غزل
(ماہرالقادری)
مجاز ہی کو حقیقت بنائے جاتے ہیں
وہ ہیں کہ سارے زمانے پہ چھائے جاتے ہیں
عجیب شان سے جلوے دکھائے جاتے ہیں
مجھ ہی سے چھپ کے، مجھ ہی میں سمائے جاتے ہیں
مشاہدات کی دُنیا بسائے جاتے ہیں
تحیّرات کے سکّے بٹھائے جاتے ہیں
تجلیوں کے فسانے سنائے جاتے ہیں
خموش ہیں وہ، مگر...
غزل
(حرماں خیر آبادی)
کاش کچھ بہتر ہو انجامِ سفر میرے لئے
رات دن گردش میں ہیں شمس و قمر میرے لئے
کیا یہی ہے حاصلِ لیل و نہارِ زندگی
شام سے اک کشمکش ہے تاسحر میرے لئے
آج کس رفعت پہ ہوں تیری نگاہِ لطف سے
سر بہ سجدہ ہو نہ جائیں بام و در میرے لئے
ایک نظارے نے اس کے دل کے ٹکڑے کر دیئے
آج قاتل...
نوائے فراق
(فراق گورکھپوری)
اُمید و یاس کے اب وہ پیام بھی تو نہیں
حیاتِ عشق کی وہ صبح و شام بھی تو نہیں
بس اک فریبِ نظر تھا جمال گیسو و رُخ
وہ صبح بھی تو نہیں اب وہ شام بھی تو نہیں
وفورِ سوزِ نہاں کا علاج کیوں کر ہو
جو لے سکے کوئی وہ تیرا نام بھی تو نہیں
انہیں محال ہے تمیزِ قیدو آزادی
کہ...
رہ جاؤ مری جاں مرے گھر رات کی رات
ہر روز کہاں آتی ہے برسات کی رات
یہ ابر بہاراں کا برسنا رم جھم،
یہ رُت ، یہ سماں، ہائے یہ برسات کی رات
(شاعر: آئی ڈونٹ نو)
غزل
(حفیظ ہوشیار پوری)
(مندرجہ ذیل اشعار مشفق محترم خان بہادر نواب احمد یار خاں صاحب دولتانہ کی ذات گرامی سے معنون کرتا ہوں کہ انہیں کا نام اس “قافیہ پیمائی “کا محرّک ہوا۔)
مجھے کس طرح یقیں ہو کہ بدل گیا زمانہ
وہی آہ صبحگاہی، وہی گریہء شبانہ
تب و تاب یک نفس تھا غمِ مستعارِ ہستی
غمِ عشق نے...
غزل
(منظور حسین ماہر القادری)
مآلِ گل کی خبر کو ششِ صبا معلوم
کلی کلی کو ہے گلشن کی انتہا معلوم
ہر اک قدم رہِ الفت میں ڈگمگاتا ہے
یہ ابتدا ہے تو پھر اس کی انتہا معلوم!
تجلیات کی اک رو میں بہ چلا ہے دل
نہ آرزو کی خبر ہے نہ مدعا معلوم
چلے ہیں اُس کے طلبگار سوئے دیر و حرم
جو...