کتابوں کا نام اور تعارف

سید عمران

محفلین
عموماً لوگ اپنے دوست احباب کو کوئی کتاب پڑھنے کے لیے تو کہتے ہیں لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں ایسا تعارف کرائیں کہ سامنے والا اس کتاب کو پڑھنے پر مجبور ہوجائے۔ دوسرا یہ کہ اکثر ہمیں کتابوں کی فہرست بھی پڑھنے کو ملتی ہے یا کسی سے اس کا نام سننے کو ملتا ہے لیکن اس کتاب میں کیا ہے، یہ کس موضوع پر ہے اس بارے میں معلومات نہیں ملتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ اچھی کتابوں سے استفادہ حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عرض کرنا ہے کہ اس لڑی میں ان کتابوں کا نام اور مختصر تعارف و تبصرہ لکھیں جو آپ نے پڑھی ہوں اور آپ کو اچھی لگی ہوں۔ کتاب اردو، انگریزی، عربی، فارسی زبان میں اور کسی بھی موضوع پر ہوسکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ساری کتابوں کے بارے میں ایک ہی دن میں لکھ دیں،وقفے وقفے سے مگر تسلسل کے ساتھ روزانہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہیں۔ آپ کتابوں کا تعارف و تبصرہ کہیں سے کاپی پیسٹ بھی کرسکتے ہیں لیکن اگر حوالہ ہو تو زیادہ مفید رہے گا۔ ہر کتاب کا تعارف الگ الگ مراسلے میں بھیجیں تو پڑھنے اور بعد میں ڈھونڈھنے میں کافی سہولت رہتی ہے۔۔۔

اس طرح آہستہ آہستہ بہترین کتب کے بارے ایک عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا تیار ہوسکتا ہے۔ آگے چل کر ان کتب کو مختلف موضوعات کے لحاظ سے ترتیب میں بھی لایا جاسکتا ہے مثلاً مذہب، جغرافیہ، جنگیں، سیاست، تاریخ، سفرنامے، سوانح حیات، خود نوشت، ادب، شعبۂ اطفال، سائنس، طب، کلیات، دیوان، افسانے، طنز و مزاح ، رسائل و جرائد وغیرہ وغیرہ۔۔۔

مجھے نہیں معلوم کہ اردو میں اس طرح کا کام پہلے کبھی ہوا ہے یا نہیں البتہ صدیوں سے عربی زبان میں اس طرح کی کاوشیں وجود میں آتی رہی ہیں ۔ اس وقت عربی کی ایک کتاب ’’کشف الظنون‘‘ کا نام ذہن میں آرہا ہے جس میں اپنے وقت کی کئی کتب کا نام اور ان کا تعارف موجود ہے!!!
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
ابن جوزی کی کتاب الاذکیاء جس کا اردو ترجہ لطائف علمیہ کے نام سے ہوچکا ہے اور بڑے خاصے کی چیز ہے۔ ابن جوزی نے اس کتاب میں انبیاء کرام سے لے کر بادشاہوں اور مختلف پیشوں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ذہانت و فراست کے عجیب و غریب واقعات اکھٹے کیے ہیں۔
 

سید عمران

محفلین
ابن جوزی نے اپنی ایک اور کتاب ’’اخبار الحمقی و المغفلین‘‘ میں لوگوں کی حماقتوں کے واقعات اکٹھے کیے ہیں۔ شاید اس کا بھی اردو ترجمہ ہوچکا ہے۔ پڑھیئے اور سر دھنیئے۔
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
کتاب Alchemist جو کہ برازیلی مصنف پاؤلو کوئیلہوکی لکھی ہوئی ہے۔پاؤلو کوئیلہوکے لکھے ہوئے ناول الکیمسٹ نے مقبولیت کے غیر معمولی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق ستمبر 2012 تک اس کتاب کا دنیا کی 56 زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ آپ کی زندگی میں ہی اس کتاب کے اتنے زیادہ تراجم ہونے کی وجہ سے آپ کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ جب اس کتاب کو دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے تو اردو زبان کے شیدائی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ یہ کتاب اردو میں بھی ترجمہ کی جا چکی ہے۔ ”کیمیا گری” کے نام سے عمر الغزالی نے اس کا ترجمہ کیا ہے اور یہ ترجمہ سینٹر فار ہیومن ایکسی لینس کی پیش کش ہے۔

الکیمسٹ، ایک لڑکے، سان تیاگو کی کہانی ہے۔ سان تیاگو آزاد زندگی گزارنے کا خواہش مند تھا۔ اپنے باپ کے برعکس وہ پوری دنیا کی سیر کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس اس کے لئے وسائل نہیں تھے۔ ایک دن اس کا باپ اسے تین سونے کے سکے دیتا ہے اور اسے مشورہ دیتا ہے کہ تم چرواہا بن جاؤ، کیونکہ صرف وہ ہی ہیں جو کسی ایک جگہ محدود نہیں رہتے اور دنیا گھومتے رہتے ہیں۔ سان تیاگو ان تین سکوں سے بھیڑیں خریدتا ہے اور یوں چرواہا بن جاتا ہے۔ ایک رات وہ ایک خواب دیکھتا ہے جس میں اسے اہرام مصر کے پاس ایک خزانے کی موجودگی کا بتایا جاتا ہے لیکن خزانے کی اصل جگہ دیکھنے سے پہلے ہی اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لئے وہ ایک خانہ بدوش عورت کے پاس جاتا ہے جو اسے خزانے کی تلاش کے لئے اہرام مصر جانے کا مشورہ دیتی ہے۔ اسی دوران اسے ایک پراسرار بوڑھا آدمی ملتا ہے جو خود کو ایک دور دراز علاقے کا بادشاہ بتاتا ہے۔ وہ بوڑھام سان تیاگو کو بتاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہرحال وہ لڑکا اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے اور اس سفر کے دوران اس کے ساتھ کیا کچھ پیش آتا ہے یہ ناول اسی بارے میں ہے۔
ربط
 
آخری تدوین:
اچھا سلسلہ ہے۔ اگر آرکائیو ڈاٹ کام یا کہیں بھی بک پی ڈی ایف یا ای بک کی صورت میں موجود ہو، تو اس کا ربط فراہم کرنا بھی سود مند رہے گا۔
یا کم از کم پبلشر کی معلومات۔ :)
 

جاسمن

مدیر
کتاب Alchemist جو کہ برازیلی مصنف پاؤلو کوئیلہوکی لکھی ہوئی ہے۔پاؤلو کوئیلہوکے لکھے ہوئے ناول الکیمسٹ نے مقبولیت کے غیر معمولی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق ستمبر 2012 تک اس کتاب کا دنیا کی 56 زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ آپ کی زندگی میں ہی اس کتاب کے اتنے زیادہ تراجم ہونے کی وجہ سے آپ کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ جب اس کتاب کو دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے تو اردو زبان کے شیدائی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ یہ کتاب اردو میں بھی ترجمہ کی جا چکی ہے۔ ”کیمیا گری” کے نام سے عمر الغزالی نے اس کا ترجمہ کیا ہے اور یہ ترجمہ سینٹر فار ہیومن ایکسی لینس کی پیش کش ہے۔

الکیمسٹ، ایک لڑکے، سان تیاگو کی کہانی ہے۔ سان تیاگو آزاد زندگی گزارنے کا خواہش مند تھا۔ اپنے باپ کے برعکس وہ پوری دنیا کی سیر کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس اس کے لئے وسائل نہیں تھے۔ ایک دن اس کا باپ اسے تین سونے کے سکے دیتا ہے اور اسے مشورہ دیتا ہے کہ تم چرواہا بن جاؤ، کیونکہ صرف وہ ہی ہیں جو کسی ایک جگہ محدود نہیں رہتے اور دنیا گھومتے رہتے ہیں۔ سان تیاگو ان تین سکوں سے بھیڑیں خریدتا ہے اور یوں چرواہا بن جاتا ہے۔ ایک رات وہ ایک خواب دیکھتا ہے جس میں اسے اہرام مصر کے پاس ایک خزانے کی موجودگی کا بتایا جاتا ہے لیکن خزانے کی اصل جگہ دیکھنے سے پہلے ہی اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لئے وہ ایک خانہ بدوش عورت کے پاس جاتا ہے جو اسے خزانے کی تلاش کے لئے اہرام مصر جانے کا مشورہ دیتی ہے۔ اسی دوران اسے ایک پراسرار بوڑھا آدمی ملتا ہے جو خود کو ایک دور دراز علاقے کا بادشاہ بتاتا ہے۔ وہ بوڑھام سان تیاگو کو بتاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہرحال وہ لڑکا اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے اور اس سفر کے دوران اس کے ساتھ کیا کچھ پیش آتا ہے یہ ناول اسی بارے میں ہے۔
ربط
میرے بیٹے نے پڑھی ہے لیکن میں نے نہیں پڑھی۔
 

طاہر شیخ

محفلین
کتاب Alchemist جو کہ برازیلی مصنف پاؤلو کوئیلہوکی لکھی ہوئی ہے۔پاؤلو کوئیلہوکے لکھے ہوئے ناول الکیمسٹ نے مقبولیت کے غیر معمولی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق ستمبر 2012 تک اس کتاب کا دنیا کی 56 زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ آپ کی زندگی میں ہی اس کتاب کے اتنے زیادہ تراجم ہونے کی وجہ سے آپ کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ جب اس کتاب کو دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے تو اردو زبان کے شیدائی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ یہ کتاب اردو میں بھی ترجمہ کی جا چکی ہے۔ ”کیمیا گری” کے نام سے عمر الغزالی نے اس کا ترجمہ کیا ہے اور یہ ترجمہ سینٹر فار ہیومن ایکسی لینس کی پیش کش ہے۔
اس بارے میں مزید معلومات یہاں بھی ہیں
کچھ گفتگو یہاں بھی


ناول کی تفصیل میں جانے سے پہلے کچھ گزارشات اس ترجمے کے بارے میں ہیں۔ ترجمے کے آغاز سے پہلے اس کتاب کے بارے میں کچھ مشہور مصنفین کی رائے پیش کی گئی ہے۔ اس کے بعد مترجم کی طرف سے حرف آغاز ہے اور پھر کتاب کا تعارف دیا گیا ہے جو تیرہ صفحات پہ مشتمل ہے۔ تمام آراء اور تعارف مل کے کتاب کے بارے میں قاری کی سوچ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان تمام آراء میں کتاب کے بارے میں بہت اچھے انداز میں اظہار کیا گیا ہے۔ خاص طور پہ تفصیلی تعارف کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ کتاب اسلامی تعلیمات کے پرچار کے طور پہ لکھی گئی ہے۔ اس سوچ کی موجودگی میں قاری اس کتاب کو غیر جانبداری کے ساتھ اور ایک ناول کے طور پہ نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا اگر اس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ ہے تو ہماری رائے میں تعارف کو ناول ختم کرنے کے بعد پڑھا جائے ورنہ قاری تمام ناول میں کہانی اور مذہب کی مماثلت ہی ڈھونڈتا رہ جائے گا۔

ا
 
Top