کہانیوں، کرداروں اور مصنفین پہ بات چیت

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ہمارے ہاں مختلف جاسوسی قسم کے ڈائجسٹ میں بہت سی چھوٹی کہانیاں طبع زاد کی بجائے ترجمہ شدہ ہوتی ہیں۔ ان میں کرداروں اور علاقوں کے نام بھی وہی ہوتے ہیں۔
یہ مصنفین یہ کہانیاں کہاں سے لیتے ہیں؟
مختلف جرائد میں جاسوسی کہانیاں آئے دن شائع تو ہوتی رہتی ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ ان میں سے کسی سے لیتے ہوں ۔ جاسوسی کہانیاں لکھنے والے مصنفین کی کہانیوں کے اپنے مجموعے بھی شائع ہوئے ہیں ، وہاں سے بھی مواد لیا جاسکتا ہے۔ بہت سالوں سے میرا انگریز ی میں مطالعہ صرف شاعری اور آرٹ تک محدود ہے ۔ کہانیاں وغیرہ پڑھنا ایک عرصہ ہو اترک کردیا۔
 
آخری تدوین:

علی وقار

محفلین
کیا کوئی محفلین بتا سکتا ہے کہ بھارتی اردو کتب کیسے خریدی جا سکتی ہیں؟
اکیسویں صدی کے اوائل تک تو بذریعہ ڈاک کتب اور جرائد انڈیا سے پاکستان اور پاکستان سے انڈیا بھیجے جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ مرحوم احمد ندیم قاسمی نے ایک کالم بھی اسی موضوع پر لکھا تھا کہ اس حوالے سے ڈاک کے اخراجات بہت زیادہ بڑھا دیے گئے ہیں۔ آج کل بھی شاید بذریعہ ڈاک ہی کتب اور میگزین بھیجے جاتے ہیں۔ رقم کی منتقلی کے لیے غالباً کریڈٹ کارڈ استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، لہو کے پھول نامی کتاب کا ملنا آسان نہیں۔ اس کتاب کی نئی اشاعت میری نظر سے نہیں گزری۔ جو کتب شائع ہوئی ہیں، اس کے پبلشر، کتاب دان، لکھنو کا بھی اب کوئی نام و نشان نہیں۔ اس کتاب کی ہارڈ کاپی کے حصول کا طریقہ یہی لگتا ہے کہ انڈیا میں کسی بک سیلر کے پاس قدیمی نسخے پڑے ہوں اور وہاں سے کوئی خرید کر اسے پاکستان بھجوا دے۔ ایک اور صورت یہ ہے کہ پاکستان سے کئی ادباء اور شعراء انڈیا آتے جاتے رہتے ہیں، ان سے درخواست کی جائے تو وہ کتاب پاکستان لا سکتے ہیں بشرط یہ کہ اس کا سراغ پہلے سے لگا لیا جائے کہ کتاب کہاں سے ملے گی؟
اور ہاں، یہ بتانا بھول گیا کہ میسور کی ایک لائبریری میں اس کتاب کی پانچوں جلدیں موجود ہیں۔ وہ ایسی آسانی سے نہ دیں گے۔ کسی انڈین محفلین کی ڈیوٹی لگائیں، کہ وہ ۔۔۔۔۔ سمجھ جائیں بس۔ کام مشکل ضرور ہے، نا ممکن نہیں۔ :)
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
کسی انڈین محفلین کی ڈیوٹی لگائیں، کہ وہ ۔۔۔۔۔ سمجھ جائیں بس۔ کام مشکل ضرور ہے، نا ممکن نہیں۔ :)
سمجھ میں نہیں آیا ۔ وضاحت فرمائیں جناب علی وقار صاحب قبلہ!
خدانخواستہ مجھے یہ لگا جیسے آپ یہ مشورہ دے رہے ہوں کہ کسی انڈین محفلین کی ڈیوٹی لگائیں کہ وہ پاکستانی کام کرے ؟!:unsure:
 
لیکن سب رنگ کی شکیل عادل زادہ کی بازیگر ڈائجسٹوں کی دنیا کا ایک شاہکار تھی - اتنی خوبصورت زبان اور اتنی مسحور کن داستان میں نے زندگی میں کبھی نہیں پڑھی -
اگر وہ ڈائجسٹ میں نہ چَھپا کرتی تو میں سمجھتا ہوں اردو افسانوی ادب میں اس سے بہتر کام کوئ اور شایدہوتا ہی نہیں -
سنا ہے بازیگر بہت دلچسپ ناول ہے۔
 

جاسمن

لائبریرین
کچھ عرصے سے میں نیٹ پہ
uunovels.com
پہ ڈائجسٹ پڑھ رہی ہوں۔ لیکن اس اپریل سے انھوں نے اشتہارات کی بھرمار کر دی ہے۔ ایک صفحہ پڑھو اور ایک منٹ کا اشتہار دیکھو۔ یہ بہت ناگوار گزرتا ہے۔
نیٹ پہ پڑھنے کا فیصلہ مشکل تھا۔ میں ہمیشہ خریدا کرتی تھی۔ لیکن جب سے سڑک پار کرتے حادثہ ہوا، میں سڑک پار کرنے سے ڈرنے لگی۔ اور ڈائجسٹ فرید گیٹ سے ملتے ہیں اور اس کے لیے مجھے سڑک پار کرنی پڑتی ہے۔
دیکھیں کتنی عام سی بات ہے لیکن میرے لیے بہت خاص ہے۔
 
کچھ عرصے سے میں نیٹ پہ
uunovels.com
پہ ڈائجسٹ پڑھ رہی ہوں۔ لیکن اس اپریل سے انھوں نے اشتہارات کی بھرمار کر دی ہے۔ ایک صفحہ پڑھو اور ایک منٹ کا اشتہار دیکھو۔ یہ بہت ناگوار گزرتا ہے۔
نیٹ پہ پڑھنے کا فیصلہ مشکل تھا۔ میں ہمیشہ خریدا کرتی تھی۔ لیکن جب سے سڑک پار کرتے حادثہ ہوا، میں سڑک پار کرنے سے ڈرنے لگی۔ اور ڈائجسٹ فرید گیٹ سے ملتے ہیں اور اس کے لیے مجھے سڑک پار کرنی پڑتی ہے۔
دیکھیں کتنی عام سی بات ہے لیکن میرے لیے بہت خاص ہے۔
جس کام میں کوئی فائدہ نا ہو اُسے چھوڑ دینا چاھئیے ۔ ڈائجسٹ سے بہتر ہے کہ آپ کو قرآنِ پاک تفصیر کے ساتھ پڑھنا چاھئیے ۔ جس میں دُنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیاں ہیں۔
 

شہزاد وحید

محفلین
شہزاد وحید! آپ بات کریں۔ ہم بھی آ جائیں گے۔ :)
میں نے سکول کے زمانہ میں اے حمید کی عاطون سیریز کا ایک ناول احرام مصر سے فرار پڑھا تھا لیکن اس سیریز کے چار حصے تھے لیکن باقی تین نہیں پڑھ پایا تھا۔ آج چاروں اکٹھے ایک پی ڈی ایف میں مل گئے تو دوبارہ پڑھنا شروع کیا ہے۔ اس وقت ہمارے علاقے میں دو لائبریریز ہوا کرتی تھی اور ایک سکول کا دوست جس سے کرادورں اور کہانی پہ بات کیا کرتا تھا۔ اب بہ وہ دوست رہے نہ وہ لائبریریز۔ عاطون سیریز ایم اے راحت کی صدیوں کا بیٹا سے ملتی جلتی ہے۔
 

شہزاد وحید

محفلین
اس بار جاسوسی ڈائجسٹ میں میرے پسندیدہ مصنف طاہر جاوید مغل کا ناول ہے "سربہ کف"
طاہر جاوید مغل واقعی ایک معتبر نام ہے۔ لیکن جو لت ایم اے راحت کی لگتی تھی اس کا پھر مہینوں کوئی توڑ نا ہوا کرتا تھا۔ عموما مجھے فی میل رائٹرز پسند نہیں آتی تھیں لیکن شمیم نوید کی بیگم سنجیدہ خاتون کا ناول جن زار اور سیما غزل کا چاند کے قیدی پڑھ کر یہ خیال بدل گیا تھا۔
 

شہزاد وحید

محفلین
کچھ عرصے سے میں نیٹ پہ
uunovels.com
پہ ڈائجسٹ پڑھ رہی ہوں۔ لیکن اس اپریل سے انھوں نے اشتہارات کی بھرمار کر دی ہے۔ ایک صفحہ پڑھو اور ایک منٹ کا اشتہار دیکھو۔ یہ بہت ناگوار گزرتا ہے۔
نیٹ پہ پڑھنے کا فیصلہ مشکل تھا۔ میں ہمیشہ خریدا کرتی تھی۔ لیکن جب سے سڑک پار کرتے حادثہ ہوا، میں سڑک پار کرنے سے ڈرنے لگی۔ اور ڈائجسٹ فرید گیٹ سے ملتے ہیں اور اس کے لیے مجھے سڑک پار کرنی پڑتی ہے۔
دیکھیں کتنی عام سی بات ہے لیکن میرے لیے بہت خاص ہے۔
ایک غیر اشتہاری ویب سائیٹ کتاب گھر کے نام سے ایک صاحب نے بنا رکھی ہے لیکن کئی سال گزر جانے کے باوجود کام کافی محدود ہے شاید وجہ خود ساری کمپوزنگ کرنا ہے۔ سب سے بہتر کام پاکستانی پوانٹ والو ں نے کر رکھا ہے۔ بے شمار کتب اور ناول بہتر کوالٹی میں مفت مہیا کر رکھی ہیں وہ بھی مصنفین کی کیٹا گریز بنا کر۔
 

شہزاد وحید

محفلین
جس کام میں کوئی فائدہ نا ہو اُسے چھوڑ دینا چاھئیے ۔ ڈائجسٹ سے بہتر ہے کہ آپ کو قرآنِ پاک تفصیر کے ساتھ پڑھنا چاھئیے ۔ جس میں دُنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیاں ہیں۔
آپ کو ساتھ اکاونٹ نمبر بھی دینا چاہئے جس میں مشورہ فیس ٹرانسفر کی جا سکے۔
 
Top