غزل
(ساغر نظامی)
وہ میرا جانِ ہر محفل کہاں ہے
نگاہِ شوق کی منزل کہاں ہے
ستارو، تم نے دیکھا ہو تو لادو
مری اُمید کا حاصل کہاں ہے
مرا آنسو سہی انمول موتی
تمہارے ہار کے قابل کہاں ہے
تمہارا حُسن میرے دل کی منزل
تمہارے حُسن کی منزل کہاں ہے
ہے میخانہ حقیقت ہی حقیقت
یہاں بحثِ حق و باطل کہاں ہے
بہت بہت مبارک ہو محمد امین بھائی۔۔۔بہت خوشی ہوئی۔۔۔ ماشاء اللہ۔
ہر کنوارے کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ والدین سے بڑھ کر اس دنیا میں کچھ نہیں ہے۔۔۔ اس لیئے ۔۔جلدی سے شادی کر کے والدین بن جائیں۔
کیا کہیں اوروں کو یہ ایسے ہیں وہ ایسے ہیں
سچ جو پوچھو تو ہمیں کون بہت اچھے ہیں
جانتے ہیں کہ اجل سر پہ کھڑی ہے لیکن
محو ہیں انجمنِ دہر میں خوش بیٹھے ہیں
عقل حیران ہے پروانوں کی اس حالت پر
شمع کو حس نہیں یہ جان دئے دیتے ہیں
(اکبر الہ آبادی)
غزل
(اکبر الہ آبادی)
کچھ آج علاجِ دلِ بیمار تو کرلیں
اے جانِ جہاں، آؤ، ذرا پیار تو کرلیں
مُنہ ہم کو لگاتا ہی نہیں وہ بُتِ کافر
کہتا ہے یہ اللہ سے انکار تو کرلیں
سمجھے ہوئے ہیں کام نکلتا ہے جنوں سے
کچھ تجربہء سجہء و زنار تو کرلیں
سوجان سے ہو جاؤنگا راضی میں سزا پر
پہلے وہ مجھے اپنا گنہگار...
مسجدیں چھوڑ کے جا بیٹھے ہیں مے خانوں میں
واہ کیا جوشِ ترقی ہے مسلمانوں میں
شیخ جی آپ کو اللہ سلامت رکھے
آپ کا دم بھی غنیمت ہے مسلمانوں میں
نام اللہ و رسول اب تو میں کم سنتا ہوں
پہلے رائج تھے یہ الفاظ مسلمانوں میں
(اکبر الہ آبادی)
مذہب کا ہو کیونکر علم و عمل، دل ہی نہیں بھائی ایک طرف
کرکٹ کی کھلائی ایک طرف، کالج کی پڑھائی ایک طرف
کیا ذوقِ عبادت ہو اُن کو، جو مس کے لبوں کے شیدا ہیں
حلوائے بہشتی ایک طرف، ہوٹل کی مٹھائی ایک طرف
(اکبر الہ آبادی)
غزل
(اکبر الہ آبادی)
وقتِ طلوع دیکھا، وقتِ غروب دیکھا
اب فکرِ آخرت ہے، دنیا کو خوب دیکھا
اِس نے خدا کو مانا، وہ ہورہا بُتوں کا
یا اِس نے خوب سمجھا، یا اُس نےخوب دیکھا
نامِ خدا کو اکثر زیب زباں تو پایا
عشقِ بتاں کو لیکن نقشِ قلوب دیکھا
اوروں پہ معترض تھے، لیکن جو آنکھ کھولی
اپنے ہی دل کو...