ہیں خواب میں ہنوز
وہ گیند ریاض احمد نے فہمیدہ کو پہلی ملاقات میں نہیں دی تھی۔ ان کی جان پہچان کو کافی عرصہ ہو چلا تھا۔ تب ایک دن ریاض احمد کو پتہ چلا کہ اب سب ٹھاٹ پڑا رہ جانے کا وقت آگیا ہے۔ فہمیدہ ان کے کتب خانے کی باقاعدآنے والوں میں سے تھی۔ ریاض احمد کی خواہش تھی کہ ان کے بعد تمام کتابیں...
نوجوان شاعر’’ کاشف حسین غائر‘‘ کے شعری مجموعے
’’ راستے گھر نہیں جانے دیتے ‘‘
پر ’’ عین عین ‘‘ کا مفصل تبصرہ
پیش نظر شعری مجموعے کی صورت میں ادبی افق پر ابھرنے والے رنگ خوش نما ہی نہیں بلکہ تازگی اور فرحت کا احساس بخشتے ہیں اور غزل کے میدان میں امکانات کی نوید سناتے ہیں۔ نوجوان شاعر کاشف...
’’فنا فی اللہ ‘‘
وہ افغانی حسینائیں
جنھیں تنّور پر دیکھا
انھیں میں ایک پشمینہ تھی
اُس کا نام اس کے ساتھ بیٹھی
ایک لڑکی نے پکارا تھا:
مری پشمینہ! پش می نے
سُبحان اللہ سبحان اللہ
اچانک ایک چنگاری اُڑی
میں بالکونی سے یہ منظر دیکھتا تھا
پَٹ پُٹ پَٹا پٹ پُھٹ
کئی شعلے بھڑک کر
اُن...
غزل
بن پڑھے ، بن سنے یقیں نہ کیا
لوگ کہتے رہے یقیں نہ کیا
چاند کا عکس گہرے پانی میں
دیکھتے رہ گئے یقیں نہ کیا
چل پڑے ہم تو طے ہوا رستا
ہیں ابھی فاصلے یقیں نہ کیا
زندگی، زندگی سمجھتے رہے
بن چکے دائرے یقیں نہ کیا
نسلِ آدم نہ ایک ہو پائی
آدمی بٹ گئے یقیں نہ کیا
سیدانورجاویدہاشمی
کافرِ عشقم بقولِ حضرتَ خسرو نصیر
من رگِ ہر تار گشتہ حاجتَ زنار نیست
ہزار نعمتِ دنیا اگر مرا بخشند
نثار گوشہ ِ آں چشمِ نیم باز کنم
من از ہجومِ خیال ِ مسلسلِ زلفش
نصیر سلسلہِ شوق را دراز کنم
صاحبزادہ نصیرگولڑہ شریف
(وارث صاحب سے ترجمہ کے درخواست ہے )
’’خواب‘‘
چلو اک رسم کا آغاز کرتے ہیں
بچھڑنے سے ذرا پہلے
وہ باتیں جو ابھی ہم کرنے والے ہیں
انہیں کاغذ پہ لکھتے ہیں
اور اس کاغذ کی کشتی کو
وہاں جاکر سمندر کے سفر پر بھیج دیتے ہیں
جہاں ہم روز ملتے تھے
اگر وہ کاغذی باتیں
کسی دن لوٹ آئیں تو
اسی دن راستے تبدیل کرلیں گے
تمھارے خواب کی...
غزل
باعثِ وحشتِ دلگیر بنانے لگا تھا
جب خدا خاک کی تقدیر بنانے لگا تھا
خوں بہا مجھ سے نہ مانگو کہ یہ مرنے والا
اس قبیلے کے لیے تیر بنانے لگا تھا
ایک معبودِ تفکر نے دیا مجھ کو جگا
ورنہ میں خواب کی تعبیر بنانے لگا تھا
اس لیے دستِ ہوا پر ہوا افسوس کہ وہ
نقشِ پا کے لیے زنجیر بنانے لگا...
شناور صاحب کیا کرتے ہوبھئی۔
رات ہی میں نے یہ غزل ایک دوست سے سنی، (ایک شعر تو عرصہ سے یادتھا)
میں نے سوچا یہاں پیش کروں ، احتیاطاَ تلا ش کیا تو موجود پایا، جواب نہیں صاحب ۔
کلام پر کیا کہوں کہ زبان گنگ ہے ، ہاں اتنی عمدہ پیش کش پر مبارکباد،
سدا خوش رہیں جناب۔
واہ خوب مراسلہ ہے ، اور مہوش بہن کے مراسلے میں ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں ، وگرنہ عوام کو ’’ پبلک ٹرانسپورٹ ‘‘ مہیا کرنا ریاست کی زمہ داری ہے ۔ اور وہی بہترین حل ہے ۔ شکریہ
رضا صاحب ،آداب ،۔۔ لیجیے صاحب ، کچھ نمونے حاضر ہیں،
عارف کریم صاحب ، یہاں ساتھ ہی فری ہینڈ 10 کی ویکٹر بیس فائل موجود ہے ،
امید ہے فونٹ میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوگی،