نتائج تلاش

  1. کاشفی

    یادِ سلف - محروم

    یادِ سلف (محروم - 1910ء) شگفتہ لالہ و گل اب بھی ہوتی ہیں بہاروں میں وہی ہے لمبی لمبی دوب اب بھی سبزہ زاروں میں وہی اب ہے جو پہلے تھا ترنّم آبشاروں میں دکھاتی ہے کرشمے اب بھی قدرت کوہساروں میں نظارے ہیں وطن کے دلنشیں، جیسے کہ پہلے تھے مگر افسوس ہم ویسے نہیں جیسے کہ پہلے تھے نہ وہ دل ہے،...
  2. کاشفی

    مَے گسار شاعر کا ترانہ - عابد لاہوری

    مَے گسار شاعر کا ترانہ (عابد لاہوری) فلک پہ مہروماہ مِری محفلوں کے جام ہیں ستارے سب غلام ہیں کہ رقص میں دوام ہیں مناظرِ شب و سحر جو زندگی میں عام ہیں کئی ضیا پذیر ہیں، کئی سیاہ فام ہیں تمام پر جھلک رہا ہے اِک حجاب نور کا کوئی کہے کہ عکس ہے یہ جلوہ گاہ طور کا شراب دلگداز سے ہے گرمجوش...
  3. کاشفی

    اردو رباعیات

    کیا افسرِ جمشید ہے کیا دولت کَے بیکار ہے زرفشانیء حاتم طَے میں بادہ گسار ہوں مجھے کافی ہے یا ساغر ماہتاب یا ساغر مَے (عابد لاہوری)
  4. کاشفی

    اردو رباعیات

    پابندیء جان و دل ہے تدبیرِ حیات اللہ اللہ ری فکر توقیرِ حیات آغاز کی کچھ خبر نہ انجام کا علم کونین ہے پھر بھی محوِ تدبیرِ حیات (رواں)
  5. کاشفی

    شہنشاہ رباعیات امجد حیدرآبادی

    حالِ دلِ دردناک معلوم نہیں کیفیتِ روحِ پاک معلوم نہیں جھوٹی ہے تمام علم کی لاف زنی خاکی انسان کو خاک معلوم نہیں (ابولاعظم سید احمد حسین امجد حیدرآبادی)
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    اب عشق سے لَو لگائیں گے ہم اس درد کو دل بنائیں گے ہم روٹھے تو انہیں منائے گا کون وہ بگڑے تو کیا بنائیں گے ہم اب آپ بنیں گے اپنی دنیا دنیا تجھے بھول جائیں گے ہم (تاجور)
  7. کاشفی

    اردو رباعیات

    نیرنگی قدرت کے تماشے دیکھے کیا کیا تری صنعت کے تماشے دیکھے اک شکل کی لاکھوں میں نہیں دو شکلیں کثرت میں بھی وحدت کے تماشے دیکھے (عرش ملیح آبادی)
  8. کاشفی

    اردو رباعیات

    غافل یہ نشاطِ زندگانی کب تک ہنگامہء کیفِ نوجوانی کب تک اس شورشِ بیجا کی کوئی حد بھی ہے آخر کب تک یہ لن ترانی کب تک (عرش ملیح آبادی)
  9. کاشفی

    میر مہدی مجروح مانگیں نہ ہم بہشت، نہ ہو واں اگر شراب - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) مانگیں نہ ہم بہشت، نہ ہو واں اگر شراب دوزخ میں ڈال دیجئے، دیجئے مگر شراب زاہد کے بخت بد کی ہے خوبی، وگرنہ کیوں چھوڑے کوئی شراب کی اُمید پر شراب توبہ تو ہم نے کی ہے، پر اب تک یہ حال ہے پانی بھر آئے منہ میں، دکھا دیں اگر شراب گویا شراب ہی بھرا عمر کا قدح موت اُس کی...
  10. کاشفی

    میر مہدی مجروح نقص نکلیں گے ماہِ کامل میں - میر مہدی مجروح

    غزل کی پسندیدگی کے لیئے بیحد شکریہ محمد وارث صاحب!
  11. کاشفی

    میر مہدی مجروح نقص نکلیں گے ماہِ کامل میں - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) نقص نکلیں گے ماہِ کامل میں وہ اگر آگئے مقابل میں فرطِ شوخی سے وہ نظر نہ پڑے آئے بھی اور نہ آئے محفل میں ہو جو ہمّت تو سب کچھ آساں ہو دقتیں ہیں جو کارِ مشکل میں دیکھ کیفیت گدائے مغاں کشتیء مئے ہے دستِ سائل میں وہ اور آئیں مری عیادت کو یوں کہو یہ بھی آگئی دل میں...
  12. کاشفی

    میر مہدی مجروح میرے دل میں تو ہرزماں ہو تم - میر مہدی مجروح

    آپ کا بھی شکریہ محمد وارث صاحب!
  13. کاشفی

    میر مہدی مجروح میرے دل میں تو ہرزماں ہو تم - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) میرے دل میں تو ہرزماں ہو تم چشمِ ظاہر سے کیوں نہاں ہو تم بیوفائی کا عیب کیا ہے یہ تو سچ ہے کہ میری جاں ہو تم جب چلو ٹیڑہی کی چلتے ہو میرے حق میں تو آسماں ہو تم دل و دیں دونوں نذر کرتا ہوں ایسی چیزوں کے قدرداں ہو تم دیکھ غمگیں مجھے بگڑتے ہو پرلے درجے کے بدگماں ہو تم...
  14. کاشفی

    مبارکباد یومِ محبت (ویلنٹائن ڈے) مبارک

    ڈیڈیکیٹیڈ ٹو فاتح الدین بشیر بھائی۔ :) شیخ تم جانتے ہو کیا ہے عشق عشق بازوں کا پیشوا ہے عشق کوئی مجنوں ہے کوہکن کوئی خوب دُھومیں مچا رہا ہے عشق سرو و گل میں ہزار و قمری کو اپنے جلوے دکھا رہا ہے عشق کہیں بلبل، کہیں ہے پروانہ الغرض یہ کہ جابجا ہے عشق کوہ کا کام کاہ کرتی ہے قدرت اپنی...
  15. کاشفی

    تعارف میرا نام بہزاد حسن شہاب ہے

    السلام علیکم۔ اُردو محفل میں وش آتکے۔۔ آپ کے بارے میں جانکاری کر کے اچھا لگا۔۔ خوش رہیں۔۔
  16. کاشفی

    میر مہدی مجروح اُن آنکھوں نے ایسا جھکایا مجھے - میر مہدی مجروح

    غزل کی پسندیدگی کے لیئے بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔۔ برقیانے کی کوشش کررہا ہوں۔۔دعا کریں کہ اللہ رب العزت کاشفی کو کامیابی اور جزائے خیر عطا کرے۔۔۔۔آمین۔
  17. کاشفی

    میر مہدی مجروح اُن آنکھوں نے ایسا جھکایا مجھے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) اُن آنکھوں نے ایسا جھکایا مجھے کہ کچھ ہوش اپنا نہ آیا مجھے ہزار آفتوں میں پھنسایا مجھے بھلا آدمی کیوں بنایا مجھے نمود صور ہے بھی اور پھر نہیں یہ کیا خواب ہے جو دکھایا مجھے کوئی مجھ سی بھی جنسِ کاسد نہ ہو کہ جس نے لیا پھیر لایا مجھے نہیں بخل کچھ مبدع فیض میں توجہ کے...
  18. کاشفی

    دلِ اندوہگیں میں آج یہ پھر کس کی یاد آئی - جگن ناتھ آزاد

    غزل (جگن ناتھ آزاد) دلِ اندوہگیں میں آج یہ پھر کس کی یاد آئی کہ رخصت ہوگئے صبرو سکوں، تاب و توانائی خس و خاشاکِ گلشن میں یہ رعنائی یہ زیبائی چمن میں ہے کسی سحر آفریں کی کارفرمائی وہ گردوں پر گھٹا چھائی، پیامِ زندگی لائی فضا نے تازگی پائی، گلستاں میں بہار آئی کس کے حسنِ عالمگیر کے یہ سب...
Top