کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا
مجھے اپنا ہاتھ بھی چھو گیا تو خیال تیری طرف گیا
کسی حادثے کی خبر ہوئی تو فضا کی سانس اکھڑ گئی
کوئی اتفاق سے بچ گیا تو خیال تیری طرف گیا
ترے ہجر میںخور و خواب کا کئی دن سے ہے یہی سلسلہ
کوئی لقمہ ہاتھ سے گر پڑا تو خیال تیری طرف گیا
لیاقت علی عاصم