درد ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک! جستجو کریں - خواجہ میر درد

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک! جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے - جو کچھ آرزو کریں

تر دامنی پہ شیخ! ہماری نہ جا - ابھی
دامن نچوڑ دیں - تو فرشتے وضو کریں
( اس شعر کو میں کسی اور طرح پڑھا تھا شاید)

سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال؟ جو کچھ گفتگو کریں

ہر چند آئینہ ہوں - پر اِتنا ہوں نا قبول
منہ پھیر لے وہ - جس کے مجھے روبرو کریں

نے گل کو ہے ثبات - نہ ہم کو ہے اعتبار
کس بات پر چمن ! ہوسِ رنگ و بو کریں

خواجہ میر درد
 

فرخ منظور

لائبریرین
تر دامنی پہ شیخ! ہماری نہ جا - ابھی
دامن نچوڑ دیں - تو فرشتے وضو کریں
( اس شعر کو میں کسی اور طرح پڑھا تھا شاید)

بھائی اگر آپ دوسری سائٹ سے مواد کاپی پیسٹ کر کے یہاں رکھیں گے تو اکثر اشعار آپ کو غلط ہی لکھے ملیں گے۔ کوشش کریں کہ کسی کتاب سے دیکھ کر ٹائپ کریں۔ یہ شعر صحیح یوں ہے۔

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
 
بھائی اگر آپ دوسری سائٹ سے مواد کاپی پیسٹ کر کے یہاں رکھیں گے تو اکثر اشعار آپ کو غلط ہی لکھے ملیں گے۔ کوشش کریں کہ کسی کتاب سے دیکھ کر ٹائپ کریں۔ یہ شعر صحیح یوں ہے۔

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

بھائی جی یہ ایک کتاب سے ہی دیکھ کر لکھا گیا ہے ۔ کسی سائٹ سے کاپی نہیں کیا گیا ۔
 
28l4aia.jpg
[/IMG]
 

فرخ منظور

لائبریرین
قبلہ کیا پتہ یہ کتاب مستند بھی ہے یا نہیں۔ اگر آپ کے پاس یہ کتاب سافٹ حالت میں ہے تو براہِ مہربانی لنک یہاں شئیر کردیں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ محترم سدا بہار غزل شیئر کرنے کیلیے!

مذکورہ شعر تو میرے ذہن میں بھی عرصۂ دراز سے 'جائیو' کے ساتھ ہے، لیکن کیا کروں کہ یہ "سرپرائز" پہلا نہیں ہے، اور بھی ایسے کئی لازوال شعر نظر سے گزرتے رہتے ہیں جو کہ مختلف ہوتے ہیں، فرحت نے اسی موضوع پر ایک تحریر بھی شریکِ محفل کی تھی جس میں اسطرح کے "مسئلے" بیسیوں اشعار کے ساتھ ہیں!

اس کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں، یہ شعر، مستثنیات کے علاوہ، اردو شاعری کے عہدِ قدیم سے تعلق رکھتے ہیں اور اردو شاعری کے صحیح معنوں میں جو شعراء اکرام معمار ہیں، میر، سودا، درد اور انکے عہد یا فوری بعد زمانے کے بے شمار شعرا، یہ انہی کے کلام میں سے ہیں۔ اس زمانے یا اس سے قبل کے زمانے کا یہ حال ہے کہ ولی دکنی کے نام پر بھی محققین متفق نہیں ہیں۔

کاتبین کی غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں کہ اس زمانے کے کاتبین بھی تو موزوں طبع ہوتے تھے، لہذا شعر میں وزن کا سقم نہیں ہو سکتا، املاء کا ہو سکتا ہے! (افسوس صد افسوس کہ اب موزوں طبع کاتبین بھی نہیں رہے، اب کمپوزنگ پر، ناشرین اُن نیم ان پڑھ نوجوانوں کو کم تنخواہوں پر ملازم رکھتے ہیں جو مجرم تو جانتے ہیں لیکن 'محرم' کس چڑیا کا نام ہے وہ نہیں جانتے نتیجتہً شعر و ادب کی کتب میں ایسی فاش اغلاط دیکھنے کو ملتی ہیں کہ اللہ کی پناہ)!

اور پھر خود شعراء اکرام بھی تو اپنے کلام میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں، کوئی بہتر شعر اگر تھوڑی سی تبدیلی سے بہترین ہو سکتا ہے تو میرے خیال میں کوئی شاعر اس تبدیلی سے گریز نہیں کرتا۔

کیا علم کہ درد نے خود ہی 'جا ابھی' کو 'جائیو' کر دیا ہو کہ اس ذرا سی تبدیلی سے بقول میر، شعر بہ آسمان رسد :)
 

فرخ منظور

لائبریرین
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں

مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمایاں
ہم آئینہ کے سامنے جب آ کے "ہُو" کریں

تر دامنی پہ شیخ! ہماری نہ جا، ابھی
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال؟ جو کچھ گفتگو کریں

ہر چند آئینہ ہوں پر اِتنا ہوں نا قبول
منہ پھیر لے وہ جس کے مجھے روبرو کریں

نہ گل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبار
کس بات پر چمن، ہوسِ رنگ و بو کریں

ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدانِ شہر
اے درد آ کے بیعتِ دستِ سبو کریں

(خواجہ میر درد)
 
پیاسا صحرا بھائی ، فرح منظور بھائی اور محمد وارث بھائی آپ سب کا بہت بہت شکریہ

سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال؟ جو کچھ گفتگو کریں

ہر چند آئینہ ہوں پر اِتنا ہوں نا قبول
منہ پھیر لے وہ جس کے مجھے روبرو کریں​
بھائیوں برا نہ منائیو ہماری ناقص سی رائے ہے کہ اشعار کی الائنمنٹ سنٹر رکھنی چاہئے تاکہ اشعار کا حسن دیکھنے میں بھی برقرار رہے​
 
Top