نتائج تلاش

  1. کاشفی

    درد تو مجھ سے نہ رکھ غبار جی میں - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) تو مجھ سے نہ رکھ غبار جی میں آوے بھی اگر ہزار جی میں بے زار ہے مجھ سے تو، پہ مجھ کو اب تک ہے وہی پیار، جی میں گل اب تو ملے ہے ہنس کے لیکن بلبل یہ چبھیں گے خار جی میں یوں پاس بٹھا جسے تو چاہے پر جاگہ نہ دیجو یار جی میں کیا فائدہ درد شور و شر سے اُپجے ہے جو کچھ سو مار...
  2. کاشفی

    درد تجھ ہی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) تجھ ہی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا مرا غنچہء دل ہے وہ دل گرفتہ کہ جس کو کِسو نے کبھو وا نہ دیکھا یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا اذیت، مصیبت، ملامت، بلائیں ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا کیا مجھ کو داغوں نے...
  3. کاشفی

    درد جگ میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا - خواجہ میر درد

    شکریہ ابن جمال صاحب! تدوین کی سہولت موجود نہیں ہے اس لیئے اس غزل کو تصحیح کے ساتھ دوبارہ پیش کر رہا ہوں۔۔۔ کسی بھی قسم کی تکلیف کے لیئے معذرت۔ غزل (خواجہ میر درد) جگ میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا جان سے ہوگئے بدن خالی جس طرف تونے آنکھ بھر دیکھا نالہ، فریاد، آہ اور...
  4. کاشفی

    درد کاش تاشمع نہ ہوتا گزرِ پروانہ - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) کاش تاشمع نہ ہوتا گزرِ پروانہ تم نے کیا قہر کیا، بال و پر پروانہ شمع کے صدقے تو ہوتے ابھی دیکھا تھا اُسے پھر جو دیکھا تو نہ پایا اثرِ پروانہ کیوں اُسے آتشِ سوزاں میں لیے جاتی ہے سوجھتا بھی ہے تجھے کچھ نظرِ پروانہ ایک ہی جست میں لی منزلِ مقصود اُس نے راہرو، رشک کی جا...
  5. کاشفی

    درد ہر طرح زمانے کے ہاتھوں سے ستم دیدہ - خواجہ میر درد

    غزل خواجہ میر درد ہر طرح زمانے کے ہاتھوں سے ستم دیدہ گر دل ہوں تو آزردہ خاطر ہوں تو رنجیدہ ہم گلشنِ دوراں میں اے خفتگیِ طالع سرسبز تو ہیں لیکن جوں سبزہ خوابیدہ اے شورِ قیامت رہ اُدھر ہی میں کہتا ہوں چوں کے ہے ابھی یاں سے کوئی دل شوریدہ اوروں سے تو ہنستے ہو نظروں سے ملا نظریں اِدھر کو نظر...
  6. کاشفی

    درد مژگان تر ہوں یا رگِ تاکِ بریدہ ہوں - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) مژگان تر ہوں یا رگِ تاکِ بریدہ ہوں جو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنی اُفتادہ ہوں پہ سایہء قدِّ کشیدہ ہوں ہر شام مثلِ شام ہوں میں تیرہ روزگار ہر صبح مثلِ صبح گریباں دریدہ ہوں کرتی ہے بوئے گل تو میرے ساتھ اختلاط پر آہ! میں تو موجِ...
  7. کاشفی

    درد مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا - خواجہ میر درد

    بہت عمدہ انتخاب ہے۔۔ میرے پاس کچھ اس طرح سے ہے۔۔۔۔ مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا حقا! کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا جس مسندِ عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے کیا تاب؟ گزر ہووے تعقل کے قدم کا بستے ہیں ترے سایہ میں سب شیخ و برہمن آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دیر و حرم کا ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے...
  8. کاشفی

    نیا ملک

    ابھی رات ہورہی ہے اور مجھے نیند بھی آرہی ہے۔۔ اس لیئے آج سوتے ہوئے میں ایک مسلم ملک بناؤں گا ۔۔خواب میں۔۔ خا خا خرّاٹے لیتے ہوئے۔۔۔ اس نئے مسلم ملک کا نام ہوگا "جی اے آئی آر ڈی" یعنی " غلامانِ امریکہ - اسلامک ریپبلک آف ڈیکٹیٹرز"۔ اور اس کو میں پوری دنیا میں قائم کروں گا۔۔ ۔۔۔اب تو مجھے پکی گہری...
  9. کاشفی

    قرطبہ - روش صدیقی

    بہت شکریہ محمد وارث صاحب! فرحت کیانی صاحبہ اور ام نور العین صاحبہ آپ دونوں کا بھی بیحد شکریہ۔۔
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    میں پاکے اُس سے عفو کا پروانہ چھوٹ گیا اہلِ خرد دھرے گئے، دیوانہ چھوٹ گیا (نظم طبا طبائی)
  11. کاشفی

    صدائے درویش - امجد حیدر آبادی

    صدائے درویش (ابولاعظم سید احمد حسین امجد حیدرآبادی) اس رنج کی دنیا میں جامِ طرب افزا دے اس میکدہء لاَ میں، اِک ساغر الاّ دے اے فضل و کرم والے! محتاج کو دِلوادے امید کے بندے کو محروم نہ پلٹا دے دے اے مرے مولا دے، دے اے مرے داتا دے اِس اپنے بھکاری پر، اے شاہ کرم فرما آیا ہے ترے در پر...
  12. کاشفی

    جوش اگر گیسو بدوش آتا نہیں، اچھّا یونہیں آجا - جوش ملیح آبادی

    یہ "اچھایو" نہیں ہے ۔۔بلکہ اچھا یونہیں ہے۔۔
  13. کاشفی

    جوش اگر گیسو بدوش آتا نہیں، اچھّا یونہیں آجا - جوش ملیح آبادی

    بہت شکریہ محمد وارث صاحب! بہت شکریہ فرخ منظور صاحب!
  14. کاشفی

    جوش نہ جانے رات کو کیا میکدے میں مشغلہ تھا - جوش ملیح آبادی

    محمد وارث صاحب، فرخ منظور صاحب، شاہ حسین صاحب اور شمشاد صاحب ۔ آپ چاروں احباب کا غزل کی پسندیدگی کے لیئے بہت شکریہ۔۔
  15. کاشفی

    جوش آکہ پھر آج ہم آہنگ ہوئی ہے لَب جُو - جوش ملیح آبادی

    پسندیدگی کے لیئے آپ کا بھی بہت شکریہ محمد وارث صاحب!
  16. کاشفی

    جوش رُوحِ اِستبداد کا فرمان - جوش

    شکریہ سید محمد نقوی صاحب!
  17. کاشفی

    اردو رباعیات

    ایسا نہ ہو عشق دل کو رنجور کرے برباد مجھے شعلہء مستور کرے! دے جام شرابِ آتشیں اے ساقی ممکن ہے کہ زہر زہر کو دور کرے! (شاعر: مجھے معلوم نہیں)
  18. کاشفی

    قرطبہ - روش صدیقی

    قرطبہ (روش صدیقی - 1925ء) (1) بہارِ خلد سے رنگیں تھا گلستاں تیرا غلامِ احمد مرسل تھا باغباں تیرا جلال ملّتِ بیضا تھی بارگاہ تری! سجود گاہِ ملائک تھا آستاں تیرا! فرشتے وادی انوار تجھ کو کہتے تھے! ہر ایک ذرّہ تھا خورشید آسماں تیرا وہ صبحِ گلکدہء وادی الکبیر کہاں؟ کہ جس کے عکس میں منظر تھا...
  19. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    برداشت کی حدود سے بڑھنے نے پائے ظلم یہ مہروالتفات کا رشتہ نہ ٹوٹ جائے اظہارِ اضطراب محبت میں جرم ہے یوں ضبط کر کہ بربط اُمید ٹوٹ جائے انکی نگاہِ لطف کا دل کو ہے انتظار وہ تیر پھینک دیں تو یہ آئینہ ٹوٹ جائے فطرت مجھے یہ ڈر ہے کہیں رہزنِ ہوس آکر نہ کاروانِ محبت کو لوٹ جائے (عبدالعزیز فطرت )
Top