خدا کا نوشتہ
خدا نے لکھ دیا ہے
اُس پھولو ں پر جو ہوا کو خوشبو کی دلاویزی دیتا ہے
اُس باد سحر پر جو پھولوں کی لدی ہوئی شاخ کو ٹہوکے دیتی ہے
اُس قطرہء باراں پر جو سیپ کے سینے پر مچل کر موتی بنتا ہے
اُس گوہر شبنم پر جو گھاس کی پتی پر تھرکتا ہے
اُس چادرِ آب پر جو شعاع کی جھلمل جھلمل سے چمکتی ہے
اُس...