نتائج تلاش

  1. کاشفی

    لیاقت علی عاصم غزل ۔ کھلی ہے راہِ ملاقات اب بھی آ جاؤ - لیاقت علی عاصم

    واہ بہت ہی عمدہ انتخاب ہے۔۔بہت شکریہ شیئر کرنے کے لیئے۔۔
  2. کاشفی

    مذہب اور سیاست کے زمروں کے نئے مدیر جناب ساجد صاحب

    شکریہ محمد وارث صاحب! جب بڑھتے قدم تھم جائیں یا ڈگمگائیں اور ادارت مشکل لگنے لگے تو پھر چاہیئے کچھ ایسا جو دے طاقت آگے بڑھنے کی اورمنزل کو پا لینے کی۔ کیونکہ پانا ہے زندگی میں کچھ بڑھ کر۔تو پھر پئیں بھینس کا تازہ مِلک پیک دودھ غازی مِلک شاپ سے لے کر ۔ دودھ کی قدرتی غذائیت بنائے مضبوط...
  3. کاشفی

    جام اک بھر کے دے اے پیرِخرابات مجھے - مہاراجہ بہادر سر کِشن پرشاد

    پسندیدگی کے لیئے بہت شکریہ محمد وارث صاحب! ۔ خوش رہیں۔
  4. کاشفی

    اردو رباعیات

    روتا ہوں میں دوستو! مجھے رونے دو دامن پہ ہے داغِ معصیت دھونے دو اب نزع کی حالت میں وصیّت کیسی جاؤ بھی، ہٹو، غُل نہ کرو، سونے دو (شاعر: مجھے معلوم نہیں)
  5. کاشفی

    جام اک بھر کے دے اے پیرِخرابات مجھے - مہاراجہ بہادر سر کِشن پرشاد

    غزل (مہاراجہ بہادر سر کِشن پرشاد) جام اک بھر کے دے اے پیرِخرابات مجھے کر دے اب بہرِ خدا مستِ مے ذات مجھے محو فی الذّات ہیں، خورشید سے نسبت ہے انہیں نظر آتے ہیں جو اُڑتے ہوئے ذرّات مجھے یار بر میں ہے، اِدھر جام لئے ہے ساقی کس لئے راس نہ آئے گی یہ برسات مجھے واعظا پندونصیحت یہ کِسے کرتا ہے...
  6. کاشفی

    سودا بس ہو تو رکھوں آنکھوں میں اُس آفتِ جاں کو ۔ سودا

    بہت ہی عمدہ جناب فرخ منظور صاحب! مزا آگیا۔
  7. کاشفی

    احسان دانش غزل - ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو - احسان دانش

    بہت ہی عمدہ ۔ بہت شکریہ خوبصورت شیئر کرنے کے لیئے۔۔
  8. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    آمادگی مجھے تو رہی ہر گناہ پر فضلِ خدا سے بُت ہی نہیں آئے راہ پر (اکبر الہ آبادی)
  9. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    نہ سُنّی ہے خوش اور نہ شیعہ ہے شاد ہے دونوں کے مرکز میں برپا فساد غمِ ٹرکی و ماتمِ پرشیا مسدس اُدھر ہے اِدھر مرثیا (اکبر الہ آبادی)
  10. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    بتاؤں آپ سے مرنے کے بعد کیا ہوگا پلاؤ کھائیں گے احباب، فاتحہ ہوگا:) (اکبر الہ آبادی)
  11. کاشفی

    دل کی بات شعر کے ساتھ

    نہیں کچھ اس کی پرسش، الفتِ اللہ کتنی ہے یہی سب پوچھتے ہیں، آپ کی تنخواہ کتنی ہے (اکبر الہ آبادی)
  12. کاشفی

    ساغر نظامی دل سے بھی غمِ عشق کا چرچا نہیں کرتے - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) دل سے بھی غمِ عشق کا چرچا نہیں کرتے ہم ان کو خیالوں میں بھی رسوا نہیں کرتے آنسو کو گہر، بوند کو دریا نہیں کرتے طوفانِ غمِ دوست کو رسوا نہیں کرتے ہم ان سے ستم کا بھی تقاضا نہیں کرتے احساسِ کرم حسن میں پیدا نہیں کرتے آنکھوں سے بھی ہم عرضِ تمنّا نہیں کرتے خاموش تقاضا بھی...
  13. کاشفی

    ساغر نظامی ہے کمالِ رقصِ صوفی بھی نشاطِ پادشاہی - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) ہے کمالِ رقصِ صوفی بھی نشاطِ پادشاہی بڑی مدّتوں میں ٹوٹا، یہ فریبِ خانقاہی یہی میری آدمیّت کی دلیلِ برتری ہے کہ لگا نہیں جبیں پر کبھی داغِ بےگناہی مجھے کیوں ہو فکرِ شاہد کہ معاملہ ہے روشن میں تری کھُلی شہادت، تو مری کھُلی گواہی ہے عجیب لا اُبالی، مرا مسلکِ جنوں بھی نہ...
  14. کاشفی

    ساغر نظامی وہ میرا جانِ ہر محفل کہاں ہے - ساغر نظامی

    بہت شکریہ محمد وارث صاحب! شکریہ فرخ منظور صاحب!
  15. کاشفی

    غزل : عشق ہوجاتا ہے، ہوتا ہے! پہ کیوں ہوتا ہے : سید انور جاوید ہاشمی ؔ

    بہت ہی عمدہ انتخاب ہے۔۔جیتے رہیں اور خوش و خرم رہیں۔
  16. کاشفی

    درد دل مرا پھر دُکھا دیا کس نے - خواجہ میر درد

    غزل (خواجہ میر درد) دل مرا پھر دُکھا دیا کس نے سو گیا تھا جگا دیا کس نے میں کہاں اور خیالِ بوسہ کہاں منہ سے منہ یوں بھڑا دیا کس نے وہ مرے چاہنے کو کیا جانے یہ سندیسا سُنا دیا کس نے ہم بھی کچھ دیکھتے سمجھتے تھے سب یکایک چھپا دیا کس نے وہ بُلائے سے بھاگتا تھا اور درد تجھ تک بُلا دیا کس نے
  17. کاشفی

    غزل: قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو ۔ از : میاں داد خان سیاح ؔ

    بہت ہی عمدہ جناب! بیحد شکریہ خوبصورت غزل شیئر کرنے کے لیئے۔۔۔
  18. کاشفی

    اکبر الہ آبادی اک بوسہ دیجئے، مرا ایمان لیجئے - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) اک بوسہ دیجئے، مرا ایمان لیجئے گو بُت ہیں آپ ، بہرِ خدا مان لیجئے دل لے کے کہتے ہیں تری خاطر سے لے لیا اُلٹا مجھ ہی پہ رکھتے ہیں احسان لیجئے غیروں کو اپنے ہاتھ سے ہنس کر کھلا دیا مجھ سے کبیدہ ہو کے کہا، پان لیجئے مرنا قبول ہے مگر الفت نہیں قبول دل تو نہ دوں گا آپ کو...
  19. کاشفی

    اکبر الہ آبادی کسی کی قسمت میں زہر ِغم ہے، کسی کو حاصل مئے طرب ہے - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) کسی کی قسمت میں زہر ِغم ہے، کسی کو حاصل مئے طرب ہے وہی بگاڑے، وہی بنائے، اُسی کی قدرت کا کھیل سب ہے نظر جو آئے وہ آفتِ جاں تو دل کو کیوں کر بچائے انساں ادا ہے بانکی، نگاہ ترچھی ستم ہے، عشوہ حیا غضب ہے جلا چکی آتش محبت تمام میرے دل و جگر کو تمہیں نہیں ہے یقیں اب تک، یہی...
  20. کاشفی

    اکبر الہ آبادی غم نہیں اس کا جو شہرت ہوگئی - اکبر الہ آبادی

    غزل (اکبر الہ آبادی) غم نہیں اس کا جو شہرت ہوگئی ہوگئی اب تو محبت ہوگئی اب کہاں اگلے سے وہ راز و نیاز مِل گئے صاحب سلامت ہوگئی ہائے کیا دلکش ہے اُس کی چشم مست آنکھ ملتے ہی محبت ہوگئی چودھواں سال اُن کو ہے نامِ خدا عمر آفت تھی قیامت ہوگئی ناز سے اُس نے جو دیکھا شیخ کو اُن کی دینداری ہی...
Top