ہماری صلاح
کھو جاتا ہوں کو کھُجاتا ، سوجاتا کو سُجاتا ، ہوجاتا کو ہُجاتا باندھا ہے ۔ بہتر ہوتا کہ بحر کچھ ایسی رکھتے
یوں تری آنکھوں میں کھو جاتا ہوں میں
ایک دم تیرا ہی ہوجاتا ہوں میں
لطفِ مئے ایسا کہ سوجاتا ہوں میں
دیکھتا ہوں جب حسیں زُلفیں تری
سحر میں ان کے ہی کھو جاتا ہوں میں
وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔