سولھویں سالگرہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

سید رافع

محفلین
یہ تو وہی بات کی آپ نے۔ جو پی سی بی کے پالسیوں کے خلاف بات کرے اسے عہدہ دے کر چپ کروا دو۔ دھن ہو مہاراج، ایسی لفٹ آپ کو ہی مبارک۔ ہم باز آئے۔۔۔ ہم نے عمومی بات کی، اور آپ لوگ شاید اسے ہمارا ذاتی مسئلہ سمجھ رہے ہیں۔

وسیم بھائی! ماشاء اللہ آپ اچھے لکھاری ہیں۔ آپ نے جن کا نام لکھا تھا میں ان سے واقف ہوں۔ یہ فورم سولہ سال سے ایسے ہی چل رہا ہے کہ درزی، سلائی کڑھائی، پرنٹنگ پریس میں کام کرنے والے سے لے کر شاعر ادیب سائنسدان اور درس نظامی کے فارغ سب یہاں آتے ہیں۔ ضروری نہیں سب سے آپ کی بن جائے یا سب آپکی بات سے متفق ہوں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ دوسروں سے متفق ہوں۔ محفل اجاڑ نہیں ہو گی کیونکہ سینکڑوں لوگ یہاں اپنے من پسند موضوعات پر لکھتے پڑھتے ہیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ بعض محفلین بیمار ہیں، بعض معاشی پریشانیوں میں ہیں، بعض لاوبالی ہیں۔ سو جب مراسلہ لکھیں تو یوں سمجھ لیں کہ کراچی کے اردو بازار چوک پر کچھ کہہ رہے ہیں۔ رفتہ رفتہ لوگ آپ کے کلام اور آپکی پسند ناپسند سے واقف ہو جائیں گے اور دوست بن جائیں گے۔ بس آپ اپنے پسند کے موضوعات سے محفل کو معطر کرتے رہیں۔ یہاں ہر روز کوئی اچھا گل، بوٹا، درخت لگاتے رہیں۔ انشاء اللہ ایک دن ایک خوبصورت بہار آپ کے ذریعے آئے گی۔
 

وسیم

محفلین
اردو کے جتنے فورم وجود میں آئے ان میں سے یہ شاید آخری چراغ ہے، جو اب تک جگمگا رہا ہے ۔۔۔ اردو کی کسی نہ کسی حیثیت میں خدمت تو ہو رہی ہے ۔۔۔ میرے خیال میں اتنی بڑی کوئی دوسری ویب سائٹ نہیں ہوگی جہاں یونیکوڈ میں لکھے گئے الفاظ کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہو اور جو املا کی درستی پر خصوصی توجہ کی وجہ سے کسی حد معیاری بھی قرار دیا جا سکے۔ اردو اے آئی میں کام کرنے والوں کے لیے یہ کسی بیش بہا خزانے سے کم نہیں ۔۔۔ نہیں؟

عزیزی احسن سمیع:

اردو کی خدمت کیا صرف املاء درست کروانا ہے؟ کیا "جینئس آف اردو" جیسی لڑیاں اردو کی خدمت کر رہی ہیں(جینئس آف - شاید اردو کے ہی الفاظ ہیں)؟ کوئی ایک لڑی دکھا دیں جہاں اردو کی خدمت ہو رہی ہو۔ نئے شاعری کی ایک لڑی میں، میں نے مشورہ دیا کہ جب کوئی اپنی شاعری اصلاح کے لیے پیش کرے تو ساتھ اس کی بحر اور وزن بھی لکھ دے جیسے فعولن فعولن فعولن فعولن اور بحر کا نام

تا کہ ہم جیسے نہلے بھی کچھ تقطیع کر کے اساتذہ کی باتیں سمجھ سکیں۔ لیکن کوئی لفٹ نہیں۔ کیا یہ اردو سکھانے اور اس کی خدمت کا مشورہ نہیں تھا(صرف مثال مقصود ہے، ذاتی نظر اندازی کی بات نا لگا دیجیے گا) ایسی ہی اور بھی مثالیں ہیں۔ ہاں ٹوئیٹر کی طرح کسی لڑکی نے کہہ دیا، میرے پاؤں میں موچ ہے تو سب موچ کے خاتمے کے لیے مثنوی اور حافظ کے کلام تک سے علاج اور فال نکال لائیں گے۔

اردو کی خدمت یہ ہے کہ اردو ویب محفل اعلٰی سے اعلٰی درجے کے افسانے، شاعری، ناولز اور دیگر تخلیقات کو نا صرف پروموٹ کرے بلکہ مصنفین پہ کڑی سے کڑی تنقید کرے (ذاتی نہیں، اس کے مواد پر) تا کہ نا صرف اردو محفل کا میعار بلند ہو بلکہ اردو دنیا میں ایک نام ہو کہ اس محفل سے شہکار افسانے، شاعری اور ناول تخلیق پا رہے ہیں۔

اس سے نئے آنے والوں کی نا صرف تربیت ہو گی بلکہ پرانے ان کی سرپرستی کر کے ان کی صلاحیتوں کے نکھار میں بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

نئی تو محمد احمد بھائی تو ہیں ہی۔ ہر دوسرے دن ناسٹلجیا سے دل کے پھپھولے پھوڑتے رہیں گے۔

:LOL:
 
آخری تدوین:
وسیم بھائی
آپ کا نقطۂ نظر تفصیل سے آ گیا، اس کی موافقت اور مخالفت دونوں میں بات آ گئی۔
اب الاسٹک کی طرح کھینچتے رہنا لایعنی عمل ہے۔

اب آپ اپنی طرف سے محفل میں جو مفید شراکت کر سکتے ہیں، اس پر فوکس کیجیے، اور اپنے عمل سے لوگوں کے لیے مشعلِ راہ بنیے۔ :)
 

وسیم

محفلین
وسیم بھائی! ماشاء اللہ آپ اچھے لکھاری ہیں۔ آپ نے جن کا نام لکھا تھا میں ان سے واقف ہوں۔ یہ فورم سولہ سال سے ایسے ہی چل رہا ہے کہ درزی، سلائی کڑھائی، پرنٹنگ پریس میں کام کرنے والے سے لے کر شاعر ادیب سائنسدان اور درس نظامی کے فارغ سب یہاں آتے ہیں۔ ضروری نہیں سب سے آپ کی بن جائے یا سب آپکی بات سے متفق ہوں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ دوسروں سے متفق ہوں۔ محفل اجاڑ نہیں ہو گی کیونکہ سینکڑوں لوگ یہاں اپنے من پسند موضوعات پر لکھتے پڑھتے ہیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ بعض محفلین بیمار ہیں، بعض معاشی پریشانیوں میں ہیں، بعض لاوبالی ہیں۔ سو جب مراسلہ لکھیں تو یوں سمجھ لیں کہ کراچی کے اردو بازار چوک پر کچھ کہہ رہے ہیں۔ رفتہ رفتہ لوگ آپ کے کلام اور آپکی پسند ناپسند سے واقف ہو جائیں گے اور دوست بن جائیں گے۔ بس آپ اپنے پسند کے موضوعات سے محفل کو معطر کرتے رہیں۔ یہاں ہر روز کوئی اچھا گل، بوٹا، درخت لگاتے رہیں۔ انشاء اللہ ایک دن ایک خوبصورت بہار آپ کے ذریعے آئے گی۔

حضور، ہم تو سب کی لڑیوں پہ جاتے ہیں۔۔ سب سے بات کرتے ہیں، یہ اور بات ہے ہم کسی "دبستان" سے وابستہ نہیں۔ آپ کے امریکہ و دیگر افسانوں پہ تنقید بھی کی اور جہاں اچھا لگا تعریف بھی کی، کیونکہ کسی کے سفرنامے پڑھنے سے اندازِ بیاں سیکھنے کو ملتا ہے۔

وجہ صرف یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں اچھے سے اچھے اردو کی خدمت والا ماحول ہو۔ مسابقتی ماحول ہو۔ باقی زور زبردستی تو ہماری کسی سے ہے نہیں۔ وہ کیا گانا ہے جو دے اس کا بھی بھلا جو نا دے اس کا بھی بھلا۔ جب آپ کسی پہ تنقید ہی نہیں کر رہے، اس کے تحریر میں خامی ہی نہیں نکال رہے تو میعار کیسے بلند ہو گا۔ یقین کریں آپ یہاں میعار بلند کریں، لوگ خود بھاگ بھاگ کر آئیں گے کہ اردو محفل سے اپنی اصلاح کروائی جائے وہاں اپنے مواد کو پیش کیا جائے یا وہاں سے سیکھا جائے۔

باقی حضور آپ سب بڑے ہی اس فورم کے ستون ہیں۔ ہم تو اپنا بوریا بستر سمیٹ کر چُپ چاپ کونے میں پڑے حقہ گڑگڑاتے اور چائے پیتے رہیں گے۔
 

وسیم

محفلین
وسیم بھائی
آپ کا نقطۂ نظر تفصیل سے آ گیا، اس کی موافقت اور مخالفت دونوں میں بات آ گئی۔
اب الاسٹک کی طرح کھینچتے رہنا لایعنی عمل ہے۔

اب آپ اپنی طرف سے محفل میں جو مفید شراکت کر سکتے ہیں، اس پر فوکس کیجیے، اور اپنے عمل سے لوگوں کے لیے مشعلِ راہ بنیے۔ :)

جی شکریہ۔ تالی لیکن ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ہم الاسٹک کا صرف ایک سرا پکڑے ہیں۔ باقی جو الاسٹک کھینچ رہے ہیں ان پہ بھی حضور محبت کی ایک نظر ڈال لیں۔
آداب عرض ہے۔
:aadab:
 
جی شکریہ۔ تالی لیکن ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ہم الاسٹک کا صرف ایک سرا پکڑے ہیں۔ باقی جو الاسٹک کھینچ رہے ہیں ان پہ بھی حضور محبت کی ایک نظر ڈال لیں۔
آداب عرض ہے۔
:aadab:
جی اس کا ذکر بھی کر دیا ہے کہ اس موضوع پر بحث ہو چکی ہے۔ اور بہتر یہی ہوتا ہے کہ کسی بحث کو شروع کرنے والا ہی اسے سمیٹے۔ میرا مراسلہ تبصرہ کے لیے نہیں ہے۔ توجہ دلانے کے لیے ہے۔
 

وسیم

محفلین
جی اس کا ذکر بھی کر دیا ہے کہ اس موضوع پر بحث ہو چکی ہے۔ اور بہتر یہی ہوتا ہے کہ کسی بحث کو شروع کرنے والا ہی اسے سمیٹے۔ میرا مراسلہ تبصرہ کے لیے نہیں ہے۔ توجہ دلانے کے لیے ہے۔

جی ٹھیک ہے۔ بہتر۔ تو اس موضوع کو سمیٹ دیا۔ آپ سب اپنا خال رکھں نقطے لگا کر اور خاگسار کو معافی دیں ڈنڈا ہٹا کر۔
:chalo:
 
اپنی علمی کم مائیگی کے سبب نہائت عاجزی سے کچھ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں
انگریزی اور دیگر زبانوں کے الفاظ کا اردو میں در آنے کا معاملہ نیا نہیں، اصل میں ہر دو جانب سے اس سلسلے میں افراط و تفریط رہی ہے۔ جو مثالیں راحل بھائی نے دیں وہ بھی یقیناََ غیر فطری کوشش لگتی ہیں اردو کو خالص رکھنے کی دوسری جانب، شکریہ کو تھینک یو، اور مبارکباد کو کانگریٹس کر دینا بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔ ایسا ہی معاملہ ہم آج کل عربی تلفظ اور عربی املا اپنانے کے معاملے پر بھی دیکھ سکتے ہیں، ان شااللہ لکھنے اور رمدان مبارک بولنے پر اصرار کر کے ہم شائد سستی نیکیاں کمانے کے چکر میں اردو کی درگت بنائے جا رہے ہیں۔
بہرحال یہ ایک طویل بحث اور ایک مسلسل جاری رہنے والا معاملہ ہے، ارتقاء اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیتا ہے، اور شائد یہی ایک زندہ زبان اور معاشرت کی نشانی ہے
شکیل بھائی آپ اور میں دنوں اس معاملے میں ہم خیال ہیں ۔ زبان کا ارتقاء ایک فطری عمل ہے اور خودبخود سست رو انداز میں جاری رہتا ہے اِلّا یہ کہ سرکاری سطح پر اس طرح کے جارحانہ فیصلے کئے جائیں جیسے رسم الخط بدل دینا (ترکی اس کی ایک زندہ مثال ہے) ، لسانی تعلیم کو نصاب سے نکال دینا ، میڈیا پر استیصال کرنا ( جیسا بھارت میں اردو کے ساتھ ہورہا ہے) وغیرہ ۔
برسبیلِ تذکرہ، ان شاء اللہ لکھنے پر اصرار کی وجہ یہ ہے کہ انشاءاللہ لکھنے سے معنی بدل جاتے ہیں ۔ یہ دو الگ الگ اور مختلف المعانی الفاظ ہیں ۔( ان- شاء ۔ اللہ تین لفظوں کا فقرہ ہے جبکہ انشاء-اللہ دو لفظی فقرہ ہے ۔ )
میں نے کسی اردو گو کو رمدان کہتے تو اب تک نہیں سنا ۔ عربی حضرات "ض" کا تلفظ دال کے جیسا کرتے ہیں لیکن اردو میں تو رمضان (رمزان) ہی کہا جاتا ہے ۔ ہم لوگ عام طور پر "ض" کو سکون کے ساتھ بولتے ہیں لیکن شاعری میں اس کا وزن "ض" کی حرکت کے ساتھ درست ہوتا ہے ۔
 
شکیل بھائی آپ اور میں دنوں اس معاملے میں ہم خیال ہیں ۔ زبان کا ارتقاء ایک فطری عمل ہے اور خودبخود سست رو انداز میں جاری رہتا ہے اِلّا یہ کہ سرکاری سطح پر اس طرح کے جارحانہ فیصلے کئے جائیں جیسے رسم الخط بدل دینا (ترکی اس کی ایک زندہ مثال ہے) ، لسانی تعلیم کو نصاب سے نکال دینا ، میڈیا پر استیصال کرنا ( جیسا بھارت میں اردو کے ساتھ ہورہا ہے) وغیرہ ۔
برسبیلِ تذکرہ، ان شاء اللہ لکھنے پر اصرار کی وجہ یہ ہے کہ انشاءاللہ لکھنے سے معنی بدل جاتے ہیں ۔ یہ دو الگ الگ اور مختلف المعانی الفاظ ہیں ۔( ان- شاء ۔ اللہ تین لفظوں کا فقرہ ہے جبکہ انشاء-اللہ دو لفظی فقرہ ہے ۔ )
میں نے کسی اردو گو کو رمدان کہتے تو اب تک نہیں سنا ۔ عربی حضرات "ض" کا تلفظ دال کے جیسا کرتے ہیں لیکن اردو میں تو رمضان (رمزان) ہی کہا جاتا ہے ۔ ہم لوگ عام طور پر "ض" کو سکون کے ساتھ بولتے ہیں لیکن شاعری میں اس کا وزن "ض" کی حرکت کے ساتھ درست ہوتا ہے ۔
اصل میں سوشل میڈیا سے پہلے کے دور میں لوگ رومن حروف میں Ramzan لکھا کرتے تھے ... سوشل میڈیا پر عربوں سے واسطہ پڑا تو ان کی دیکھا دیکھی Ramadan لکھنا شروع کر دیا جس کا کچھ دیسی حلقوں نے سخت برا منایا. بول چال میں تو ہمیشہ سے ہی رمزان تلفظ ہوتا آیا ہے، اور اب بھی ہوتا ہے.
 
شکیل بھائی آپ اور میں دنوں اس معاملے میں ہم خیال ہیں ۔ زبان کا ارتقاء ایک فطری عمل ہے اور خودبخود سست رو انداز میں جاری رہتا ہے اِلّا یہ کہ سرکاری سطح پر اس طرح کے جارحانہ فیصلے کئے جائیں جیسے رسم الخط بدل دینا (ترکی اس کی ایک زندہ مثال ہے) ، لسانی تعلیم کو نصاب سے نکال دینا ، میڈیا پر استیصال کرنا ( جیسا بھارت میں اردو کے ساتھ ہورہا ہے) وغیرہ ۔
برسبیلِ تذکرہ، ان شاء اللہ لکھنے پر اصرار کی وجہ یہ ہے کہ انشاءاللہ لکھنے سے معنی بدل جاتے ہیں ۔ یہ دو الگ الگ اور مختلف المعانی الفاظ ہیں ۔( ان- شاء ۔ اللہ تین لفظوں کا فقرہ ہے جبکہ انشاء-اللہ دو لفظی فقرہ ہے ۔ )
میں نے کسی اردو گو کو رمدان کہتے تو اب تک نہیں سنا ۔ عربی حضرات "ض" کا تلفظ دال کے جیسا کرتے ہیں لیکن اردو میں تو رمضان (رمزان) ہی کہا جاتا ہے ۔ ہم لوگ عام طور پر "ض" کو سکون کے ساتھ بولتے ہیں لیکن شاعری میں اس کا وزن "ض" کی حرکت کے ساتھ درست ہوتا ہے ۔
بصد احترام جسارت کرنا چاہوں گا کہ انشااللہ لکھنے سے معانی تو عربی زبان اور عربی لغت کے حساب سے بدلتے ہیں، ورنہ اردو کی تمام لغات میں انشااللہ کے وہی معانی درج ہیں جو عربی میں ان شا اللہ کے ہیں۔ میں اپنے بے تکلف حلقہِ احباب میں اس کی مثال یوں دیتا ہوں کہ ہمیں کیسا محسوس ہو اگر ہم عربی لغت کے حساب سے مسجد الحرام میں حرام کے معنوں میں کسی کو حرام دوست کہیں۔ ( گستاخی پر پیشگی معافی کا خواستگار ہوں)
 
بصد احترام جسارت کرنا چاہوں گا کہ انشااللہ لکھنے سے معانی تو عربی زبان اور عربی لغت کے حساب سے بدلتے ہیں، ورنہ اردو کی تمام لغات میں انشااللہ کے وہی معانی درج ہیں جو عربی میں ان شا اللہ کے ہیں۔ میں اپنے بے تکلف حلقہِ احباب میں اس کی مثال یوں دیتا ہوں کہ ہمیں کیسا محسوس ہو اگر ہم عربی لغت کے حساب سے مسجد الحرام میں حرام کے معنوں میں کسی کو حرام دوست کہیں۔ ( گستاخی پر پیشگی معافی کا خواستگار ہوں)

شکیل بھائی ، اس مسئلے کا تعلق اردو کا لفظ بدلنے یا عربی کی تقلید کرنے سے نہیں ہے بلکہ یہ املا کا مسئلہ ہے ۔ اردو کے ابتدائی دنوں میں الفاظ ملا کر لکھنے کا رواج عام تھا ۔ سینکڑوں دیگر الفاظ کی طرح اس فقرے کو بھی ملا کر لکھا گیا اور یہ انشاء اللہ کے طور پر رائج ہوگیا ۔ اگر آپ اردو کی معتبر لغت نوراللغات دیکھیں تو وہاں انشاء اللہ کے آگے قوسین میں ان شاء اللہ لکھا ہوا ہے ۔ گویا صاحبِ لغت نے سو سال پہلے ہی ایک طرح سے اس بات کی نشاندہی کردی تھی ۔ اب چونکہ اردو املا کو معیاری بنانے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس لفظ کا اصل املا استعمال کیا جائے ۔ یعنی پرانے دستور کے مطابق الفاظ ملا ملا کر لکھنے کے بجائے انہیں الگ الگ لکھا جائے ۔

جو مثال آپ نے دی ہے اس کا تعلق املا سے نہیں بلکہ لفظ کے معنی سے ہے ۔ عربی اور فارسی کے وہ الفاظ جو اردو میں آکر اپنے معانی بدل چکے ہیں ان کو اردو کے معانی ہی میں استعمال کیا جائے گا ۔ ان پر اصل زبان کے معانی یا گرامر کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے ۔
 
شکیل بھائی ، اس مسئلے کا تعلق اردو کا لفظ بدلنے یا عربی کی تقلید کرنے سے نہیں ہے بلکہ یہ املا کا مسئلہ ہے ۔ اردو کے ابتدائی دنوں میں الفاظ ملا کر لکھنے کا رواج عام تھا ۔ سینکڑوں دیگر الفاظ کی طرح اس فقرے کو بھی ملا کر لکھا گیا اور یہ انشاء اللہ کے طور پر رائج ہوگیا ۔ اگر آپ اردو کی معتبر لغت نوراللغات دیکھیں تو وہاں انشاء اللہ کے آگے قوسین میں ان شاء اللہ لکھا ہوا ہے ۔ گویا صاحبِ لغت نے سو سال پہلے ہی ایک طرح سے اس بات کی نشاندہی کردی تھی ۔ اب چونکہ اردو املا کو معیاری بنانے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس لفظ کا اصل املا استعمال کیا جائے ۔ یعنی پرانے دستور کے مطابق الفاظ ملا ملا کر لکھنے کے بجائے انہیں الگ الگ لکھا جائے ۔

جو مثال آپ نے دی ہے اس کا تعلق املا سے نہیں بلکہ لفظ کے معنی سے ہے ۔ عربی اور فارسی کے وہ الفاظ جو اردو میں آکر اپنے معانی بدل چکے ہیں ان کو اردو کے معانی ہی میں استعمال کیا جائے گا ۔ ان پر اصل زبان کے معانی یا گرامر کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے ۔
ظہیر بھائی، مجھے آپ کے اس مراسلے میں ایک لطیف اشارہ محسوس ہوا ہے ۔۔۔
جدید معیاری املا معانی ہے؟
 
ظہیر بھائی، مجھے آپ کے اس مراسلے میں ایک لطیف اشارہ محسوس ہوا ہے ۔۔۔
جدید معیاری املا معانی ہے؟
نہیں راحل بھائی، معانی (میم مفتوح) تو معنی کی جمع ہے۔ معنی (جسے عربی میں "معنا" پڑھتے ہیں) واحد ہے ۔ لیکن یہ الگ بات کہ یہ لفظ ہمیشہ جمع کے صیغے میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لفظ کے کیا معنی ہیں کہاجاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے لفظ والد ہے تو واحد لیکن ہمیشہ جمع کی طرح استعمال کیا جاتا ہے ۔ لفظ کے معنی اور الفاظ کے معانی کہنا درست ہوگا۔
 
آخری تدوین:

نیرنگ خیال

لائبریرین
بات یہ نہیں کہ ماضی حال سے بہتر تھا۔ ماضی کے اور مسائل تھے اور ان چیلنجز کو لے کر ہم نے اردوویب کو کھڑا کیا تھا۔ اب ہم اس دور سے نکل چکے ہیں اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا اتنے سالوں میں بہت بدل گیا ہے۔ اب ہمیں یعنی تمام محفلین کو سوچنا ہے کہ اردو محفل کا وژن کیا ہے۔ ہم محفل سے کیا چاہتے ہیں؟ اس کا فوکس کن چیزوں پر ہونا چاہیئے؟
بہت شکریہ زیک۔۔۔۔ ان سوالوں کے جواب آپ اور نبیل کی طرف سے بھی آنے چاہیے کہ پتا چلے آپ آج سولہ برس کی بالی عمر کو سلام کہتے ہوئے اس کے مستقبل بارے کیا سوچتے ہیں۔
 

زیک

تکنیکی معاون
بہت شکریہ زیک۔۔۔۔ ان سوالوں کے جواب آپ اور نبیل کی طرف سے بھی آنے چاہیے کہ پتا چلے آپ آج سولہ برس کی بالی عمر کو سلام کہتے ہوئے اس کے مستقبل بارے کیا سوچتے ہیں۔
میرا وژن کچھ یوں تھا کہ یہ اردو کے لئے کام کرنے والے رضاکاروں کے لئے چوپال ہو۔ وہ یہاں اکٹھے ہوں، اردو، انٹرنیٹ، کمپیوٹنگ، ادب وغیرہ کے منصوبے بنائیں اور انہیں عملی جامہ پہنائیں۔ محفل پر آئیں، بھانت بھانت کے موضوعات پر گفتگو کریں اور پھر ان اور دیگر موضوعات کو انٹرنیٹ پر پھیلا دیں
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
میرا وژن کچھ یوں تھا کہ یہ اردو کے لئے کام کرنے والے رضاکاروں کے لئے چوپال ہو۔ وہ یہاں اکٹھے ہوں، اردو، انٹرنیٹ، کمپیوٹنگ، ادب وغیرہ کے منصوبے بنائیں اور انہیں عملی جامہ پہنائیں۔ محفل پر آئیں، بھانت بھانت کے موضوعات پر گفتگو کریں اور پھر ان اور دیگر موضوعات کو انٹرنیٹ پر پھیلا دیں
اس مقصد کے حصول میں کس قدر کامیابی رہی۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ اردو محفل فورم ابھی تک دنیائے اردو کا ٹائے ٹینک ہے۔
 

فاخر رضا

محفلین
مایوسی کی کوئی بات نہیں
ابھی غالب پر ایک بہترین کام پیش کیا گیا. ہر ماہر ٹیکنالوجی اگر سال میں ایک ہی پروجیکٹ کردے تو چند سال میں ڈھیروں کام ہوجائے گا
 
Top