کہتے ہیں یہ حساب لیا ہی نہ جائے گا!

اول تو ہم سے حال کہا ہی نہ جائے گا
پر چھیڑ دیں تو تم سے سنا ہی نہ جائے گا

اندیشہ تھا کہ گر نہ پڑوں غم کی راہ میں
معلوم یہ نہ تھا کہ اٹھا ہی نہ جائے گا

دنیا کے سب دکھوں میں اکیلے ہی جی گئے
جیسے ہمارے بعد جیا ہی نہ جائے گا

تم لاکھ دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے پھرو
میں جانتا ہوں مجھ سے رہا ہی نہ جائے گا

راحیلؔ ہم تو یوں بھی نمازی نہیں رہے
کہتے ہیں یہ حساب لیا ہی نہ جائے گا !

راحیلؔ فاروق
12 مئی 2011ء​
 
آخری تدوین:

گلزار خان

محفلین
راحیل بھای کہاں بیٹھ کر لکھتے ہیں ایسی غزلیں آپ بہت ہی شاندار لفظ لفظ گواہی دے رہا ہے :):)
بہت خوب لکھتے ہیں آپ ایک بار پھر سے ہماریداد قبول کیجئے :):)
 

گلزار خان

محفلین
راحیل بھای کہاں بیٹھ کر لکھتے ہیں ایسی غزلیں آپ بہت ہی شاندار لفظ لفظ گواہی دے رہا ہے :):)
بہت خوب لکھتے ہیں آپ ایک بار پھر سے ہماریداد قبول کیجئے :):)
 
واہ واہ، راحیل بھائی.
اندیشہ تھا کہ گر نہ پڑوں غم کی راہ میں
معلوم یہ نہ تھا کہ اٹھا ہی نہ جائے گا

دنیا کے سب دکھوں میں اکیلے ہی جی گئے
جیسے ہمارے بعد جیا ہی نہ جائے گا

تم لاکھ دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے پھرو
میں جانتا ہوں مجھ سے رہا ہی نہ جائے گا
 

محمد فہد

محفلین
راحیل بھائی، واقعی میں اپکے الفاظ کا چناؤ بہت ہی زبردست ہے۔۔۔ اورالفاظ کی روانی کی تو بات ہی الگ ہے۔۔۔ میری طرف سے مبارک باد قبول کیجئے۔ ۔۔۔
 

عباد اللہ

محفلین
ہم لے رہے ہیں کتنی بلائیں نہ پو چھیو
وہ کیف ہے بیان کیا ہی نہ جائے گا
کیسا عجیب حال ہوا پڑھ کے یہ غزل
اب وہ خمار ہے کہ چلا ہی نہ جائے گا​
 

فرقان احمد

محفلین
اول تو ہم سے حال کہا ہی نہ جائے گا
پر چھیڑ دیں تو تم سے سنا ہی نہ جائے گا

اندیشہ تھا کہ گر نہ پڑوں غم کی راہ میں
معلوم یہ نہ تھا کہ اٹھا ہی نہ جائے گا

تم لاکھ دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے پھرو
میں جانتا ہوں مجھ سے رہا ہی نہ جائے گا


بے پناہ داد!
 
Top