فاخر

محفلین
ايك نو وارد شعر آ پ سبھوں کی خدمت میں پیش ہے ؏
اشک کو ہی نہیں غم کہے گئے ہیں
غم دھویں کی گھٹاؤں کا نام بھی ہے
 

زیرک

محفلین
نگارِ شوق کی بے باکیوں سے کیا حاصل
جو دل اداس ہو رنگینیوں سے کیا حاصل
اسرار ناروی​
 

زیرک

محفلین
ختم راتوں رات اس گُل کی کہانی ہو گئی
رنگ بوسیدہ ہوئے، خوشبو پرانی ہو گئی
اقبال ساجد​
 

زیرک

محفلین
درد بچہ تھا تو سو جاتا تھا تھپکی پہ مِری
اب جواں ہے تو یہ آہوں کی غذا مانگتا ہے
احمد حماد
 

زیرک

محفلین
اپنی منزِل کی طرف، اپنے نصیبے کی طرف
ہم ہی تاخیر سے پہنچے، سو ٹھکانے سے گئے
مبشر سعید​
 
Top