاد عارفی) دُنیا کی اب حالت یہ ہے دنیا کے یہ نقشے ہیں اپنا جن کو کہتے ہیں ہم دشمن اُن سے اچھے ہیں میرے حال پہ ہنسنے والو! مانگو مستقبل کی خیر مجبوروں پر ہنسنے والے اکثر روتے دیکھے ہیں آپ کو میرے صحرا کے کانٹو ں پر بستر کا کیا درد آپ تو پھولوں کے دامن میں نکہت بن کر سوتے ہیں...
  4. کاشفی

    یاس نگاہ لطف گر اے ساقیء مے خانہ ہو جائے - یاس یگانہ چنگیزی

    شکریہ فاتح صاحب! شکریہ سخنور صاحب!
  5. کاشفی

    چاند اور ہم - افسر میرٹھی

    شکریہ فاتح صاحب!
  6. کاشفی

    چاند اور ہم - افسر میرٹھی

    شکریہ سخنور صاحب! شکریہ بہنا عائشہ عزیز صاحبہ!
  7. کاشفی

    یاس نگاہ لطف گر اے ساقیء مے خانہ ہو جائے - یاس یگانہ چنگیزی

    غزل (یاس) نگاہ لطف گر اے ساقیء مے خانہ ہو جائے میں بن جاؤں شرابِ ناب، دل پیمانہ ہو جائے دلِ مضطر پہ رحم آتا ہے اور ہوتی ہے وحشت بھی کہیں رسوا نہ کردے اور خود رسوا نہ ہو جائے کروں ایجاد وہ رنگِ محبت بزم دنیا میں طریقِ راہ و رسم قیس اک افسانہ ہو جائے مری مٹی میں اک برقِ تپاں ہے...
  8. کاشفی

    چاند اور ہم - افسر میرٹھی

    چاند اور ہم (افسر میرٹھی) چاندنی افسردہ بھی ہے زرد بھی چھَن رہا ہے ہلکا ہلکا درد بھی دل کی دھڑکن گویا دل کو چھوڑ کر منتشر ہے چاندنی کے فرش پر کچھ پریشانی ہے ایسی ماہ میں جیسے کھو جائے مسافر راہ میں چاندنی میں کوئی شے بیتاب ہے حسن کا شاید پریشاں خواب ہے چاند ہے اشکوں سے منہ...
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    میں اپنے ہوش میں اے فتنہ گر نہیں نہ سہی تری خبر تو ہے، اپنی خبر نہیں نہ سہی (شاعر: آئی ڈونٹ نَو)
  10. کاشفی

    درود بر حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - 25

    اللھم صل علٰی محمد و علٰی آل محمد
  11. کاشفی

    ہوسِ سُود میں سودائے زیاں کرتا ہوں - وحشت کلکتوی

    غزل (وحشت کلکتوی) ہوسِ سُود میں سودائے زیاں کرتا ہوں جو مجھے چاہئے کرنا وہ کہاں کرتا ہوں دل پھُنکا جاتا ہے پر آہ کہاں کرتا ہوں کس قدر پاس ترا سوزِ نہاں کرتا ہوں حال دل کچھ تو نگاہوں سے عیاں کرتا ہوں اور کچھ طرزِ خموشی سے بیاں کرتا ہوں شغلِ اُلفت میں کوئی دم بھی نہیں ہے بیکار اور جب کچھ...
  12. کاشفی

    بیت بازی سے لطف اٹھائیں (3)

    یہ بھی اک تماشہ ہے کار زار الفت میں دل کسی کا ہوتا ہے بس کسی کا چلتا ہے (شاعر: آئی ڈونٹ نو)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    وفا کا نقش ہے وہ نقش جو مٹ کر اُبھرتا ہے جنہیں دل سے بھلا دو گے وہ پیہم یاد آئینگے (شاعر: آئی ڈونٹ نَو)
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جانتے ہیں تجھے ہم روزِ ازل سے لیکن یہ نہیں جانتے کیوں کر تجھے ہم جانتے ہیں (شاعر: آئی ڈونٹ نَو)
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    میں عکس ہوں آئینہ امکاں میں تمہارا تم سا جو نہیں کوئی تو مجھ سا بھی نہیں اور (شاعر: آئی ڈونٹ نَو)
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اے ہوش تجھ کو آنے سے میں روکتا نہیں ساقی کو تیرے آنے کی لیکن خبر نہ ہو (شاعر: آئی ڈونٹ نَو)
  17. کاشفی

    ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کو ۔ شبلی نعمانی

    :) ۔۔خوش رہیں سخنور صاحب!
  18. کاشفی

    بیت بازی سے لطف اٹھائیں (3)

    یہ انسان بن جائیں کچھ ساتھ رہ کر فرشتوں کو ہم راہ پر لا رہے ہیں (ریاض)
Top