رباب واسطی

محفلین
قاضیؒ صاحب مرحوم کی محبت میں

نفاذِ دیں کو بنایا تھا اپنا نصب العین
کھڑا اسی لیے ہر حال تھا مرا قاضیؒ

ستم گروں سے وہ رہتا تھا برسرِ پیکار
ستم زدوں کے لیے ڈھال تھا مرا قاضیؒ

"نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز"
بسانِ مصرعِ اقبالؒ تھا مرا قاضیؒ
زبردست خراجِ عقیدت
 

رباب واسطی

محفلین
ایک جملہ عموماً سننے کو ملتا ہے کہ
منہ پر بولنے والے دل کے صاف ہوتے ہیں
کیا فائدہ دل کی ایسی صفائی کا جو الفاظ کے نشتروں سے دوسروں کے دل دکھا دے؟
کچھ باتیں در گذر کردینا کسی کا دل دکھانے سے ہزار درجہ بہتر ہے
 
ایک جملہ عموماً سننے کو ملتا ہے کہ
منہ پر بولنے والے دل کے صاف ہوتے ہیں
کیا فائدہ دل کی ایسی صفائی کا جو الفاظ کے نشتروں سے دوسروں کے دل دکھا دے؟
کچھ باتیں در گذر کردینا کسی کا دل دکھانے سے ہزار درجہ بہتر ہے
چار رویے ہو سکتے ہیں۔
سب سے برا رویہ یہ ہے کہ دل میں بھی رکھا جائے اور بار بار منہ پر بھی کہا جائے۔
اس سے کم برا رویہ یہ ہے کہ منہ پر تو اچھا رہا جائے، مگر دل میں بغض، کینہ رکھ لیاجائے۔ بلکہ اگر منہ پر اچھا ہو اور پیٹھ پیچھے برا بھلا کہتا رہے تو منہ پر برا کہنے والے سے زیادہ برا رویہ ہے۔
اس سے کم برا یہ ہے کہ منہ پر بول دیا جائے، اور دل سے نکال دیا جائے۔
اور سب سے اچھا رویہ یہ ہے کہ منہ پر بھی کچھ نہ کہا جائے، اور درگزر کرتے ہوئے دل بھی صاف کر لیا جائے۔
 

رباب واسطی

محفلین
لوگ چاہیے ہمارے متعلق جیسی بھی رائے رکھیں، یہ انکی سوچ ہے جس پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی..
ہمارا عمل اور ردِ عمل ہماری اصل پہچان ہے جس پر ہمیں مکمل اختیار ہونا چاہیئے
 

رباب واسطی

محفلین
بڑی محنت کرکے ایک غزل لکھی اور دوستوں کو سنانے بیٹھی تو صرف پہلا شعر کہہ پائی تھی کہ
کسی نے آئس کریم، کسی نے پاپ کارن اور کسی نے لیز کا پیکٹ کھول کر منہ بھر دیا
کیا بتاوٗں میرے تو آنسو نکل آئے اس اتنی زبردست حوصلہ افزائی اور داد پر
 

عرفان سعید

محفلین
ہمارے گھر کے بل کھاتے ہوئے زینوں سے چھت کی اونچائی 20 فٹ سے اوپر ہے۔ ہم نے تنِ تنہا سارے گھر کو رنگ کر ڈالا لیکن اتنی اونچائی تک کیسے پہنچا جائے اس نے ہمیں شدید الجھن میں ڈالے رکھا۔

روزمرہ کی باتیں

آپ خود دیکھیں ان مڑتے زینوں پر ہموار سطح انتہائی کم ہے۔ حفاظتی تدابیر مدِ نظر رکھتے ہوئے بھی کوئی سیڑھی کھڑی کر کے اس پر چڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔
c2GTnBk.jpg

EjfHYhX.jpg

NEGsckx.jpg


کسی پیشہ ور کی خدمات لیتے ہوئے معاوضے پر یہ کام کروانا چنداں مشکل نہیں۔ لیکن ہم نے سارا گھر خود پینٹ کیا تھا اور جس طرح اپنی غزل کہہ کر کسی اور کا مقطع نہیں لیا جا سکتا اس طرح ہمیں ایسی کوئی خدمت لینے میں اپنی عزتِ نفس کا سودا محسوس ہو رہا تھا۔ یہ ٹھان لیا تھا کہ کرنا خود ہے اور اس وقت تک نہیں کرنا جب تک مکمل طور پر خود کو محفوظ ہونے کا احساس نہ ہو۔

ہم نے بھی در در کی خاک چھانی۔ دو چار تعمیراتی کمپنیوں سے بھی بات کی کہ وہ کوئی عارضی پلیٹ فارم بنانے کا خام مواد کرائے پر مہیا کر دیں تو پلیٹ فارم خود بنا کر رنگ کی اس بازی کو ہم تمام کریں۔ لیکن طویل گفت و شنید کے بعد بھی جو حل انہوں نے تجویز کیے ان میں بھی یک گونہ خطرہ تھا۔ ہمارے گھر والوں اور رفقا کا خیال تھا کہ ہم اس رنگ بازی سے باز آ جائیں گے لیکن ہمارے ذہن میں اقبال کے یہ الفاظ "خودی کو کر بلند" بار بار گونج رہے تھے۔ آخر ہمارے ذہن میں ایک حل آ ہی گیا۔ ایک پورا دن ہمیں سوچتے، سیڑھیوں کی پیمائش کرتے اور نقشہ پیمائی کرتے گزر گیا۔ آخر کار اپنے خیال کو ایک ڈیزائن کی شکل میں ہم نے کاغذ پر منتقل کیا۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمیں اب قلی، مستری اور مزدور کے ساتھ ساتھ ترکھان بھی بننا تھا۔
ہم ایک لکڑیوں کی دوکان پر گئے، مطلوبہ لکڑیاں خرید کر انہیں پیمائش کے مطابق خود آریوں سے کاٹتے چلے گئے۔

KgdIjuC.jpg

foIs9C7.jpg

Z9nFn0A.jpg


اب مرحلہ تھا ان لکڑیوں کو ڈیزائن کے مطابق زینوں پر پلیٹ فارم بنانے کے لیے فٹ کرنا۔ چار پانچ گھنٹے کی محنتِ شاقہ کے بعد تنِ تنہا ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
n1E8ZIW.jpg


پلیٹ فارم کو متوازن رکھنے کے لیے ہم نے کل 9 ٹانگیں لگائیں۔
HANuPzP.jpg


یہ رہا ہمارا بنایا ہوا لکڑی کا پلیٹ فارم
joojWSk.jpg


بلندی سے پلیٹ فارم

v0P7op9.jpg

yg0asMJ.jpg


اس پلیٹ فارم پر سیڑھی رکھتے ہوئے ہم نے آخر کار اپنی رنگ بازی کی داستان مکمل کر لی۔
 
آخری تدوین:
ہمارے گھر کے بل کھاتے ہوئے زینوں سے چھت کی اونچائی 20 فٹ سے اوپر ہے۔ ہم نے تنِ تنہا سارے گھر کو رنگ کر ڈالا لیکن اتنی اونچائی تک کیسے پہنچا جائے اس نے ہمیں شدید الجھن میں ڈالے رکھا۔

روزمرہ کی باتیں

آپ خود دیکھیں ان مڑتے زینوں پر ہموار سطح انتہائی کم ہے۔ حفاظتی تدابیر مدِ نظر رکھتے ہوئے بھی کوئی سیڑھی کھڑی کر کے اس پر چڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔
c2GTnBk.jpg

EjfHYhX.jpg

NEGsckx.jpg


کسی پیشہ ور کی خدمات لیتے ہوئے معاوضے پر یہ کام کروانا چنداں مشکل نہیں۔ لیکن ہم نے سارا گھر خود پینٹ کیا تھا اور جس طرح اپنی غزل کہہ کر کسی اور کا مقطع نہیں لیا جا سکتا اس طرح ہمیں ایسی کوئی خدمت لینے میں اپنی عزتِ نفس کا سودا محسوس ہو رہا تھا۔ یہ ٹھان لیا تھا کہ کرنا خود ہے اور اس وقت تک نہیں کرنا جب تک مکمل طور پر خود کو محفوظ ہونے کا احساس نہ ہو۔

ہم نے بھی در در کی خاک چھانی۔ وو چار تعمیراتی کمپنیوں سے بھی بات کی کہ وہ کوئی عارضی پلیٹ فارم بنانے کا خام مواد کرائے پر مہیا کر دیں تو پلیٹ فارم خود بنا کر رنگ کی اس بازی کو ہم تمام کریں۔ لیکن طویل گفت و شنید کے بعد بھی جو حل انہوں نے تجویز کیے ان میں بھی یک گونہ خطرہ تھا۔ ہمارے گھر والوں اور رفقا کا خیال تھا کہ ہم اس رنگ بازی سے باز آ جائیں گے لیکن ہمارے ذہن میں اقبال کے یہ الفاظ "خودی کو کر بلند" بار بار گونج رہے تھے۔ آخر ہمارے ذہن میں ایک حل آ ہی گیا۔ ایک پورا دن ہمیں سوچتے، سیڑھیوں کی پیمائش کرتے اور نقشہ پیمائی کرتے گزر گئے۔ آخر کار اپنے خیال کو ایک ڈیزائن کی شکل میں ہم نے کاغذ پر منتقل کیا۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمیں اب قلی، مستری اور مزدور کے ساتھ ساتھ ترکھان بھی بننا تھا۔
ہم ایک لکڑیوں کی دوکان پر گئے، مطلوبہ لکڑیاں خرید کر انہیں پیمائش کے مطابق خود آریوں سے کاٹتے چلے گئے۔

KgdIjuC.jpg

foIs9C7.jpg

Z9nFn0A.jpg


اب مرحلہ تھا ان لکڑیوں کو ڈیزائن کے مطابق زینوں پر پلیٹ فارم بنانے کے لیے فٹ کرنا۔ چار پانچ گھنٹے کی محنتِ شاقہ کے بعد تنِ تنہا ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
n1E8ZIW.jpg


پلیٹ فارم کو متوازن رکھنے کے لیے ہم نے کل 9 ٹانگیں لگائیں۔
HANuPzP.jpg


یہ رہا ہمارا بنایا ہوا لکڑی کا پلیٹ فارم
joojWSk.jpg


بلندی سے پلیٹ فارم

v0P7op9.jpg

yg0asMJ.jpg


اس پلیٹ فارم پر سیڑھی رکھتے ہوئے ہم نے آخر کار اپنی رنگ بازی کی داستان مکمل کر لی۔
سر جی۔ سیلوٹ
 

عرفان سعید

محفلین
جی بالکل۔ :)
لقمہ ہاتھ میں ہی رہ رہ جاتا ہے۔ ہر دو لقموں کے درمیان ایک آدھ مراسلے کا فاصلہ واقع ہورہا ہے۔
انصاری صاحب آپ کا حوصلہ ہے!
ورنہ ڈاکٹر نے کھانے میں ایسے مراسلوں سے سختی سے پرہیز بتایا ہے کیوں کہ ذہن اور معدے دونوں پر شدید اثرات کا خدشہ ہے!
 
ہمارے گھر کے بل کھاتے ہوئے زینوں سے چھت کی اونچائی 20 فٹ سے اوپر ہے۔ ہم نے تنِ تنہا سارے گھر کو رنگ کر ڈالا لیکن اتنی اونچائی تک کیسے پہنچا جائے اس نے ہمیں شدید الجھن میں ڈالے رکھا۔

روزمرہ کی باتیں

آپ خود دیکھیں ان مڑتے زینوں پر ہموار سطح انتہائی کم ہے۔ حفاظتی تدابیر مدِ نظر رکھتے ہوئے بھی کوئی سیڑھی کھڑی کر کے اس پر چڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔
c2GTnBk.jpg

EjfHYhX.jpg

NEGsckx.jpg


کسی پیشہ ور کی خدمات لیتے ہوئے معاوضے پر یہ کام کروانا چنداں مشکل نہیں۔ لیکن ہم نے سارا گھر خود پینٹ کیا تھا اور جس طرح اپنی غزل کہہ کر کسی اور کا مقطع نہیں لیا جا سکتا اس طرح ہمیں ایسی کوئی خدمت لینے میں اپنی عزتِ نفس کا سودا محسوس ہو رہا تھا۔ یہ ٹھان لیا تھا کہ کرنا خود ہے اور اس وقت تک نہیں کرنا جب تک مکمل طور پر خود کو محفوظ ہونے کا احساس نہ ہو۔

ہم نے بھی در در کی خاک چھانی۔ دو چار تعمیراتی کمپنیوں سے بھی بات کی کہ وہ کوئی عارضی پلیٹ فارم بنانے کا خام مواد کرائے پر مہیا کر دیں تو پلیٹ فارم خود بنا کر رنگ کی اس بازی کو ہم تمام کریں۔ لیکن طویل گفت و شنید کے بعد بھی جو حل انہوں نے تجویز کیے ان میں بھی یک گونہ خطرہ تھا۔ ہمارے گھر والوں اور رفقا کا خیال تھا کہ ہم اس رنگ بازی سے باز آ جائیں گے لیکن ہمارے ذہن میں اقبال کے یہ الفاظ "خودی کو کر بلند" بار بار گونج رہے تھے۔ آخر ہمارے ذہن میں ایک حل آ ہی گیا۔ ایک پورا دن ہمیں سوچتے، سیڑھیوں کی پیمائش کرتے اور نقشہ پیمائی کرتے گزر گیا۔ آخر کار اپنے خیال کو ایک ڈیزائن کی شکل میں ہم نے کاغذ پر منتقل کیا۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمیں اب قلی، مستری اور مزدور کے ساتھ ساتھ ترکھان بھی بننا تھا۔
ہم ایک لکڑیوں کی دوکان پر گئے، مطلوبہ لکڑیاں خرید کر انہیں پیمائش کے مطابق خود آریوں سے کاٹتے چلے گئے۔

KgdIjuC.jpg

foIs9C7.jpg

Z9nFn0A.jpg


اب مرحلہ تھا ان لکڑیوں کو ڈیزائن کے مطابق زینوں پر پلیٹ فارم بنانے کے لیے فٹ کرنا۔ چار پانچ گھنٹے کی محنتِ شاقہ کے بعد تنِ تنہا ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
n1E8ZIW.jpg


پلیٹ فارم کو متوازن رکھنے کے لیے ہم نے کل 9 ٹانگیں لگائیں۔
HANuPzP.jpg


یہ رہا ہمارا بنایا ہوا لکڑی کا پلیٹ فارم
joojWSk.jpg


بلندی سے پلیٹ فارم

v0P7op9.jpg

yg0asMJ.jpg


اس پلیٹ فارم پر سیڑھی رکھتے ہوئے ہم نے آخر کار اپنی رنگ بازی کی داستان مکمل کر لی۔
واہ کیا خوب جوگاڑ بنایا ہے ،
پاکستانی کی یہی تو خاص پہچان ہے ۔
 

ہادیہ

محفلین
ہمارے گھر کے بل کھاتے ہوئے زینوں سے چھت کی اونچائی 20 فٹ سے اوپر ہے۔ ہم نے تنِ تنہا سارے گھر کو رنگ کر ڈالا لیکن اتنی اونچائی تک کیسے پہنچا جائے اس نے ہمیں شدید الجھن میں ڈالے رکھا۔

روزمرہ کی باتیں

آپ خود دیکھیں ان مڑتے زینوں پر ہموار سطح انتہائی کم ہے۔ حفاظتی تدابیر مدِ نظر رکھتے ہوئے بھی کوئی سیڑھی کھڑی کر کے اس پر چڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔
c2GTnBk.jpg

EjfHYhX.jpg

NEGsckx.jpg


کسی پیشہ ور کی خدمات لیتے ہوئے معاوضے پر یہ کام کروانا چنداں مشکل نہیں۔ لیکن ہم نے سارا گھر خود پینٹ کیا تھا اور جس طرح اپنی غزل کہہ کر کسی اور کا مقطع نہیں لیا جا سکتا اس طرح ہمیں ایسی کوئی خدمت لینے میں اپنی عزتِ نفس کا سودا محسوس ہو رہا تھا۔ یہ ٹھان لیا تھا کہ کرنا خود ہے اور اس وقت تک نہیں کرنا جب تک مکمل طور پر خود کو محفوظ ہونے کا احساس نہ ہو۔

ہم نے بھی در در کی خاک چھانی۔ دو چار تعمیراتی کمپنیوں سے بھی بات کی کہ وہ کوئی عارضی پلیٹ فارم بنانے کا خام مواد کرائے پر مہیا کر دیں تو پلیٹ فارم خود بنا کر رنگ کی اس بازی کو ہم تمام کریں۔ لیکن طویل گفت و شنید کے بعد بھی جو حل انہوں نے تجویز کیے ان میں بھی یک گونہ خطرہ تھا۔ ہمارے گھر والوں اور رفقا کا خیال تھا کہ ہم اس رنگ بازی سے باز آ جائیں گے لیکن ہمارے ذہن میں اقبال کے یہ الفاظ "خودی کو کر بلند" بار بار گونج رہے تھے۔ آخر ہمارے ذہن میں ایک حل آ ہی گیا۔ ایک پورا دن ہمیں سوچتے، سیڑھیوں کی پیمائش کرتے اور نقشہ پیمائی کرتے گزر گیا۔ آخر کار اپنے خیال کو ایک ڈیزائن کی شکل میں ہم نے کاغذ پر منتقل کیا۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمیں اب قلی، مستری اور مزدور کے ساتھ ساتھ ترکھان بھی بننا تھا۔
ہم ایک لکڑیوں کی دوکان پر گئے، مطلوبہ لکڑیاں خرید کر انہیں پیمائش کے مطابق خود آریوں سے کاٹتے چلے گئے۔

KgdIjuC.jpg

foIs9C7.jpg

Z9nFn0A.jpg


اب مرحلہ تھا ان لکڑیوں کو ڈیزائن کے مطابق زینوں پر پلیٹ فارم بنانے کے لیے فٹ کرنا۔ چار پانچ گھنٹے کی محنتِ شاقہ کے بعد تنِ تنہا ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
n1E8ZIW.jpg


پلیٹ فارم کو متوازن رکھنے کے لیے ہم نے کل 9 ٹانگیں لگائیں۔
HANuPzP.jpg


یہ رہا ہمارا بنایا ہوا لکڑی کا پلیٹ فارم
joojWSk.jpg


بلندی سے پلیٹ فارم

v0P7op9.jpg

yg0asMJ.jpg


اس پلیٹ فارم پر سیڑھی رکھتے ہوئے ہم نے آخر کار اپنی رنگ بازی کی داستان مکمل کر لی۔
واہ واہ۔۔۔ زبردست۔۔:thumbsup::applause:
ہمت مرداں مددِ خُدا۔۔۔ بے شک ۔۔۔
 
ہمارے گھر کے بل کھاتے ہوئے زینوں سے چھت کی اونچائی 20 فٹ سے اوپر ہے۔ ہم نے تنِ تنہا سارے گھر کو رنگ کر ڈالا لیکن اتنی اونچائی تک کیسے پہنچا جائے اس نے ہمیں شدید الجھن میں ڈالے رکھا۔

روزمرہ کی باتیں

آپ خود دیکھیں ان مڑتے زینوں پر ہموار سطح انتہائی کم ہے۔ حفاظتی تدابیر مدِ نظر رکھتے ہوئے بھی کوئی سیڑھی کھڑی کر کے اس پر چڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔
c2GTnBk.jpg

EjfHYhX.jpg

NEGsckx.jpg


کسی پیشہ ور کی خدمات لیتے ہوئے معاوضے پر یہ کام کروانا چنداں مشکل نہیں۔ لیکن ہم نے سارا گھر خود پینٹ کیا تھا اور جس طرح اپنی غزل کہہ کر کسی اور کا مقطع نہیں لیا جا سکتا اس طرح ہمیں ایسی کوئی خدمت لینے میں اپنی عزتِ نفس کا سودا محسوس ہو رہا تھا۔ یہ ٹھان لیا تھا کہ کرنا خود ہے اور اس وقت تک نہیں کرنا جب تک مکمل طور پر خود کو محفوظ ہونے کا احساس نہ ہو۔

ہم نے بھی در در کی خاک چھانی۔ دو چار تعمیراتی کمپنیوں سے بھی بات کی کہ وہ کوئی عارضی پلیٹ فارم بنانے کا خام مواد کرائے پر مہیا کر دیں تو پلیٹ فارم خود بنا کر رنگ کی اس بازی کو ہم تمام کریں۔ لیکن طویل گفت و شنید کے بعد بھی جو حل انہوں نے تجویز کیے ان میں بھی یک گونہ خطرہ تھا۔ ہمارے گھر والوں اور رفقا کا خیال تھا کہ ہم اس رنگ بازی سے باز آ جائیں گے لیکن ہمارے ذہن میں اقبال کے یہ الفاظ "خودی کو کر بلند" بار بار گونج رہے تھے۔ آخر ہمارے ذہن میں ایک حل آ ہی گیا۔ ایک پورا دن ہمیں سوچتے، سیڑھیوں کی پیمائش کرتے اور نقشہ پیمائی کرتے گزر گیا۔ آخر کار اپنے خیال کو ایک ڈیزائن کی شکل میں ہم نے کاغذ پر منتقل کیا۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمیں اب قلی، مستری اور مزدور کے ساتھ ساتھ ترکھان بھی بننا تھا۔
ہم ایک لکڑیوں کی دوکان پر گئے، مطلوبہ لکڑیاں خرید کر انہیں پیمائش کے مطابق خود آریوں سے کاٹتے چلے گئے۔

KgdIjuC.jpg

foIs9C7.jpg

Z9nFn0A.jpg


اب مرحلہ تھا ان لکڑیوں کو ڈیزائن کے مطابق زینوں پر پلیٹ فارم بنانے کے لیے فٹ کرنا۔ چار پانچ گھنٹے کی محنتِ شاقہ کے بعد تنِ تنہا ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
n1E8ZIW.jpg


پلیٹ فارم کو متوازن رکھنے کے لیے ہم نے کل 9 ٹانگیں لگائیں۔
HANuPzP.jpg


یہ رہا ہمارا بنایا ہوا لکڑی کا پلیٹ فارم
joojWSk.jpg


بلندی سے پلیٹ فارم

v0P7op9.jpg

yg0asMJ.jpg


اس پلیٹ فارم پر سیڑھی رکھتے ہوئے ہم نے آخر کار اپنی رنگ بازی کی داستان مکمل کر لی۔

واہ بہت خوب جناب
100/100
 
Top