چند ادبی لطیفے

جیہ نے 'علمی و ادبی لطیفے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 12, 2009

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک بار عبد المجید بھٹی احمد ندیم قاسمی کے مکان پر انہیں اپنے نئے ناول کا مسودہ سنا رہے تھے کہ اتنے میں وہاں منٹو صاحب آ گئے، آتے ہی انہوں نے بلند آواز کے ساتھ قاسمی صاحب سے کچھ پیسے مانگے۔ بھٹی صاحب نے منٹو کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے نہایت انکسار سے کہا۔ "منٹو صاحب، میں نے ایک ناول لکھا ہے، قاسمی صاحب کو سنا رہا ہوں۔ بیٹھیے آپ بھی سنیے۔

    "لاحول ولا۔" ،منٹو نے کہا، " میں اور تمہارا ناول سنوں، تم بھی عجیب ہونق انسان ہو، کیا مجھے بھی قاسمی کی طرح کوئی بزدل اور شریف آدمی سمجھ لیا ہے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  2. محمد امین

    محمد امین لائبریرین

    مراسلے:
    9,454
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Flirty
    کل کے جنگ سنڈے میگزین میں شایع ہونے والے مضمون سے اقتباس:

    ایک نشست میں تابش دہلوی نے فانی بدایونی سے متعلق ایک قصہ بیان کیا۔ یہ جامعہ عثمانیہ کے یومِ تاسیس پر ہونےوالے کل ہند مشاعرے کے حوالے سے تھا۔ مشاعرے میں سیماب اکبر آبادی اور حفیظ جالندھری پہلی ہرتبہ حیدرآباد دکن آئے تھے۔ اس مشاعرے میں فانی صاحب اور تابش صاحب ایک ساتھ پہنچے۔ اسٹیج پر حفیظ ان دونوں کے قریب ہی تشریف فرما ہوئے۔ مشاعرہ ختم ہوا تو حفیظ صاحب اور فانی بدایونی کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ غالباً یہ دونوں کی پہلی ملاقات تھی۔ حفیظ نے کہا، میں نے بچوں کے نصاب کے لیے ایک نظم لکھی ہے اور اس کے مجھے اتنے روپے ملے ہیں۔ تابش نے فرمایا کہ مجھے اس نظم کی ٹیپ یاد رہ گئی ہے جو اس طرح تھی "چل رے چرغ چرغ چوں"۔

    حفیظ صاحب نے فانی سے کہا کہ آپ بھی بچوں کے لیے لکھا کریں کیوں کہ جو شاعری آپ کرتے ہیں اس کی زیادہ سے زیادہ قدر یہی ہوگی کہ لوگ آپ کا دیوان خرید کر لائبریری میں رکھ لیں گے۔

    اس پر فانی بدایونی نے متانت کے ساتھ جواب دیا "جی ہاں! میری شاعری کا مجموعہ لائبریری میں ہوگا اور آپکا کلام بچے پڑھیں گے"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  3. محمد امین

    محمد امین لائبریرین

    مراسلے:
    9,454
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Flirty
    اس مضمون میں ایک اور واقعہ لکھا ہے مگر مجھے اس میں شبہ ہے کیوں کہ اس میں جگر صاحب کا ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے مشاعرے میں شرکت کرنا بتایا جا رہا ہے، اور ایک اور واقعے میں جگر صاحب کا ملیر میں ساتھی شعراء کے ساتھ پکنک پر جانا بیان کیا جا رہا ہے، جبکہ میرے ناقص خیال میں جگر کراچی میں تو نہیں رہے۔۔۔؟ کوئی تصحیح کرے تو میں وہ اقتباسات یہاں پوسٹ کروں۔۔۔
     
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ ملنے ملانے آئے ہوں، ضروری تو نہیں کہ کراچی میں انہوں نے رہائش ہی رکھی ہو۔
     
  5. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    مرحوم مشفق خواجہ سے ایک شاعر موصوف نے اپنے بے ربط و بے بہرہ
    شعری مسودے پر رائے حاصل کرنے کے لیے اخلاقی سماجی دبائو برتا تو
    مشفق خواجہ نے بادل نخواستہ مسودہ پر تحریر کیا کہ:
    "" جو لوگ کتاب نہیں پڑھتے یہ کتاب ان کے لیے مفید ہے ""
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اب یہ "خکلے باچا" کا ترجمہ کون کرے گا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    شاعر ناصر کاظمی جوتا خریدنے بازار تشریف لے گئے۔ دکاندار ناصر صاحب کا دوست اور پرمزاح طبیعت کا مالک تھا۔ناصر صاحب نے کئی جوتے پہلے اور کہنے لگے، "پہلے تو مجھے چھوٹا نمبر پورا آ جاتا تھا لیکن اب وہ نمبر پاؤں میں چھوٹا پڑ رہا ہے۔"

    دکاندار نے کہا، "جناب! اس کی وجہ یہ ہے کہ اب آپ کا پاؤں بھاری ہو گیا ہے۔"
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  8. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یک بار دلی میں رات گئے کسی مشاعرے یا دعوت سے مرزا غالب مولانا فیض الحسن فیض سہارنپوری کے ہمراہ واپس آ رہے تھے۔راستے میں ایک تنگ و تاریک گلی سے گزررہے تھے کہ آگے وہیں ایک گدھا کھڑا تھا۔مولانا نے یہ دیکھ کر کہا: مرزا صاحب! دلی میں گدھے بہت ہیں۔
    ‎مرزا نے کہا: نہیں حضرت، باہر سے آ جاتے ہیں۔مولانا جھینپ کر چپ ہو رہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  9. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جب مرزا غالب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں کالے صاحب کے مکان میں آ کر رہے تھے۔ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارکباد دی۔ مرزا نے کہا: کون کمبخت قید سے چھوٹا ہے۔ پہلے گورے کی قید میں تھا۔اب کالے کی قید میں ہوں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  10. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ کر پوچھا۔
    ‎ویل، ٹم مسلمان ہے۔
    ‎مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔
    ‎کرنل بولا۔ کیا مطلب؟
    ‎مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  11. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مراز غالب رمضان کے مہینے میں دہلی کے محلے قاسم جان کی ایک کوٹھری میں بیٹھے پچسی کھیل رہے تھے. میرٹھ سے ان کے شاگرد مفتی شیفتہ دہلی آئے، تو مرزا صاحب سے ملنے گلی قاسم جان آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رمضان کے متبرک مہینے میں مرزا پچسی کھیل رہے تھے۔ انہوں نے اعتراض کیا : “مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان بند کر دیا جاتا ہے۔“ مرزا غالب نے جواب دیا “مفتی
    ‎صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مرزا کے تنگ دستی کے دنوں میں جب پنشن وغیرہ بند تھی اور پینے پلانے کا سامان مہیا نہیں تھا، اپنے ایک خط میں اپنی حالت کو یوں بیان کرتے ہیں۔

    "میر مہدی، صبح کا وقت ہے، جاڑا خوب پڑ رہا ہے، انگھیٹی سامنے رکھی ہوئی ہے، دو حرف لکھتا ہوں، ہاتھ تاپتا جاتا ہوں، آگ میں گرمی سہی مگر وہ آتشِ مے کہاں کہ جب دو جرعے پی لئے فوراً رگ و پے میں دوڑ گئی، دل توانا ہوگیا، دماغ روشن ہوگیا۔ نفسِ ناطقہ کو تواجد بہم پہنچایا، ساقیٔ کوثر کا بندہ اور تشنۂ لب؟ ہائے غضب، ہائے غضب۔" "
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  13. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    راجندر سنگھ بیدی کی باتیں بہت دلجسپ اور بے ساختہ ہوتی تھیں۔ ایک بار دہلی کی ایک محفل میں بشیر بدر کو کلام سنانے کے لیے بلایا گیا تو بیدی صاحب نے جو میرے برابر بیٹھے تھے ۔ اچانک میرے کان میں کہا ۔

    یار ! ہم نے دربدر ، ملک بدر اور شہر بدر تو سنا تھا یہ بشیر بدر کیا ہوتا ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  14. aamir zulfiqar

    aamir zulfiqar محفلین

    مراسلے:
    43
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    ادبی لطیفے مسکراہٹ تک محدود رہتے ہیں۔ قہقہوں کے لیے بہرحال جاندار تحریریں ہی کام دکھاتی ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  15. x boy

    x boy محفلین

    مراسلے:
    6,208
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Breezy
    بہت اعلی
    جیہ جی
     
  16. مخلص انسان

    مخلص انسان محفلین

    مراسلے:
    724
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    شوکت تھانوی ایک مرتبہ شدید بیماری میں مبتلا ہو گئے۔
    مرض میں سر کے سارے بال جھڑ گئے۔
    دوست احباب عیادت کو آتے تو گنجے سر کو دیکھ کر پوچھتے کہ یہ کیا ہوا۔
    شوکت تھانوی اپنے مخصوص انداز میں کہتے: ’’ملک الموت آئے تھے، صورت دیکھ کر ترس کھا گئے
    لیکن جاتے ہوئے سر پر ایک چپت رسید کر کے چلے گئے۔‘‘
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. قاضی واجد الدائم

    قاضی واجد الدائم محفلین

    مراسلے:
    241
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
     
  18. bilal260

    bilal260 محفلین

    مراسلے:
    1,907
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Chatty
    بہت پر لطف لطائف ہے ان کو سمجھ سمجھ کر ہنسنا پڑا ہے۔:)
     
  19. عباد اللہ

    عباد اللہ محفلین

    مراسلے:
    1,276
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    ن م کی شاعری کیا ایسی ہی بے سر و پا ہے؟؟؟
    مجھے تو ان کی آزاد شاعری بہت بھلی معلوم ہوتی ہے
     
  20. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,391
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    :)

    پھر آپ "کاکے" اور "پپو" والے لطائف پڑھا کیجے۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر