نتائج تلاش

  1. کاشفی

    اردو قواعد۔ ڈاکٹر مولوی عبدالحق ۱۹۰۰

    اردو قواعد ڈاکٹر مولوی عبدالحق ۱۹۰۰ فہرست مقدمہ قوائدِ اُردو فصل اوّل - ہجا اعراب (یا حرکات و سکنات) فصل دوم - حرف 1 - اسم اسم خاص اسم کیفیت اسم جمع لوازم اسم جانداروں کی تذکیر و تانیث تعداد و حالت اسماء کی تصفیر و تکبیر 2 - صفت صفت ذاتی صفت نسبتی صفت عددی صفت مقداری...
  2. کاشفی

    اپنے دوست بنئیے - از: خوشی

    اپنے دوست بنئیے از: محترمہ خوشی صاحبہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کسی کو دوستوں کی ضرورت ہوتی ھے مگر دوستی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں ایسا سنا تھا مگر میں نہیں سمجھتی کہ انسان کبھی سوچتا ھے کسی سے دوستی سے پہلے۔ خیر میں جو بات کرنا چاہتی ہوں وہ یہ کہ ہمیں اپنے آپ سے دوستی کرنی چاہیے...
  3. کاشفی

    اردو نثرپارہ : کاش!۔۔۔۔ ہم اپنوں سے جدا نہ ہوتے۔ خوشی

    اردو نثرپارہ کاش!۔۔۔۔ ہم اپنوں سے جدا نہ ہوتے۔ (خوشی - پیاری رکن اردو محفل فورم) ہماری زندگی میں کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ لگتا ہے سب ٹھہر سا گیا ہے ۔سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہر انسان ایک جیسے واقعات ، حادثات، دکھ درد یا فرحت و انبساط پر ایک جیسے ردعمل کااظہار نہیں‌کرتا۔ کچھ لوگ...
  4. کاشفی

    اختر شیرانی مری آنکھوں سے ظاہر، خوں فشانی، اب بھی ہوتی ہے - اختر شیرانی

    غزل (اختر شیرانی) مری آنکھوں سے ظاہر، خوں فشانی، اب بھی ہوتی ہے نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی، اب بھی ہوتی ہے بہشتوں سے خفا، دنیائے فانی، اب بھی ہوتی ہے جنوں کو حرصِ عمرِ جاودانی، اب بھی ہوتی ہے! سرورآرا، شرابِ ارغوانی، اب بھی ہوتی ہے مرے قدموں میں دنیا کی جوانی، اب بھی ہوتی ہے...
  5. کاشفی

    عدم سرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گا - عدم

    تغزل (عدم) سرد آہیں بھروں گا تو جوانی میں بھروں گا مرنے کا ہے موسم یہی، جی بھر کے مروں گا آغاز طلب ہے مرا افسانہء ہستی بنیاد تِری آنکھ کی مستی پہ دھروں‌گا حالات مجھے خوابِ پریشان بنالیں حالات کو کچھ میں بھی پریشان کروں گا تو رُوپ میں انساں کے مرے سامنے آجا اللہ! تجھے صدق بھرا...
  6. کاشفی

    وہ پرسشِ حال کو آئیں گے بیمار کو یہ خوش فہمی ہے - عبدالعزیز فطرت

    غزل (عبدالعزیز فطرت) وہ پرسشِ حال کو آئیں گے بیمار کو یہ خوش فہمی ہے جذبات کی بے رونق دنیا میں کتنی گہما گہمی ہے اے گردشِ ساغر گردش دور فلک سے مجھ کو خوف نہیں ایّام کے چکر سے ڈرنا ناشکری ہے نافہمی ہے حوروں سے یہ جی بہلائے گا کوثر سے یہ جام اُڑائے گا میں شیخ کو خوب سمجھتا ہوں - پرلے درجے کا...
  7. کاشفی

    لی لا اور مجنا - بلوچی داستان

    لی لا اور مجنا بلوچی داستان بلوچی زبان میں یہ وہی عربی داستان ہے جو لیلٰی اور مجنوں کے نام سے مشہور ہے۔ ساری کی ساری نظم مقامی رنگ لئے ہوئے ہے۔ لیلا کو ایک بلوچی عورت میں‌تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جو مامبور پہاڑی کے دامن میں رہتی ہے ۔۔ اس مقام کے فردوسی مناظر حیرت انگیز طور پر پیش کیئے گئے...
  8. کاشفی

    جز ترےکچھ بھی نہیں اور مقدر میرا - عنبرین حسیب عنبر

    غزل عنبرین حسیب عنبر جز ترےکچھ بھی نہیں اور مقدر میرا تو ہی ساحل ہے مرا، تو ہی مقدر میرا تو نہیں ہے تو ادھوری سی ہے دنیا ساری کوئی منظر مجھے لگتا نہیں منظر میرا منقسم ہیں سبھی لمحوں میں مرے خال و خد یوں مکمل نہیں ہوتا کبھی پیکر میرا کس لئے مجھ سے ہوا جاتا ہے خائف دشمن میرے ہمراہ...
  9. کاشفی

    شیش محلوں میں بس کرچیاں رہ گئیں - سعدیہ روشن صدیقی

    غزل سعدیہ روشن صدیقی شیش محلوں میں بس کرچیاں رہ گئیں گفتگو کے لئے تلخیاں رہ گئیں اب تو پھولوں کے چہرے بھی مر جھا گئے میری یاد وں کی سب تتلیاں رہ گئیں کوئی دالان میں کوئی دہلیز پر خواب بنتی ہوئی لڑکیاں رہ گئیں جتنے بیٹے...
  10. کاشفی

    راحت اندوری اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں - ڈاکٹر راحت اندوری

    غزل (ڈاکٹر راحت اندوری ) اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں میں چاہتا تھا چراغوں کو ماہتاب کروں بتوںسےمجھ کو اجازت اگر کبھی مل جائے تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں میں کروٹوں کے نئے زاویے لکھوں شب بھر یہ عشق ہے تو کہاں زندگی عذاب کروں ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے...
  11. کاشفی

    پرندوں کے لبوں پر بھی تلاوت جاگ جاتی ہے - جوہر کانپوری

    غزل جوہر کانپوری پرندوں کے لبوں پر بھی تلاوت جاگ جاتی ہے سحر ہوتے ہی شاخوں پر عبادت جاگ جاتی ہے مقرر وقت کوئی بھی نہیں اس کی نوازش کا اسے جب بھی پکارو اسکی رحمت جاگ جاتی ہے الگ ہی ٹھیک ہیں ہم ورنہ اب تو ساتھ رہنے پر سگے بھائی کے سینے میں بھی نفرت جاگ جاتی ہے ہمیں جس وقت...
  12. کاشفی

    وہ منہ کے سامنے چلمن گرائے بیٹھے ہیں - محمد خاں عالم حیدر آبادی

    غزل (محمد خاں عالم حیدر آبادی) وہ منہ کے سامنے چلمن گرائے بیٹھے ہیں ہم اشتیاق کی صورت بنائے بیٹھے ہیں نظر جمال پہ اُنکے جمائے بیٹھے ہیں کہ پردہء در دل ہم اُٹھائے بیٹھے ہیں ہمارے دل کا کریں گے وہ خون آج ضرور سنا ہے ہاتھوں میں مہندی لگائے بیٹھے ہیں خدا کے واسطے ہم سے نہ پوچھو...
  13. کاشفی

    تازہ ہوجاتی ہے جان سُن کے تمہاری آواز - محمد خاں عالم حیدرآبادی

    غزل (محمد خاں عالم حیدرآبادی ) تازہ ہوجاتی ہے جان سُن کے تمہاری آواز بھر گئی ہے مرے کانوں میں یہ پیاری آواز چین دل کو نہیں ملتا ہے مری جاں جب تک نہیں آتی مرے کانوں میں تمہاری آواز ہجر میں نالہ و فریاد کا یارا ہے کسے اب تو لب تک نہیں آتی ہے ہماری آواز دل تو کیا ہے رگ جاں بچ نہیں...
  14. کاشفی

    قدرِ انساں

    قدرِ انساں نادر خان سَر گِروہ مقیم مکہ مکرمہ کُرَہء ارض کا انسان مریخ پر وجودِ انساں کی تلاش میں کوشاں ہے۔۔دُور۔۔۔آسمان میں تاک لگائے مدھم و مبہم ستاروں کی کھوج میں‌گم۔۔۔سمندر کی گہرئی میں رنگا رنگ مخلوق سے رو برو ہونے کو غوطہ زن۔۔۔ویران کھنڈروں کی خاک اُڑا کر اُن کے مکینوں کے نقشِ پا...
  15. کاشفی

    داغ بے درد ہیں جو درد کسی کا نہیں رکھتے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) بے درد ہیں جو درد کسی کا نہیں رکھتے ایسے بھی ہیں یارب کہ تمنا نہیں رکھتے تم زندہ ہمیں چھوڑ کے گھر جاؤ نہ شب کو مردے کو بھی انسان کے تنہا نہیں رکھتے سچ ہے کہ یوں ہی ڈوب گئیں اپنی وفائیں ہم تم پہ کسی طرح کا دعوا نہیں رکھتے بے باک ہو سفاک ہو جو...
  16. کاشفی

    شکایت

    شکایت شادی کے چند دنوں کے بعد جمیلہ میکے آئی تو اس کی بہنوں اور سہیلیوں نے اس سے پوچھا: "دولہا بھائی کیسے آدمی ہیں؟" جمیلہ کے چہرے پر شرم کی لالی ابھری۔ وہ اپنی مسکراہٹ روکتے ہوئے بولی: "اچھے ہیں۔" پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس کے چہرے کی لالی میں ہلکی سی سیاہی کی آمیزش...
  17. کاشفی

    ماں کا دل

    ماں کا دل چاندنی رات تھی۔۔۔۔۔۔ ایک مستانہ خرام جوئبار کے کنارے!دولہا،دلہن رازونیاز کی باتوں ميں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔ محوتھے! نئی نویلی دلہن اپنے حُسن وجمال کی رنگینیوں پرمغرور!اورنوجوان دُولہا!اپنی جوانی کےجوش وخروش میں چُور۔۔۔۔۔۔ نظر آتاتھا۔ چاندنی اُن کی بےخودانہ وخود فراموشانہ حالت پر مسکرا رہی...
  18. کاشفی

    دو گز زمین - عذرا قیصر نقوی

    دو گز زمین از: عذرا قیصر نقوی نیم غنودگی کی حالت میں ان کے کانوں میں اماں کے مناقب پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔۔۔۔۔۔ ساماں شتاب کردے مرے دل کے چین کا پرور دگار واسطہ پیارے حسین علیہ السلام کا فجر کی نماز کے بعد آنگن کے کونے میں‌ بنے لال پتھر کے چبوترے پر بیٹھی اماں روز پُر سوز آواز میں...
  19. کاشفی

    زندہ مُردہ - خورشید احمد - ہیملٹن، کناڈا

    زندہ مُردہ از: خورشید احمد - ہیملٹن، کناڈا (یہ کہانی بالکل حقیقی ہے، میں نے صرف مرحوم کی روح کی تسکین کے لیئے اُنکا نام بدل دیا ہے۔۔۔) علی گڑھ یونیورسٹی کے ایک ہوسٹل میں ایک منتظم تھے جنکا نام اسرارالحق تھا۔۔۔وہ بہت بدمزاج تھے اور ہمیشہ لڑکوں پر نکتہ چینی کیا کرتے تھے اور ذرا ذرا سی بات...
  20. کاشفی

    میں کسی سے شادی نہیں‌ کرونگی - فطرت اقبال

    میں کسی سے شادی نہیں‌ کرونگی (از فطرت اقبال - 1922) اس مجمع میں بہت سے آدمی تھے۔۔۔۔۔ان میں سے کسی نے مجھ سے شادی کی درخواست نہ کی۔۔۔۔میری بعض بہنیں شاید یہ رائے قائم کرنے میں جلد بازی سے کام لینگی کہ " میری اس میں‌ سبکی ہوئی"۔۔۔۔۔ لیکن واقعہ اس کے خلاف ہے۔۔۔ہمیں اس قدر تنگ خیال نہیں ہونا...
Top