ولی دکنی کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ ۔ ولی دکنی

فرخ منظور

لائبریرین
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ
کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ

وفاداری نے داہر کی بجھایا آتشِ غم کوں
کہ گرمی دفع کرتا ہے گلاب آہستہ آہستہ

عجب کچھ لطف رکھتا ہے شبِ خلوت میں گلروسوں
سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ

مرے دل کوں کیا بے خود تری انکھیاں نے اے ظالم
کہ جیوں بے ہوش کرتی ہے شراب آہستہ آہستہ

ہوا تجھ عشق سوں اے آتشیں رودوں مرا پانی
کہ جوں گلتا ہے آتش سوں کباب آہستہ آہستہ

ادا و ناز سوں آتا ہے وہ روشن جبیں گھر سوں
کہ جیوں مشرق سے نکلے آفتاب آہستہ آہستہ

ولی مجھ دل میں آتا ہے خیالِ یارِ بے پروا
کہ جیوں انکھیاں منیں آتا ہے خواب آہستہ آہستہ

(ولی دکنی)
 

فاتح

لائبریرین
خوبصورت انتخاب ہے حضور۔ بہت شکریہ!
ملکۂ پکھراج نے مطلع میں "خراب" کی بجائے "کو آب" گایا ہے۔ درست کیا ہے؟
 

فرخ منظور

لائبریرین
خوبصورت انتخاب ہے حضور۔ بہت شکریہ!
ملکۂ پکھراج نے مطلع میں "خراب" کی بجائے "کو آب" گایا ہے۔ درست کیا ہے؟

بہت شکریہ فاتح صاحب۔ مطلع میں "خراب" اور "کو آب" دونوں ہی ملتے ہیں۔ لیکن میں نے جس کتاب سے یہ غزل ٹائپ کی ہے۔ اس کے مرتب کردہ نے "خراب" کو چنا ہے۔ حاشیہ میں "کو آب" کا بھی ذکر ہے۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
غزل بمطابق دیوانِ ولی مطبع حیدر 1290ھ

کیا مجھ عشق نے ظالم کوآب آہستہ آہستہ
کہ آتش گل کو کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ

وفاداری نے دلبر کی بجھایا آتشِ غم کو
کہ گرمی دفع کرتا ہے گلاب آہستہ آہستہ

عجب کچھ لطف رکھتا ہے شبِ خلوت میں گُل رو سے
خطاب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ

مرے دل کو کیا بے خود تری آنکھوں نے اے ظالم
کہ جوں بے ہوش کرتی ہے شراب آہستہ آہستہ

ہوا تجھ عشق سے اے آتشیں رو دل مرا پانی
کہ جوں گلتا ہے آتش میں گُلاب آہستہ آہستہ

ادا و ناز سے آتا ہے وہ روشن جبیں گھر سے
کہ جوں مشرق سے نکلے آفتاب آہستہ آہستہ

ولی مجھ دل میں آتا ہے خیالِ یارِ بے پروا
کہ جوں آنکھوں میں آ جاتا ہے خواب آہستہ آہستہ

(ولی دکنی)
 
پکھراج صاحبہ نے "سوں" کوتوخوب قدیم لہجے میں ادا کیا ہے لیکن "کوں" کو جدیدشستہ لہجے میں کہنے کا تکلف پتہ نہیں کیوں کیا ۔
ہمارے ہاں اب بھی یہ لہجہ خال خال بزرگوں سے سننے کو ملتا ہے ہے۔
خراب والے شعر میں کو آب زیادہ پر کشش لگتا ہے۔
ویسے کیا کمال غزل ہے ۔ شاد رہیں فرخ بھائی۔
 
Top