نتائج تلاش

  1. کاشفی

    اکبر الہ آبادی نظم - برقِ کلیسا - اکبر الٰہ آبادی

    رات اُس مس سے کلیسا میں ہوا میں جو دو چار ہائے وہ حُسن ، وہ شوخی، وہ نزاکت، وہ اُبھار زلفِ پیچاں کی وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مرید قدِ رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید آنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہگار کریں گال وہ صبحِ درخشاں کہ ملک پیار کریں گرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکے دلکش آواز کہ سن کر...
  2. کاشفی

    تعارف یہ ہیں کاشف اکرم وارثی

    خوش آمدید کاشف اکرم وارثی صاحب!۔ آپ کے بارے میں جان کر اچھا لگا۔۔خوش رہیں ۔
  3. کاشفی

    درد گرچہ بیزار تو ہے پر اسے کچھ پیار بھی ہے - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) گرچہ بیزار تو ہے پر اسے کچھ پیار بھی ہے ساتھ انکار کے پردے میں کچھ اقرار بھی ہے زاہد شرک خفی کی بھی خبر ٹک لینا ساتھ ہر دانہء تسبیح کے زنّار بھی ہے چشمِ رحمت سے ادھر کو بھی نظر کیجئے گا اسی اُمید پہ آیا یہ گنہگار بھی ہے دل بھلا ایسے کو اے درد نہ دیجے کیونکر ایک تو یار...
  4. کاشفی

    درد مجھ کو تجھ سے جو کچھ مُحبّت ہے - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) مجھ کو تجھ سے جو کچھ مُحبّت ہے یہ مُحبّت نہیں ہے، آفت ہے لوگ کہتے ہیں عاشقی جس کو میں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے بند احکامِ عقل میں رہنا یہ بھی اک نوع کی حماقت ہے ایک ایمان ہے بساط اپنی نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے آپھنسوں میں بتوں کے دام میں یوں درد یہ بھی خدا کی قدرت ہے
  5. کاشفی

    درد پہلو میں دل تپاں نہیں ہے - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) پہلو میں دل تپاں نہیں ہے ہر چند کہ یاں ہے، یاں نہیں ہے عالم ہو قدیم خواہ حادث جس دم نہیں ہم، جہاں نہیں ہے ڈھونڈے ہے تجھے تمام عالم ہرچند کہ تو کہاں نہیں ہے عنقا کی طرح میں کیا بتاؤں جز نام مرا نشاں نہیں ہے جوں شمع نہ رازِ دل کہوں گا ایسی بھی مری زباں نہیں ہے وعدے...
  6. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    لاجواب ۔۔بہت ہی خوب!
  7. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے یہ محبت نہیں ہے، آفت ہے لوگ کہتے ہیں عاشقی جس کو میں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے (خواجہ میر درد)
  8. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    عشق ہر چند مری جان سدا کھاتا ہے پر یہ لذت تو وہ ہے، جی ہی جسے پاتا ہے (خواجہ میر درد)
  9. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    نظر میرے دل کی پڑی درد کس پر جدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے (خواجہ میر درد)
  10. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    وے مر چکے جو رونقِ بزمِ جہاں تھے اب اُٹھیے درد یاں سے کہ سب یار سو گئے (میر درد)
  11. کاشفی

    ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہے، درد

    بہت ہی عمدہ انتخاب ہے۔۔۔بہت خوب!
  12. کاشفی

    فیض اشک آباد کی شام ۔ فیض احمد فیض

    بہت ہی عمدہ فرخ منظور صاحب!
  13. کاشفی

    فراق موجِ صبا کی پوچھ نہ سفاک دستیاں ۔ فراق

    اب یادِ رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں بہت ہی خوبصورت انتخاب فرخ منظور صاحب! وے مر چکے جو رونقِ بزمِ جہاں تھے اب اُٹھیے درد یاں سے کہ سب یار سو گئے (میر درد)
  14. کاشفی

    شاباشے

    شاباش بہت خوب۔ آپ بہت اچھا لکھتی ہیں۔۔۔
  15. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    نہ سنو گر بُرا کہے کوئی نہ کہو گر بُرا کرے کوئی روک لو گر غلط چلے کوئی بخش دو گر خطا کرے کوئی جب توقع ہی مٹ گئی غالب کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی (غالب)
  16. کاشفی

    پریشاں خاطری میں لب پہ کیوں آئے دعا میری - نذیر - ڈیرہ اسمٰعیل خاں ، 1910ء

    غزل (نذیر - ڈیرہ اسمٰعیل خاں ، 1910ء) پریشاں خاطری میں لب پہ کیوں آئے دعا میری نہ رسوائے جہانِ آرزو ہوگی وفا میری مجھے عہدِ گذشتہ کی وفائیں یاد آتی ہیں میری اس انتہا سے خوب تھی وہ ابتدا میری میری فطرت کا مقصد ہے تغیّر آشنا رہنا نہ غم ہی مستقل میرا، نہ راحت دیرپا میری مقدر میں نہیں ہے...
Top