کیا قومی ، سرکاری اور علاقائی زبانیں علیحدہ ہیں ؟

محب علوی نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 6, 2013

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,576
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سرکاری زبان اس کو کہتے ہیں جس زبان میں سرکاری کام چلایا جائے۔ ہندوستان کے سلسلے میں قومی سطح پر یہ انگریزی اور ہندی ہیں، اور صوبوں میں انگریزی اور علاقائی زبانیں (آندھرہ پردیش میں تیلگو اور اردو، جموں و کشمیر میں اردو اور کشمیری وغیرہ) ہیں۔ قومی زبانوں میں تو بائیسوں زبانوں کو یکساں درجہ حاصل ہے۔
    اردو کے سلسلے میں یہ ضرور بد قسمتی ہے کہ جہاں بطور سرکاری زبان کا بھی اعلان کیا گیا ہے، وہاں بھی یہ اعلان محض کاغذی کارروائی ہے۔ عملی طور پر محض انگریزی کا ہی راج ہے، یا صوبوں میں علاقائی زبان کا جیسے یہاں تیلگو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • معلوماتی معلوماتی × 4
    • زبردست زبردست × 2
  2. ماما شالا

    ماما شالا محفلین

    مراسلے:
    24
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    حاصل کلام کیا ہے ؟
     
  3. ماما شالا

    ماما شالا محفلین

    مراسلے:
    24
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    مہربانی فرما کے اب تک کے نکات کو ترتیب سے لکھیں ، اب تک سب ہی کے دلائل درست ہیں ، صرف درجہ بندی کی ضرورت ہے۔
     
  4. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,389
    متفق
    ہندوستان کی تقسیم کی وجوہات میں سے ایک وجہ اُردو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی تھی۔۔ اور پلیز نوٹ ڈیٹ کہ اردو کو دیگر قوموں کی زبانوں پر فوقیت دینے والے وسطی صوبوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔۔بلکہ جن لوگوں نےفوقیت دی فوقیت دینا ان کی مجبوری تھی ۔۔ اگر یہ فوقیت نہ دی جاتی اور ایسا نہ کیا جاتا تو یہ ملک کبھی نہیں بنتا۔۔ اور نہ ہی ہندوستان کے وسطی صوبوں کی مادری زبان والے اس ملک کی بنیادوں میں اپنا خون شامل کرتے۔۔۔
    اس میں کوئی شک نہیں۔۔ پنجابی اس ٹوٹے ہوئے ملک کی سب سے بڑی زبان ہے، اس کے بعد سندھی، پشتو، بلوچی، ہندکو، سرائیکی وغیرہ وغیرہ ہیں۔۔اور اردو سمندری مخلوقات کی سب سے بڑی زبان ہے۔۔۔:idontknow:
    بالکل زبان کسی کی شناخت ہوتیہے۔
    باقی باتیں بہت پیچیدہ ہیں کہ مغربی تصور اور دنیا میں وقوع پزید ہونے والے حالات و واقعات کے پیشِ نظر "ایک ملک، ایک قوم، ایک زبان" کے سیاسی مقصد کو مدِّنظر رکھا جائے جیسا کہ عرب ممالک، ترکی، ملائشیا، انڈونیشیا، چین جرمی، فرانس، جاپان، وغیرہ وغیرہ نے اپنایا ہوا ہے یا پھر یونیورسل تصور مدّنظر رکھا جائے یعنی دنیا میں صرف دو قومیں ہیں مسلم یا پھر غیرمسلم اور مسلم قوم کے نزدیک زبان اور ملک کی اہمیت نہیں۔۔
    لیکن چونکہ یونیورسل تصور خود مسلمانوں نے ہی پسِ پشت ڈالا ہوا ہے۔تو مینوں کی، میں کیوں رولا پاؤں۔۔۔لہذا اس کے بارے میں سوچنا ممکن نہیں اور وہ بھی قیامت کے 40 سال پہلے تک۔۔۔:)
    پاکستان میں جیسا کہ اوپر کوٹ کیا گیا ہے درجنوں قومیں بستی ہیں۔۔لہذا موجودہ پاکستان ایک قوم کا ملک نہیں۔۔۔۔
    محترم اردو کو سیاسی مقاصد کے لیئے ہندوستان کے وسطی صوبوں کی مادری زبان بولنے والوں نے استعمال نہیں کیا بلکہ ان لوگوں نے کیا ہے جو خود کو ہی صرف ہندوستان اور پاکستان کا ٹھیکدار سمجھتے ہیں۔۔اور اُردو کو مُنّی بنا کر بدنام کردیتے ہیں۔۔مُنّی بیچاری "ڈرلنگ پاکستان" کے لیئے بدنام ہوتی رہتی ہے۔۔
    اَیّو اُردو مقدس گائے نہیں ہے۔۔اُردو نرم و نازک مزاج "مُنّی" ہے۔۔جس کی پرورش پاک اور معطر مَجیّوں نے بھی کی ہے۔۔جنگل میں رہنے کی وجہ کر۔۔اور اس کو اپنا دودھ بھی پلایا ہے۔۔اس لیئے اُردو ان کی عزت کرتی ہے۔۔
    یہ سیاست کون کرتا ہے بھائی۔۔۔ذرا اس پر بھی غور و خوص کریں۔۔۔ اسمبلیاں آپ کی۔ لوگ آپ کے۔۔۔ پھر یہ رونا دھونا کس بات کا۔۔۔
    جی بالکل آج تک کسی نے کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا کہ یہ ملک کثیر السانی اور کثیرالقومی ملک ہے۔۔ اس لیئے سب کو سب کے حقوق دے دیئے جائیں تو حالات مزید بگڑنے سے بچ سکتے ہیں۔۔۔۔
    آبادی کو بنیاد بنا کر دوسری چھوٹی قوموں کے حقوق غضب نہ کیئے جائیں۔۔۔اور خود کے منتخب کردہ نمائندوں کی غلطیوں کو پسِ پشت ڈال کر اُردو کو قصوروار نہ ٹھہرایا جائے۔۔
    جی بالکل اگر کوئی حقوق کی بات کرے تو پاکستان کا دشمن، اسلام کا دشمن، غدار اور امریکی یہودی ایجنٹ بن جاتا ہے ان لوگوں کی نظروں میں جو کوٹے کی بنیاد پر سی ایس ایس پاس کرکے اندرون ملک پاکستانی کی پالیسیاں اور بیرونِ ملک پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کا بیڑا غرق کرتے ہیں۔
    ان سب کا ایک ہی واحد حل ہے میرٹ۔۔ میرٹ کی بنیاد پر فیصلے ہوں اور ہر زبان اور ہرقوم کو ان کا جائز حق دے دیا جائے۔۔۔
    جہاں تک اُردو اور اُردو اسپیکنگ کی بات ہے تو انہوں نے کبھی بھی نہیں کہا کہ دیگر زبانوں کو ان کا جائز مقام نہ دیا جائے۔۔
    رشتہ دل سے رشتہ ہے جان کا
    مان ہے یہ تو سارے ہندوستان و پاکستان کا
    اور بھی ہیں ہمیں انکی بھی قدر ہے
    رتبہ بہت بلند ہے اردو زبان کا
    دیگر زبانوں کی ترقی میں رکاوٹ ان زبانوں کے ہی منتخب نمائندوں کی نااہلی کا ثبوت ہے ۔۔اور یہ نمائندے اپنا ذہن صرف اور صرف اس کام میں لگاتے ہیں جس سے یہ ملک اور ان کی زبان اندھیروں میں مزید ڈوب جائے۔۔۔

    دل کو خوش کرنے کے لیئے کچھ اشعار سنیں ۔۔اور اگر ہوسکے تو پنجابی میں ترجمہ کردیں۔۔ حشرنشر والا نہیں۔۔​


    یکتائے زماں ہے فخرِ لساں
    شیریں و شگفتہ اور شایاں

    فردوس گوشِ سخن وراں
    غزلوں کا فسوں عالم پہ عیاں

    نظموں کی عجب ہے موجِ جواں
    اور نثر مثالی کاہکشاں

    یہ علم و ادب میں زر افشاں
    ہر سمت اسی کی تاب و تواں

    ہر جانب اِس کا زورِ بیاں
    یہ اُردو زباں ہے اُردو زباں

    ہے اس کی خوشبو چمن چمن
    ہر شاخ سے پھوٹے اس کی پھبن

    یہ ہندی کی ہے جڑواں بہن
    عربی سے سیکھا چال چلن

    انگریزی زباں کا تازہ پن
    ہے اس میں‌ ہر دل کی دھڑکن

    سب رس سے بنا ہے شہ پارہ
    سب رنگ سے روشن ہے تارہ

    یہ فارسی لئے کی مہ پارہ
    اسپینی ادا کا اجیارا

    دلّی و دکن میں‌ گہوارا
    پنجاب میں اس کا لشکارا

    کراچی و لاہور کا اس میں نطارہ
    بمبئی کی زباں کا چٹخارا

    بنگال کا جادو دل دارا
    اور سندھ میں‌اس کو معمورا

    یہ شان اودھ کی مدھ ماتی
    یہ پشتو اُڑیہ کی ساتھی

    کشمیری سرائیکی لہجہ
    رکھتا ہے اس سے خلا ملا

    گجرات و بہار و راجھستاں
    دم بھرنے میں‌ ہیں سب یکساں

    ہر روپ میں‌ ہے یہ عالی شاں
    یہ اُردو زباں ہے اُردو زباں
    ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
    تمثیل و صحافت، فلم و ادب
    اُردو کی محاذ آرائی عجب

    بازاروں سے درباروں تک
    اور لشکر، دفتر والوں تک

    کمپیوٹر اس کا ہم منصب
    اور ہوا کی لہریں ہم مکتب

    کھل جائے کوئی بھی راہ طلب
    بن جائیگی وہ عظمت کا سبب

    کیا غضب کی ہے یہ روح رواں
    یہ اُردو زباں ہے اُردو زباں

    کچھ لکھنے والے آجائیں
    چند ایک زباں داں آ جائیں

    دو ایک سخن داں مل جائیں
    گل شعر و ادب کے کھل جائیں

    پھر سنّے والے کشاں کشاں
    اور پڑھنے والے یہاں وہاں

    آباد کریں گے اک بستی
    پایاب کرینگے ہر پستی

    اعجاز خلوصِ ہم نفساں
    یہ اُردو زباں ہے اُردو زباں

    یہ عجم و عرب کا گلدستہ
    یہ بڑی زبانوں کا تحفہ

    یہ مشرق و مغرب کا عنواں
    شہکار جنونِ زندہ دلاں

    تصویر جمالِ ہندوستاں
    تنویرِ فضائے پاکستاں

    یہ اُردو زباں ہے اُردو زباں
    یہ اُردو زباں ہے اُردو زباں
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میرا تو یہی ماننا ہے کہ اردو کو رابطے کی مشترکہ زبان اور سرکاری زبان رکھتے ہوئے پاکستان کی ساری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دے دینا چاہیے۔ اور جس طرح بھارت میں سنسکرت اور تامل آئینی لحاظ سے وہاں کی کلاسیکی زبانیں ہیں، اسی طرح یہاں بھی عربی اور فارسی، یا کم سے کم فارسی کو پاکستان کی کلاسیکی اور تہذیبی زبان کا آئینی درجہ دے دینا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. ماما شالا

    ماما شالا محفلین

    مراسلے:
    24
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اس سے کیا ہوگا ؟
     
  7. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اس دھاگے کو دیکھ کر پاکستانی ہونے کی مشکلات والا دھاگہ یاد آگیا :)
     
    • متفق متفق × 1
  8. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    قومی ترانہ فارسی میں لکھوا کر ہمنے اس کو بھی شہیدوں میں شامل نہیں کر دیا؟
     
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    نہیں، ایسی بات نہیں کہ صرف ترانے کے باعث یہ پاکستانی زبان ہے۔ بلکہ اس وقت پاکستان میں دس سے پندرہ لاکھ لوگ فارسی کو بطور مادری زبان استعمال کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر اسے پاکستانی زبان بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    امریکہ کی سرکاری زبان کا درجہ کسی زبان کو نہیں دیا گیا۔ وکی پیڈیا سے یہ متن لیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اور یہ فارسی افراد کہاں رہتے ہیں؟ بلوچستان میں؟
     
    • متفق متفق × 1
  12. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    قزلباش قبیلہ ابھی تک فارسی ہی بولتا ہے بطور مادری زبان۔ محمد علی شہکی بھی بنیادی طور پر ایرانی النسل ہیں اور فارسی ہی بولتے ہیں۔ مزید حوالہ جات کے لئے ہمارا وکی پیڈیا
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 1
  13. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    خیبر پختونخواہ میں بھی ہیں۔ جنرل یحییٰ خان خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والا قزلباش اسماعیلی تھا اور اس کی مادری زبان فارسی تھی۔
    کراچی میں بھی ہزارہ مقیم ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  14. جہانزیب

    جہانزیب محفلین

    مراسلے:
    2,442
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    سب سے پہلے تو مجھے "علاقائی زبان" سے ہی اختلاف ہے ۔ دُنیا میں کونسی ایسی زبان ہے جو کہ علاقائی نہیں ہے؟ ہر زبان جو کہ اس وقت دنیا میں رائج کسی نہ کسی علاقہ ہی سے منسوب ہے، اس لحاظ سے ہر دنیا کی زبان کسی نہ کسی جگہ کی علاقائی زبان ہے ۔
    یہ ہماری بحث کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم "علاقائی"، "سرکاری" یا "قومی" زبانوں کی تعریف کریں اور اس تعریف کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں دیگر زبانوں کے سر منڈھ دیں کہ فلاں سرکاری زبان ہے، فلاں محض علاقائی اور فلاں الحمدللہ ہماری "قومی" زبان ہے ۔
    بلکہ بحث کا مقصد یہ ہے کہ آیا ایک ایسا ملک جو کہ کثیرالزبان ہو، کیا وہاں ایک زبان کو دیگر زبانوں پر فوقیت دے کر قومی زبان قرار دینا درست اور جائز ہے؟ اس لحاظ سے باقی سب زبانیں جو کہ اس خطہ کی مقامی زبانیں ہیں، جن کی کونپلیں اسی خطہ میں پھوٹی اور اسی خطہ میں پروان چڑھی اور جن کا دنیا میں دیگر کسی بھی علاقہ سے تعلق نہیں انہیں "غیر قومی" یا اچھے الفاظ میں "علاقائی" زبانوں کا درجہ خوامخواہ مل گیا ۔ حالانکہ جیسا میں نے عرض کیا دنیا کی ہر زبان ہی علاقائی زبان ہی ہوتی ہے ۔
    اب ایک اور نکتہ نظر یہ ہے کہ ایسے ممالک جو کثیرالزبان ہیں وہاں "بڑی" زبان کو قومی زبان کا درجہ دے دیا جانا چاہیے؟ لیکن بڑی زبان کی تعریف کیسے کریں گے کہ جس زبان کے بولنے والے سب سے زیادہ ہوں؟ یا جس زبان کا ذخیرہ الفاظ بڑا ہو؟ اس لحاظ سے بھی پاکستان میں اردو کم از کم قومی زبان نہیں ہو سکتی ۔
    اب ہم زبان کی اہمیت کو دیکھتے ہیں کہ ایک زبان صرف ایک بولی یا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ زبان میں موجود الفاظ ایک مکمل تہذیب اور ثقافت کے آئینہ دار ہوتے ہیں ۔ جب ہم کسی زبان کا ایک لفظ بولتے ہیں تو اس کے ایک پورا بیک گراونڈ ہوتا ہے جسے اس زبان کے بولنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں، اس کی ایک مثال لفظ "غیرت" کا انگریزی نعم البدل ایک ہی متبادل لفظ نہ ملنے سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ جب ہم ایک زبان کو کمتر قرار دیتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی اس سے منسلک تہذیب اور ثقافت کو بھی کمتر قرار دے دیتے ہیں ۔
    اب ایک اور نکتہ نظر کہ ایک کثیر اللسانی ملک میں بولی جانے والی ہر زبان ہی اس ملک کی برابر اہمیت کی زبان ہے، اور اس ملک میں بولی جانے والی تمام زبانیں ہی اس ملک کی قومی زبانیں ہیں ۔ البتہ پوری تاریخ میں ایسے کثیر ممالک میں کوئی ایک زبان ایسی موجود ہوتی ہے جسے ایک زبان بولنے والا دوسری زبان بولنے والے سے رابطہ کے لئے استعمال کرتا ہے اور وہ رابطہ کی زبان ہوتی ہے، اس لئے اسے دیگر زبانوں پر تھوڑی فوقیت حاصل ہوتی ہے ۔ پاکستان کوئی دنیا میں واحد ایسا ملک نہیں جو کثیر اللسان ہے، بہت سے ممالک دنیا میں کثیر اللسان ہیں اور وہاں کسی ایک زبان کو قومی زبان کا درجہ نہیں دیا جاتا اور ایسا ہی پاکستان میں ہونا چاہیے ۔
    اب پاکستان میں "علاقائی" زبانوں کے حوالے سے اس طرح کی بات کی جائے تو اسے پاکستان کی سلامتی کے خلاف سمجھ لیا جاتا ہے، اگر ایسا ہوتا تو سنگاپور جہاں چاروں بولے جانی والی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے کا شیرازہ کب کا بکھر چکا ہوتا، کینڈا ایک کی بجائے کم از کم دو ممالک ہوتا ۔ بلجیم کم از کم تین فن لینڈ دو اور سوئٹزر لینڈ کم از کم چار ممالک میں منقسم ہوتا کیونکہ ان ممالک میں تمام بولے جانے والی زبانوں کو ایک جیسا مقام حاصل ہے ۔
    اور امریکہ تو ایک قوم بن ہی نہیں سکتا کیونکہ امریکہ کہ نہ ہی کوئی قومی زبان ہے نہ ہی کوئی سرکاری زبان، مختلف جگہ پر ریاستی اور شہری حکومتیں اپنے علاقہ میں بولی جانے والی زبانوں میں دستاویز تیار کرتے ہیں، جیسے کہ نیویارک میں شہر کی جانب سے انگریزی، چینی، ہسپانوی اور ہندی زبانوں میں تمام سہولیات میسر ہیں کیونکہ نیویارک شہر میں ان زبانوں کے بولنے والے بڑی اکثریت میں موجود ہیں ۔

    اب بحث اس بات پر ہے کہ میرے نکتہ نطر کے مطابق پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانیں پاکستان کی قومی زبانیں ہیں اور یہ بات مان جانے سے پاکستان کی سلامتی کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ۔
    جبکہ دوسرے نکتہ نظر کے مطابق ایک زبان کسی قوم کو متحد رکھنے کی ضامن ہے اور سب زبانوں کو ایک جیسی اہمیت دینے سے باہمی اتحاد کی بجائے نفاق پیدا ہونے کا خطرہ ہے ۔ اس کے لئے چاہے ہمیں کسی حد تک ہی کیوں نہ جانا پڑے ۔
     
    • متفق متفق × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  15. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    یہ بات درست نہیں ہے۔ انڈونیشیا پاکستان سے بھی بڑھ کر کثیر اللسان ملک ہے، لیکن وہاں تین فیصد لوگوں کی مالے زبان چُن کر، اور اُسے معیاری شکل دے کر انڈونیشا کی قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ پھر ہمارا پڑوسی ایران ہی ایک واضح مثال ہے، جہاں صرف آذری ترک ہی ۳۵ فیصد ہیں۔ لیکن وہاں قومی و سرکاری زبان فارسی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  16. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    بہت مزے کی علمی گفتگو چل رہی ہے۔ دونوں اطراف کے اراکین کا استدلال بہت مضبوط ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
  17. عسکری

    عسکری معطل

    مراسلے:
    18,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    اردو ہماری قومی زبان ہے اور اسے ہی رہنا چاہیے ہاں علاقائی پنجابی سندھی بلوچی پشتو سرائیکی ہندکو وغیرہ ہو سکتی ہین ہر اردو ہماری جان ہے چاہے ہم کہیں سے بھی پاکستانی ہوں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  18. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,079
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    عسکری پائین چُک کے رکھو. بابا وی مرنے سے پہلے کہہ گیا کہ اردو قومی زبان ہو گی. اس سے اگلے دن فساد پھوٹ پڑے اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ بنگالی بھی قومی زبان بنی. اور پھر تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ بنگالی اپنی قومی زبان کے ساتھ کھلواڑ (جمع اضافی گڈیز) کی وجہ سے اس ملک سے الگ ہو گئے.
    یا تو پاکستان کو آمریت تلے لے آؤ. ایران کی مجبوری ہے ہر 'انقلابی' ملک کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو باور کرائے وہ ایک اکائی ہے. سیاسی مقصد یعنی. تو انہوں نے فارسی ٹھوک دی قومی زبان. یا تو ادھر بھی ایسا کچھ کرا لو. ابھی تو یہ صورتحال ہے کہ ادھر پنجابی، پختون، سندھی، بلوچی، مہاجر، کشمیری، بلتی، وغیرہ بستے ہیں اور پاکستانی کبھی کبھی بستے ہیں. مثلاً جب اردو قومی زبان ہے کا نعرہ لگانا ہو تو پاکستانیت یاد آتی ہے.
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  19. مسافر چند روزہ

    مسافر چند روزہ محفلین

    مراسلے:
    49
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بولی اور زبان کا فرق خود ساختہ نہیں اور لسانی مشاہدے کے خلاف بھی نہیں، موافق ہے نیز آپ کی رائے خود اپنی ہی دلیل کے خلاف ہے کہ "ہر نام نہاد زبان پہلے بولی ہی تھی. اس کی لکھاوٹ بعد میں وجود میں آئی" آپ کی اس عبارت کا مستفاد یہ ہے کہ قبل از تحریر ہر زبان نام نہاد تھی، قبل از تحریر اسے بولی کہتے تھے۔ اور بعد تحریر وہ نام نہاد اور بولی نہ رہی اور اس کی حیثیت بطور زبان مسلم ہو گئی اگر آپ سمجھتے تو میں نے بھی یہ فرق بتایا تھا کیونکہ تحریر بلا قواعد و انشاء نہیں ہوتی اس کی کوئی نہ کوئی گرائمر وضع ہوتی ہے
    دوم یہ کہ آپ کی بات عام لوگوں کے خیالات کا عکاس ہو سکتی ہے کیوں کہ آپ کے پاس میری مذکرر ذیل دالیل
    کے برعکس کوئی مضبوط دلیل نہیں۔
    پرندے چہکتے ہیں مگر ان کے چہکنے پر بولی کا اطلاق قرآن پاک میں موجود ہے غالبا میں نے یوں پڑھا تھا مفہوم "اور ہم نے انہیں پرندوں کی بولی سکھا دی" تو جناب پرندوں کی بولی کس گرائمر کی قیود میں پابند ہے؟؟؟
    آپ بات دلیل سے کرتے تو وزن مانا جاتا مگر آپ نے تو لسانی مشاہدے سے بھی کام نہیں لیا۔ جب بچہ بولنا سکھتا ہے تو اس کا بولنا اس لیے بولی کہلاتا ہے کہ اس کا کلام بری از قواعد و انشاء ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اسکے الفاظ کے مطالب ہر کوئی نہیں سمجھتا، اس کے بے ربط و بے ترکیب الفاظ کو اس کی ماں اور قریبی ہی اس کی بولی جانتے ہیں اور جب وہی بچہ آداب کلام کے موافق گفتگوں کرنا سیکھ جاتا ہے تو اب ہر کوئی اس کے دانتوں کے درمیاں گوشت کے ٹکرے سے ملفوظ ہوئے کلام کا دانا ہوتا ہے یہی فرق ہے بولی اور زبان میں۔
    ہر لہجا اک بولی ہوتا ہے
    فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے زبانوں کو اک دوسرے پر برتری حاصل ہے۔ ہاں کسی فرد کو کسی فرد پر لسانی اعتبار سے کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ نہ کوئی فرد لسانی بنیاد پر کسے دوسرے فرد سے کمتر ہے۔
    سب سے افصح و بلیغ زبان عربی ہے اس پر دالیل اگر مطلوب ہوں تو پیش کر سکتا ہوں
    زبانوں کا سرکاری سطح پر انتخاب ہمیشہ انتظامی مقاصد کی وجہ سے ہوتا ہے۔
    حالات حاضرہ ایسے ہی ہیں۔ ایسا ہونا ہمارے لیے بہت افسوس ناک ہے۔ لسانی بیناد پر تفریق قوم غلط العام ہے

    زبانوں کے حقوق سے آپ کی کیا مراد؟
    اگر زبانوں کےحق سے آپ کی مراد؟ اگر ادبی حقوق ہیں تو سب پاکستانی زبانوں میں فی الواقع اردو ہی وہ زبان ہے جس کی نہ صرف لغت وضع کے لحاظ سے بین الاقوامی زبانوں سے موازینت رکھی ہے بلکہ افصح کلام رکھتی ہے بخلاف دیگر و لہٰذا
    رائج الوقت اردو ہی پاکستانی قوم کے باہمی ربط میں پیش ہے حقدار ہے ادبی حق میں ادب کو ملحوظ رکھا جاتا ہے نہ کہ کثرت و قلت۔
    پنجابیت کا ذکر بھی آیا ہے تو میں عرض کرتا ہوں میرے نزدیک پنجابی پاکستان کی سب سے بڑی بولی ہے اور اسے زبان کی حیثیت پانے لے لیے اپنی وضع لغتی مرتب کرناہوگی قواعد و انشاء کو بھی متعین عام کرنا ہوگا تب اسے اردو سے اول قرار دیا جا سکے گا۔ اگرچہ میں پنچابی ہوں مگر پنجابی کو زبان نہیں بولی سمجھتا ہوں علاقئ نسبت سے پنجابیت کے لہجا میں اس قدر اختلاف ہے کہ ایک علاقہ میں کچھ ہے تو دوسرے میں کچھ، جو اسکے ادبی حیثت حاصل کرنے میں بہت بڑی روکاوٹ ہے
    وقت مختصر کی وجہ سے اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  20. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بنگالی کو 1956 کے آئین میں قومی زبان تسلیم کر لیا گیا تھا، اس لیے 71 کے سیاسی بحران اور اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے قیام کی ذمہ داری اردو پر ڈالنا مناسب نہیں۔ البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بنگالی زبان کی ابتدائی تحریک کے باعث بنگالی قوم پرستی نے جنم لیا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر