یہ لکھنؤ کی سرزمیں ۔۔۔ یہ لکھنؤ کی سرزمیں

حیدرآبادی نے 'اپنا اپنا دیس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 16, 2008

  1. حیدرآبادی

    حیدرآبادی محفلین

    مراسلے:
    154
    نغمہ : یہ لکھنؤ کی سرزمین ۔۔۔
    فلم : چودھویں کا چاند (1960 ء‫)
    نغمہ نگار : شکیل بدایونی
    گلوکار : رفیع
    موسیقار : روی

    یہ لکھنؤ کی سرزمین ۔۔۔
    یہ لکھنؤ کی سرزمین، یہ لکھنؤ کی سرزمین
    یہ رنگ و روپ کا چمن
    یہ حسن و عشق کا وطن
    یہی تو وہ مقام ہے
    جہاں اودھ کی شام ہے
    جواں جواں ہنسی ہنسی
    یہ لکھنؤ کی سرزمین، یہ لکھنؤ کی سرزمین
    شباب و شعر کا یہ گھر
    یہ اہلِ علم کا نگر
    ہے منزلوں کی گود میں
    یہاں ہر ایک رہگزر
    یہ شہر لال دار ہے
    یہاں دلوں میں پیار ہے
    جدھر نظر اٹھائیے
    بہار ہی بہار ہے
    کلی کلی ہے نازنین
    یہ لکھنؤ کی سرزمین، یہ لکھنؤ کی سرزمین
    یہاں کی سب روایتیں
    ادب کی شاہکار ہیں
    امیر اہلِ دل یہاں
    غریب جانثار ہیں
    ہر ایک شاخ پر یہاں
    ہیں بلبلوں کی چہچہیں
    گلی گلی میں زندگی
    قدم قدم پہ قہقہے
    اہ اک نظارا ہے دلنشیں
    یہ لکھنؤ کی سرزمین
    یہ لکھنؤ کی سرزمین ۔۔۔

    نبھائی اپنی آن بھی
    بڑھائی دل کی شان بھی
    ہیں ایسے مہربان بھی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. حیدرآبادی

    حیدرآبادی محفلین

    مراسلے:
    154
    آج کا لکھنؤ

    فلم شطرنج کے کھلاڑی ، چودھویں کا چاند ، میرے حضور ، پالکی اور دیگر فلموں میں ہندوستان کے ایک معروف شہر لکھنؤ کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا۔
    کیا آج وہی لکھنؤ ہندوستان میں زندہ ہے؟
    اس سوال کا جواب ایک افسوسناک نفی میں دیا جائے گا۔

    لکھنؤ کی شناخت کہی جانے والی بیشتر عمارتوں کا مجموعی طور سے برا حال ہے۔ یہاں کے گلی کوچوں کا وجود خطرے میں پڑ چکا ہے۔
    کوچہ میر انیس ، کوچہ مرزا دبیر ، جھنوائی ٹولہ ، بنجاری ٹولہ ، بزازہ ، نور باڑی ، کاظمین ، کشمیری محلہ ، درگاہ حضرت عباس ، ماموں بھانجے قبر ، چاہ کنکر ، فرنگی محل ، پھول والی گلی ، چوک صرافہ اور بہت سے تاریخی مقامات قابلِ توجہ ہیں۔

    دنیا بھر سے سیاح جب لکھنؤ آتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں یہ تاثر ہوتا ہے کہ اس تاریخی طلسماتی شہر کا حال وہی ہوگا جو انہوں نے کتابوں میں پڑھا یا فلموں میں دیکھا ہے۔ مگر آج کی حقیقت یوں ہے کہ اب یہ شہر فلک بوس عمارتوں ، کثیف ماحول اور ناجائز قبضوں کی بنیاد پر کھڑا ہوا ہے۔ جا بجا کوڑے کے ڈھیر ، ٹوٹی نالیاں ، ان میں بجبجاتے کیڑے ، تاریخی عمارتوں کے درودیوار پر نقش عوام کے کارنامے ، اپنی محبوبہ کا نام لکھنے کے لیے پلاسٹر کا اکھاڑا جانا ، دل کے نشان ، گھٹیا شعر ، بےہودہ فلمی مکالمے اور کہیں کہیں تو فحش فقروں کے ذریعے مغرب والوں کو بھی پیچھا چھوڑا جا چکا ہے۔
    سرکاری حکام کے علاوہ خود عوام کی عدم دلچسپی سے ماضی کا شاندار اثاثہ برباد ہو رہا ہے۔

    جوش ملیح آبادی کا شعر ہے ‫:
    کس نے وعدہ کیا ہے آنے کا
    حسن دیکھو غریب خانے کا

    آہ ! کہ اب صورت مختلف ہے۔ لکھنؤ پر ہزاروں اشعار ، طویل نظمیں اور مضامین پڑھ کر کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ہائے ! کیا ہو گیا اس شہر کو؟
    فلک بوس عمارتوں سے تاریخی محلے چھپ گئے ، باغوں کے اس شہر میں مجسموں کے قبرستان آباد ہو گئے۔ کل کی کھانے والی چیزیں آج کے پیزا ، چاومین ، برگر ، پاستا میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ بالائی ، قلفی ، رابڑی اور ماضی کے دیگر مشہور کھانوں سے نئی نسل کو دلچسپی نہیں۔ ادب کے بازار میں گھٹیا شاعری ، سستی رومانی کتابوں کی حکمرانی ہے۔ سی۔ڈی، ڈی۔وی۔ڈی، ویڈیو کیسٹ ، کان پھاڑنے والے گانے ، غیر مہذب مذاق اور غیرمعیاری لطیفوں نے ایک نئی تہذیب کو جنم دے دیا ہے۔ وہ لکھنؤ اب کہاں جو اپنی شناخت کی وجہ سے تاریخ کا ایک حصہ تھا۔

    مشہور مورخ آغا مہدی اور مولانا عبدالحلیم شرر نے اپنی کتابوں میں جس لکھنؤ کا تذکرہ کیا ہے اس کی دھندلی سی تصویر بھی تلاش کرنے پر نظر نہیں آئے گی۔
    جوش ، انیس ، ناسخ اور لاتعداد شعراء و ادباء کی اس سرزمین کا حالِ زار دیکھ کر کوئی بھی حساس انسان آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    روز بروز آہستہ آہستہ لکھنؤ مر رہا ہے !! اور بےحسی ، بےعملی ، بےمروتی اور پست ہمتی کا ثبوت دیتے ہوئے ڈھیٹ سرکاری حکام کے ساتھ ساتھ مردہ دل شہری بھی اپنے اس لاثانی ورثہ سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

    تاریخ بھول رہے ہیں ، تاریخ ہم کو فراموش نہیں کرے گی ‫!!

    (سید حسین اختر کے مضمون کے ایک حصے سے شکریہ کے ساتھ استفادہ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,847
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت اچھے حیدرآبادی! کاش میں کل کے اودھ کو دیکھ سکتا-
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,727
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    فلم چودھویں کا چاند ہی دیکھ لیں کہیں مل جائے تو، اس سے لکھنؤ کا کلچر دیکھنے کو مل جائے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,847
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اعجاز صاحب فلموں میں‌تو اودھ بہت دیکھا - اور چودھویں‌کا چاند فلم بھی کئ بار دیکھی - گرو دت کی - لیکن اصل اودھ تو نہیں‌ دیکھ سکتے حضور -
     
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,069
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میں نے تھوڑا سا لکھنؤ بھی دیکھا ہے اور

    چودہویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
    جو بھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو

    بابا ٹیون بدلو۔۔۔۔
     
  7. دوست محمد

    دوست محمد محفلین

    مراسلے:
    7
    یہ رنگ و روپ کا چمن
    یہ حسن و عشق کا وطن
    یہی تو وہ مقام ہے
    جہاں اودھ کی شام ہے
    جواں جواں ہنسی ہنسی
    مندرجہ بالا قطع آپ نے کچھ تبدیلی کے ساتھ درج کیا ہے
    اصل عبارت کچھ اس طرح ہے۔
    جہان اودھ کی شان بھی
    جواں جواں حسیں حسیں
     
  8. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    1,303
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کیا اودھ اور لکھنؤ ایک ہی جگہ کے دو نام ہیں؟
     
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,279
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اودھ ایک ریاست کا نام تھا جس کا ایک شہر لکھنؤ تھا۔ اودھ کے دوسرے مشہور شہروں میں بنارس، ایودھیا، الہ آباد، فیض آباد، امیٹھی، رائے بریلی وغیرہ شامل ہیں۔ آج کل اودھ کا علاقہ انڈین ریاست اتر پردیش کا حصہ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  10. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,658
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    وارث بھائی اس بہانے یہ بھی بتاتے جائیے کہ "صبح بنارس، شام اودھ" کا کیا پس منظر ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,279
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یہی سنا ہے کہ بنارس میں گنگا کے گھاٹ پر، اور اتر پردیش کے زرخیز میدانوں میں، صبح و شام کا منظر انتہائی دلفریب ہوتا ہے۔ اس کا کچھ ذکر جوش ملیح آبادی نے یادوں کی برات میں بھی کیا ہے۔ ملیح آباد بھی اودھ ہی کا حصہ تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    1,303
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت شکریہ محمد وارث بھیا۔ ایک الجھن ابھی باقی ہے۔ بنارس اودھ ریاست کا حصہ رہا ہے لیکن یہ جو کہتے ہیں کہ صبحِ بنارس اور شامِ اودھ، تو بنارس کا ذکر الگ سے کیوں کیا گیا ہے؟
     
  13. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,489
    جھنڈا:
    Pakistan
    چوں کہ بنارس ہندوؤں کا ایک مقدس شہر ہے، چناں چہ وہاں مندروں کی بہتات ہے۔۔۔
    اس لیے بنارس کی صبح کی ایک وجۂ شہرت وہاں ان مندروں پر سورج کی روشنی میں چمکتے سنہری کلس اور گھنٹیوں کی آوازوں کا سماں بھی ہے!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,489
    جھنڈا:
    Pakistan
    تذکرۂ ہند سے یاد آیا کہ فہد اشرف بھی شاید جامعہ ملیہ میں پڑھتے تھے۔۔۔
    حالیہ حملوں کے بعد ان کی کوئی خیر خبر؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,279
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جہاں تک میرے علم میں ہے وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ لیکن حالات شاید وہاں بھی کشیدہ ہی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,489
    جھنڈا:
    Pakistan
    بے شک ترقی و تبدل اپنے قدموں تلے ہر چیز و ناچیز کو روندتی چلی آتی ہے۔۔۔
    لیکن کیا ہو اگر شہر کے چند مخصوص علاقے زمانے کی دست برد سے محفوظ کرکے تاریخی ورثہ بنالیے جائیں!!!
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  17. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    9,403
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    محفل کے محمد علم اللہ بھائی صاحب بھی کافی باخبر ہیں اس معاملے میں ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  18. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,263
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    وہ جامعہ ملیہ کے واقعات کے عینی شاہد ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  19. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,489
    جھنڈا:
    Pakistan
    کہیں شئیر کیے ہیں ؟؟؟
     
  20. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,263
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    فیس بک پر ان کی پروفائل
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر