چند ادبی لطیفے

جیہ نے 'علمی و ادبی لطیفے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 12, 2009

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اپنے لڑکپن کے زمانے میں ایک بار جب برق دہلوی کے آنکھیں دکھنے آئیں اور ان کے کسی دوست نے حال دریافت کیا تو برق صاحب نے فی الفور جواب میں یہ شعر سُنا دیا۔

    دل تو آتا تھا مگر اب آنکھ بھی آنے لگی
    پختہ کاری عشق کی یہ رنگ دکھلانے لگی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    امتیاز علی تاج کے متعلق شوکت تھانوی نے لکھا :

    "اگر یہ تخلص امتیاز صاحب نہ رکھ چکے ہوتے تو علامہ تاجور نجیب آبادی کو غالباً اپنے تخلص میں خوامخواہ "ور" لگانے کی ضرورت نہ ہوتی۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  3. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,391
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    واہ واہ سبحان اللہ !

    یہ لڑی تو کشتِ زعفران سے کم نہیں ہے۔ :grin: بہت لطف آیا ۔ خوشی ہوتی ہے کہ اس محفل میں ایسے ایسے باذوق دوست موجود ہیں کہ جن کی موجودگی کسی بھی ادبی محفل کے لئے باعثِ افتخار ہو سکتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت شکریہ محمد بھائی۔ آپ جیسے اراکین کی حوصلہ افزائی کے دم قدم سے یہ رونقیں ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    امراؤ سنگھ جو ہرگوپال تفتہ کے عزیز دوست تھے، ان کی دوسری بیوی کے انتقال کا حال تفتہ نے میرزا صاحب کو بھی لکھا تو انہوں نے جواباً لکھا۔ "امراؤ سنگھ کے حال پر اس کے واسطے مجھ کو رحم اور اپنے واسطے رشک آتا ہے۔ اللہ اللہ ایک وہ ہیں کہ دو بار ان کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ پچاس برس سے اوپر جو پھانسی کا پھندا گلے میں پڑا ہے، تو نہ پھندا ہی ٹوٹتا ہے نہ دم ہی نکلتا ہے۔"
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میرزا غالب ایک بار اپنا مکان بدلنا چاہتے تھے۔ چناں چہ اس سلسلے میں کئی مکانات دیکھے۔ جن میں ایک کا دیوان خانہ میرزا صاحب کو پسند آیا، مگر محل سرا دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔ گھر آ کر بیگم صاحبہ کو محل سرا دیکھنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ دیکھ کر واپس آئیں، میرزا صاحب نے پوچھا، تو بیگم صاحبہ نہ بتایا کہ "اس مکان میں لوگ بلا بتاتے ہیں۔"

    میرزا صاحب یہ سن کر بہت ہنسے اور ہنس کر کہا "کیا آپ سے بڑھ کر بھی کوئی اور بلا ہے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  7. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اعجاز صدیقی مرحوم (مدیر شاعر) حیدر آباد تشریف لے گئے تو بہت سے ادیب اور شاعر ان سے ملنے کے لیے آنے لگے۔ رشید الدین صاحب بھی ملاقات کے لیے آئے۔ اکرم جاوید نے اعجاز کو بتایا کہ یہ رشید الدین صاحب ہیں۔ اعجاز صاحب ان کی تحریروں کی وجہ سے انہیں پہچانتے تھے لیکن تعارف پہلی دفعہ ہو رہا تھا۔ مصافحہ کرنے کے بعد بولے "آپ تو اچھے خاصے موٹے ہیں پھر اتنا باریک کیوں لکھتے ہیں۔" یہ سن کر سب لوگ ہنسنے لگے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مولانا ظفر علی خان اور مولانا مرتضٰے احمد خان میکش ایک مشاعرہ میں اکٹھے تھے۔ میکش نے پانی مانگا، تو ایک سفید ریش بزرگ پانی لے کر آئے۔ اس پر میکش نے مصرع کہا :

    لے کے خود پیرِ مغاں ساغر و مینا آیا​

    ظفر علی خان نے فوراً گرہ لگائی :

    میکشو!شرم، تمہیں پھر بھی نہ پینا آیا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    علی گڑھ کے ایک مشاعرے میں جب گلزار دہلوی پڑھنے آئے، تو مشاعرے کی ہوٹنگ کا ماحول دیکھ کر کہا : حضرات، آج میرے پاس غزل نہیں ہے، میں نعت پیش کروں گا۔ نعت کا سن کر ہوٹنگ کرنے والوں نے باآواز بلند درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ڈی۔ سی۔ ایم کے مشاعرے میں کیفی اعظمی پڑھنے کے لیے آئے، تو سامعین سے کہا "حضرات! میں نے زندگی بھر زبانی مشاعرے پڑھے مگر آج غزل لکھ کر لایا ہوں، تاکہ آپ کو یقین ہو جائے کہ میں بھی پڑھا لکھا آدمی ہوں۔ اتنے میں قتیل شفائی نے آوازہ کسا، حضرات کیف صاحب کے ہاتھ میں جو کاغذ ہے، وہ کورا ہے۔ اس پر کیفی صاحب نے کہا "یہ قتیل بھی ان پڑھ ہے۔ لکھے ہوئے کو کورا کہہ رہا ہے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    احمد ندیم قاسمی کی ایک عزیزہ نے اردو ایم اے کا امتحان دیا تو پتا چلا کہ اس کے پرچے صوفی غلام مصطفٰے تبسم کے پاس چیک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ قاسمی صاحب سفارش کے لیے اس عزیزہ کو ساتھ لے کر صوفی صاحب کے گھر پہنچے۔ صوفی صاحب دعا سلام کے بعد فوراً ہی اٹھ کر کمرے کے اندر چلے گئے، جب وہ کافی دیر تک باہر تشریف نہ لائے، تو قاسمی صاحب کو صوفی صاحب کے برتاؤ پر بہت افسوس ہوا کہ چائے پوچھی نہ آنے کا مقصد سُنا اور اٹھ کر چلے گئے۔ اتنے میں صوفی صاحب ایک پرچہ ہاتھ میں لیے باہر آئے اور اسے قاسمی کو دیتے ہوئے پوچھا کہ فرمائیے، اس میں کتنے نمبر دے دوں؟ قاسمی صاحب اس پر بہت حیران ہوئے اور پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں اس کام کے سلسلے میں آیا ہوں۔ اس پر صوفی صاحب بولے "بھئی کل ۳۲ پرچے میرے پاس آئے تھے، اور ۳۱ اصحاب اس سے پہلے میرے پاس سفارش کے لیے آ چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ اس آخری پرچے کے سلسلے میں آئے ہوں گے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  12. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    لندن کے سفر میں ف۔ س۔ اعجاز نے جگن ناتھ آزاد کو بالوں میں تیل لگائے ہوئے دیکھ کر کہا "بالوں میں تیل نہ لگانے کی وجہ سے میرا بھی سر بھاری رہتا ہے۔ اگر ہو سکے تو تھوڑا تیل مجھے بھی عنایت کر دیجیے۔ ہاں سرسوں کا تیل ہو تو بہتر ہے کیوں کہ ان کے بالوں میں جو تیل لگا ہے اس سے خوش بُو آ رہی ہے۔" اس پر آزاد نے چہک کر کہا "بھئی کوئی ایسا ویسا تیل نہیں ہے، خالص چنبیلی کا تیل ہے۔" اور ساتھ ہی بیٹھے بیٹھے اپنا سر ف۔ س۔ اعجاز کی طرف جھکاتے ہوئے بولے "میرا سر سونگھ کر دیکھو کہ واقعی چنبیلی کے تیل کی خوش بُو ہے نا؟" ف۔ س۔ اعجاز نے فوراً جواب دیا معاف کیجیے میں چھچھوندروں کے اتنا قریب ہونا پسند نہیں کرتا۔ اس پر ساتھ بیٹھے ہوئے شمشیر سنگھ اور دوسرے سب ساتھی کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور ف۔ س۔ اعجاز کو محاورے کو برموقع استعمال کرنے کی داد دینے لگے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    غالباً ۱۹۰۹ یا ۱۹۱۰ عیسوی کی بات ہے کہ مولوی محمد یحیٰی تنہا، بی۔ اے۔ وکیل میرٹھ نے مولانا حالی کو اپنی شادی میں پانی پت سے بلایا۔ شادی کے بعد مولانا حالی اور مولوی محمد اسماعیل میرٹھی اور بعض دوسرے بزرگ بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ مولانا محمد اسماعیل میرٹھی نے مسکراتے ہوئے مولوی محمد یحیٰی تنہا سے کہا "اب آپ اپنا تخلص بدل دیں، کیونکہ اب آپ تنہا نہیں رہے۔" اس پر مولانا نے فرمایا کہ "نہین مولوی صاحب یہ بات نہیں، تن ہا تو یہ ابھی ہوئے ہیں۔" اس پر تمام مجلس مولانا حالی کی جودت طبع پر حیران رہ گئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  14. حماد

    حماد محفلین

    مراسلے:
    550
    موڈ:
    Brooding
    اگر یہ واقعہ سچا ہے تو بہت شرم کی بات ہے . ایسی قوم کو بھلا کون سدھار سکتا ہے جسکے ادیب اور دانشور بھی بد دیانتی اور سفارش جیسی برائیوں میں مبتلا ہوں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  15. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,774
    موڈ:
    Cheerful
    احمد ندیم قاسمی والا "لطیفہ" بجائے لطیفے کے ایک المناک واقعہ معلوم ہورہا ہے۔
    شمشاد بھائی یہ واقعہ کہاں سے لیا گیا ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. تانیہ

    تانیہ محفلین

    مراسلے:
    301
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    :laughing:
     
  17. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    روزنامہ جنگ کا ہر بدھ وار کو “مڈویک میگزین“ شائع ہوتا ہے۔ یہ مورخہ 4 مئی 2011 کے مڈویک میگزین میں شائع ہوا تھا۔

    http://76.12.127.225/jang_mag/arc_detail_article.asp?id=12802
     
  18. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جب منٹو کے افسانہ "بُو" پر کچھ ُبااخلاق" لوگ بدکے اور معاملہ عدالت تک پہنچا، تو ایک ادیب نے منٹو سے کہا

    "لاہور کے کچھ سرکردہ بھنگیوں نے ارباب عدالت سے شکایت کی ہے کہ آپ نے ایک افسانہ "بُو" لکھا ہے، جس کی "بدبُو" دور دور تک پھیل گئی ہے۔"

    منٹو نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ "کوئی بات نہیں، میں ایک افسانہ "فینائل" لکھ کر ان کی شکایت رفع کر دوں گا۔"
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  19. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک روز منٹو صاحب بڑی تیزی سے ریڈیو اسٹیشن کی عمارت میں داخل ہو رہے تھے کہ وہاں برآمدے میں مڈگارڈوں کے بغیر ایک سائیکل دیکھ کر لمحہ بھر کے لئے رک گئے ، اور پھر دوسرے ہی لمحے ان کی بڑی بڑی آنکھوں میں مسکراہٹ کی ایک چمکیلی سی لہر دوڑ گئی اور وہ چیخ چیخ کر کہنے لگے۔ "راشد صاحب، راشد صاحب، ذرا جلدی سے باہر تشریف لائیے۔" شور سن کر ن۔ م۔ راشد کے علاوہ کرشن چندر، اوپندر ناتھ اشک اور ریڈیو اسٹیشن کے دوسرے کارکن بھی ان کے گرد آ جمع ہوئے۔

    "راشد صاحب، آپ دیکھ رہے ہیں اسے!!" منٹو نے اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یہ بغیر مڈگارڈوں کی سائیکل! خدا کی قسم سائیکل نہیں، بلکہ حقیقت میں آپ کی کوئی نظم ہے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  20. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جگر مراد آبادی لاہور تشریف لے گئے تو کچھ مقامی ادیب و شاعر نیاز حاصل کرنے ان کی قیام گاہ پر پہنچے۔ جگر نہایت اخلاص اور تپاک سے ہر ایک کا خیرمقدم کر رہے تھے کہ اتنے میں سعادت حسن منٹو نے آگے بڑھ کر جگر صاحب سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔ "قبلہ، اگر آپ مراد آباد کے جگر ہیں، تو یہ خاکسار لاہور کا گردہ ہے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر