نتائج تلاش

  1. کاشفی

    زندگی - جلیل مانکپوری

    زندگی (جلیل - 1920) کیا کیا فریب دے کے ستاتی ہے زندگی ہر دم ہنسا ہنسا کے رُلاتی ہے زندگی بیزار کیسے کوئی بھلا اس سے ہوسکے انساں کو سو طرح لُبھاتی ہے زندگی روٹھے جو ایک دفعہ دل اس سے تو لاکھ بار دے کر فریب اس کو مناتی ہے زندگی آئے جو کوئی پاس تو کہتی ہے "دور ہو" اور دُور ہو تو پاس بُلاتی...
  2. کاشفی

    التجائے دید - عطاء اللہ کلیم

    التجائے دید (عطاء اللہ کلیم) کب تک یوں ہی مشقِ ستم و ناز کروگے کب تک نہ درِ لطف و کرم باز کروگے تم قہر کے پردے میں بھی ہو مائلِ الطاف ہم دیکھیں گے افشا جو نہ یہ راز کروگے تم حسن کے سلطاں ہو لگاؤ گے جسے ہاتھ گزراغ بھی ہے تم اسے شہباز کروگے یہ رسمِ وفا جس کو مٹاتے ہو جہاں سے تم آپ اسی رسم...
  3. کاشفی

    سگریٹ نوشی (تخلیقی / تحقیقی) کاموں میں معاون ہے

    اَیّو راما۔ واٹ از دِس :shocked: میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ سگریٹ نوشی اس کائنات کی بہترین تخلیق کو بگاڑنے اور اس میں خرابی پیدا کرنے میں معاون ہے۔تو میرے خیال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ سگریٹ نوشی (تخلیقی / تحقیقی) کاموں میں معاون ہو۔
  4. کاشفی

    خیال کے گلستاں میں جانِ حزیں کو جھُولا جھُلا رہا ہوں - اختر انصاری دہلوی

    غزل (اختر انصاری دہلوی) خیال کے گلستاں میں جانِ حزیں کو جھُولا جھُلا رہا ہوں بھری ہی رنج و محن سے دنیا، میں اس کو دل سے بُھلا رہا ہوں کبھی دلوں کو غم و مصیبت کے تذکروں سے رُلا رہا ہوں کبھی دماغوں کو عیش و عشرت کے قصّے کہہ کر سُلا رہا ہوں پھر آرزوؤں کی دلفریبی پہ جان دینے لگا ہوں، یعنی میں...
  5. کاشفی

    ہر وقت نوحہ خواں سی رہتی ہیں میری آنکھیں - اختر انصاری دہلوی

    غزل اختر انصاری دہلوی ہر وقت نوحہ خواں سی رہتی ہیں میری آنکھیں اِک دُکھ بھری کہانی کہتی ہیں میری آنکھیں عیش و طرب کے جلسے، درد و الم کے منظر، کیا کچھ نہ ہم نے دیکھا، کہتی ہیں میری آنکھیں جب سے دل و جگر کی ہمدرد بن گئی ہیں غمگینیوں میں ڈوبی رہتی ہیں میری آنکھیں لبریز ہو کے دل کا ساغر چھلک...
  6. کاشفی

    مطرب دل کی وہ تانیں کیا ہوئیں - اختر انصاری

    بہت خوب انتخاب ہے۔۔۔بہت عمدہ!
  7. کاشفی

    اُٹھائیں اگر آپ منہ سے نقاب - عابد لاہوری

    غزل (عابد لاہوری) اُٹھائیں اگر آپ منہ سے نقاب تو پھیکا پڑے چہرہء آفتاب بہت آستانوں پہ سجدے کیئے بہت کردیا میں نے رسوا شباب نہ کر ان سے ملنے کی اے دل ہوس کہاں خس ، کہاں شعلہء برق تاب وہ بہکی ہوئی چالِ بیباک و مست وہ مہکے ہوئے گیسوئے مشک ناب اُنہیں جب سے دیکھا ہے عابد نے یوں نہ آرام دن...
  8. کاشفی

    افتخار عارف رات دن خواب بنتی ہوئی زندگی

    بہت خوب زحال مرزا صاحب!
  9. کاشفی

    ماہر القادری تیغ پھر بے نیام ہو جائے - ماہر القادری

    شکریہ فاتح الدین بشیر صاحب! تدوین کی سہولت نہ ہونے کی وجہ کر غزل دوبارہ پیش کر رہا ہوں تصحیح کے ساتھ۔ غزل (ماہرالقادری) تیغ پھر بے نیام ہو جائے ہاں ذرا قتلِ عام ہو جائے دل کو کوہِ الم سے ٹکرادوں آج قِصّہ تمام ہوجائے تجھ پہ زاہد، خدا کرے کہ شراب خُلد میں بھی حرام ہو جائے تم کسی دن جھلک...
  10. کاشفی

    ماہر القادری وہ اگر بے نقاب ہوجائے - ماہر ا لقادری

    غزل کی پسندیدگی کے لیئے شکریہ پیاسا صحرا صاحب!
  11. کاشفی

    یادِ ایام - تابش صدیقی

    یادِ ایام (ایک چاندنی رات کا تصّور) سکوتِ شام تھا، ہم تم تھے، دریا کا کنارہ تھا جدا ہونے سے پہلے کس قدر دلکش نظارہ تھا کسی نے آسماں سے حُسن کے موتی بکھیرے تھے فضا میں قاف کی پریوں کے جلوؤں کے بسیرے تھے شباب و حُسن کی رنگینیاں تھیں جلوہ زا گویا فضا کا ذرّہ ذرّہ اک سراپا شعر تھا گویا شرابِ...
  12. کاشفی

    چھپائی ہیں جس نے میری آنکھیں، میں انگلیاں اُس کی جانتا ہوں - شاد عارفی

    محسن حجازی صاحب، زین صاحب، فرخ منظور صاحب، نایاب صاحب اور الف عین صاحب۔ آپ تمام احباب کا خوبصورت غزل پسند کرنے کے لیئے بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔ غزل (شاد عارفی - 1929) چھپائی ہیں جس نے میری آنکھیں، میں اُنگلیاں اُس کی جانتا ہوں مگر غلط نام لے کے دانستہ لطف اندوز ہو رہا ہوں فریبِ تخیل سے میں ایسے...
  13. کاشفی

    میر مہدی مجروح میری بدخوئی کے بہانے ہیں - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) میری بدخوئی کے بہانے ہیں رنگ کچھ اور اُن کو لانے ہیں رحم اے اضطراب رحم کہ آج اُن کو زخمِ جگر دکھانے ہیں کیسی نیند اور پاسباں کس کا یاں نہ آنے کے سب بہانے ہیں کر کے ایفائے عہد کا مذکور اپنے احساں اُنہیں جتانے ہیں اُس کی شوخی کی ہے کوئی حد بھی اک نہ آنے کے سَو بہانے...
  14. کاشفی

    معراج فیض آبادی: در و دیوار اگر تم ہو تو بنیاد ہیں ہم

    بہت عمدہ انتخاب ہے۔۔بہت خوب!
  15. کاشفی

    درد گھر تو دونوں پاس ہیں لیکن ملاقاتیں کہاں - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) گھر تو دونوں پاس ہیں لیکن ملاقاتیں کہاں آمدورفت آدمی کی ہے، پہ وہ باتیں کہاں ہم فقیروں کی طرف بھی تو نگاہیں دم بدم پھینکتے جاتے تھے آپ آگے، وہ خیراتیں کہاں بعد مرنے کے مرے ہوگی مرے رونے کی قدر تب کہا کیجے گا لوگوں سے وہ برساتیں کہاں یوں تو ہے دن رات میرے دل میں اس کا...
  16. کاشفی

    تاسف ام حجاب کی رحلت

    انا للہ و انا الیہ راجعون اللہ رب العزت مرحومہ کی مغفرت فرمائے۔۔اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔۔آمین۔
Top