نتائج تلاش

  1. کاشفی

    اردو رباعیات

    ملتاہوں تو سر پہلے جھکا لیتا ہوں پھر فرشِ دل و چشم بچھا لیتا ہوں کچھ ایسی ہے افتادِ طبیعت اپنی دشمن کو بھی میں دوست بنا لیتا ہوں (نجم ندوی)
  2. کاشفی

    اردو رباعیات

    میں آج کل کافی غلطیاں کر رہا ہوں۔۔سوری۔
  3. کاشفی

    پانچویں سالگرہ نتیجہ رائے شماری محفل ایوارڈ 2010

    تمام ارکانِ محفل کو مبارکباد ۔۔ خوش رہیں۔
  4. کاشفی

    اردو رباعیات

    دیکھوں گا جسے اب اُسے چاہا نہ کروں گا میں عشق ِوفادار کو رسوا نہ کروں گا دنیا میں کسی اور سے اظہارِ محبت تیرے لیئے اے جانِ تمنا! نہ کروں گا (حفیظ ہوشیارپوری)
  5. کاشفی

    جانتے ہیں، قادرِ ہر کار تم، بیکار ہم - حکیم آزاد انصاری

    غزل (حکیم آزاد انصاری) جانتے ہیں، قادرِ ہر کار تم، بیکار ہم مانتے ہیں، فاضلِ مختار تم، ناچار ہم اب ہمیں جب دیکھئے، ہم شاغلِ تسبیحِ دوست اب ہمیں جب پوچھئے، محوِ خیالِ یار ہم حُسن کی اقلیم کے مغرور شاہنشاہ تم عشق کی سرکار کے بدبخت خدمتگار ہم آج فرصت مل چکی ہے آرزوئے زیست سے آج...
  6. کاشفی

    فلسطینی شاعرسمیع القاسم کی ایک نظم

    عمدہ انتخاب ہے۔!
  7. کاشفی

    منیر نیازی تھی جس کی جستو وہ حقیقت نہیں ملی ( منیر نیازی )

    عمدہ انتخاب ہے جناب۔شکریہ شیئر کرنے کے لیئے۔
  8. کاشفی

    حفیظ ہوشیارپوری غم سے گر آزاد کرو گے - حفیظ ہوشیار پوری

    بہت خوب جناب۔۔ اور غزل کی پسندیدگی کے لیئے بھی شکریہ۔۔
  9. کاشفی

    اردو نثر پارے

    خدا کا نوشتہ خدا نے لکھ دیا ہے اُس پھولو ں پر جو ہوا کو خوشبو کی دلاویزی دیتا ہے اُس باد سحر پر جو پھولوں کی لدی ہوئی شاخ کو ٹہوکے دیتی ہے اُس قطرہء باراں پر جو سیپ کے سینے پر مچل کر موتی بنتا ہے اُس گوہر شبنم پر جو گھاس کی پتی پر تھرکتا ہے اُس چادرِ آب پر جو شعاع کی جھلمل جھلمل سے چمکتی ہے اُس...
  10. کاشفی

    حفیظ ہوشیارپوری غم سے گر آزاد کرو گے - حفیظ ہوشیار پوری

    غزل (حفیظ ہوشیار پوری) غم سے گر آزاد کرو گے اور مجھے ناشاد کرو گے تم سے اور اُمید وفا کی؟ تم اور مجھ کو یاد کرو گے؟ ویراں ہے آغوشِ محبت کب اس کو آباد کرو گے؟ عہدِ وفا کو بھولنے والو تم کیا مجھ کو یاد کرو گے آخر وہ ناشاد رہے گا تم جس دل کو شاد کرو گے میری وفائیں اپنی...
  11. کاشفی

    وُہ - احسان بن دانش

    بہت شکریہ بہنا۔۔خوش رہیں۔
  12. کاشفی

    ماہر القادری مجاز ہی کو حقیقت بنائے جاتے ہیں - ماہر القادری

    شکریہ جناب سخنور صاحب! شکریہ بہنا عائشہ عزیز صاحبہ!
  13. کاشفی

    نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے - رضا علی وحشت

    بہت شکریہ بہنا! خوش رہیں۔
  14. کاشفی

    ماہر القادری زمانے میں آرام و راحت کہاں ہے - ماہر القادری

    غزل (ماہرالقادری) زمانے میں آرام و راحت کہاں ہے یہاں آسماں ہے وہاں آسماں ہے میں قائل ہوں دیرو حرم کا بھی لیکن ترا آستاں پھر ترا آستاں ہے محبت کے رہرو کو تنہا نہ سمجھو طلب راہبر ہے ، جُنوں پاسپاں ہے زمانے کی سب راحتیں ہیں مُسلّم غموں سے مگر مجھ کو فرصت کہاں ہے قفس سے ہی اب...
  15. کاشفی

    ماہر القادری مجاز ہی کو حقیقت بنائے جاتے ہیں - ماہر القادری

    شکریہ بیحد جناب محمود احمد غزنوی صاحب!
  16. کاشفی

    نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے - رضا علی وحشت

    غزل (رضا علی وحشت) نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے دلِ فسردہ لئے جاتا ہے چمن سے مجھے مثالِ شمع ہے رونا بھی اور جلنا بھی یہی تو فائدہ ہے تیری انجمن سے مجھے بڑھی ہے یاس سے کچھ ایسی وحشتِ خاطر نکال کر ہی رہے گی یہ اب وطن سے مجھے عزیز اگر نہیں رکھتا نہ رکھ ذلیل ہی رکھ مگر نکال...
Top