چند ادبی لطیفے

جیہ نے 'علمی و ادبی لطیفے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 12, 2009

  1. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    ایک محفل میں مولانا آزاد اور مولانا ظفر علی خان حاضر تھے۔ مولانا آزاد کو پیاس محسوس ہوئی تو ایک بزرگ جلدی سے پانی کا ہیالہ لے آئے۔ مولانا آزاد نے ہنس ارشاد کیا:

    لے کے اک پیرِ مغاں ہاتھ میں مینا، آیا

    مولانا ظفر علی خان نے برجستہ دوسرا مصرع کہا:

    مے کشو! شرم، کہ اس پر بھی نہ پینا آیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 38
  2. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    دہلی کے ایک ہند و پاک مشاعرے میں عبد الحمید عدم پنڈت ہری چند اختر کو دیکھتے ہی ان سے لپٹ گئے اور پوچھنے لگے: " پنڈت جی مجھے پہچانا؟ میں عدم ہوں۔

    اختر نے عدم کا موٹا تازہ جسم دیکھتے ہوئے مسکرا کر اپنے مخصوص انداز میں کہا:
    " اگر یہی عدم ہے تو وجود کیا ہوگا۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 31
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  3. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    ایک محفل میں کچھ شاعر بیخود دہلوی اور سائل دہلوی کا ذکر کر رہے تھے۔ ایک شاعر نے شعر سنائے جس میں دونوں کے تخلص نظم تھے۔ وہاں حیدر دہلوی بھی موجود تھے۔ شعر سن کر کہنے لگے ۔
    "اس شعر میں سائل اور بیخود تخلص صرف نام معلوم ہوتے ہیں۔ کمال تو یہ تھا کہ شعر میں تخلص بھی نظم ہو اور محض نام معلوم نہ ہو۔"

    کسی نے کہا یہ کیسے ممکن ہے۔؟ حیدر نے وہیں برجستہ یہ شعر کہہ کر سب کو حیران کر دیا:

    پڑا ہوں میکدے کے در پر اس انداز سے حیدر
    کوئی سمجھا کہ بے خود ہے کوئی سمجھا کہ سائل ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 31
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,195
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت اچھا جیہ ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت خوب جیہ ، جیتی رہو ،
    ------------------------------------
    ( کچھ وضاحتیں اس سے ہٹ کر ) حیدر دہلوی کا لقب ، خیام الہند تھا، علامہ نازش حیدری آپ ہی کے شاگرد تھے،
    ( اجمالاً ایک تعارفی خاکہ پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں)۔۔۔
    ("اس شعر میں سائل اور بیخود تخلص صرف نام معلوم ہوتے ہیں۔ کمال تو یہ تھا کہ شعر میں تخلص بھی نظم ہو اور محض نام معلوم نہ ہو۔")
    یہ ازرہِ تفنن تو ٹھیک ہے مگر صنعتِ شعری میں‌اساتذہ اسے عیب سے تعبیر کرتے ہیں یعنی تخلص بطور لفظ کے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
  7. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    شکریہ صَدیقِ‌من
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    شکریہ محمود

    یہ تو آپ عجیب کہہ رہے ہیں۔ ہم نے اس کے الٹ سنا ہے۔ مومن دہلوی کا نام اس ذیل میں لیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے تخلص کا با معنی استعمال کیا ہے۔ پشتو میں اباسین یوسفزئ بھی اس وجہ سے مشہور ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  9. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,900
    شکری محترمہ عمدہ لطائف ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ جیہ، آپ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہیں کہ بہت سے لوگوں کی شناخت اسی طرح سے ہے ، استادقمر جلالوی اس میں ملکہ رکھتے تھے، مگر جو غلط ہے سو غلط ہے ( نکاتِ سخن کے تحت)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  12. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    چلیں اساتذہ

    بابا جانی
    وارث
    فرخ
    اور فاتح صاحبان
    کی رائے لیتے ہیں کہ یہ غلط ہے یا درست
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  13. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    جیسے آپ کی مرضی،
     
  14. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میرے خیال آپ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ صحیح بات کر رہے ہیں :)

    تخلص کو اس انداز سے استعمال کرنا کہ اس سے وہ نہ صرف ذو معنی ہو جائے بلکہ اس سے شعر چمک اٹھے ایک خوبی ہے، جیسے مومن، داغ یا قمر جلالوی نے اپنے اپنے تخلص کو استعمال کیا ہے۔

    تخلص کو بطور اسم یا فعل یا صفت اسطرح استعمال کرنا کہ اس سے یہ واضح ہی نہ ہو کہ شاعر نے اسے بطور تخلص استعمال کیا ہے بہرحال عیب ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
    • متفق متفق × 1
  15. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ وارث صاحب،
    لو بھئی جیہ ہم دونوں ہی ٹھیک تھے ۔، اب خوش :rollingonthefloor:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. mfdarvesh

    mfdarvesh محفلین

    مراسلے:
    6,524
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوب، شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    شکریہ درویش

    وارث صاحب کا کیا کہنا۔۔۔ سانپ بھی مار دیا اور لاٹھی کو بھی بچا گئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  18. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    ادبی لطائف کیا ہوئے ؟
    (یہ گاڑھی ادبی بحثیں کسی اورموقع کے لئے رکھ چھوڑئیے)
    وسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  19. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    وارث صاحب انتہائی لطیف پیرائے میں تخلص کے استعال کے متعلق بیان فرما ہی چکے ہیں لیکن چونکہ ہم ان کے دستِ محبت پر بیعت ہیں لہٰذا "تائیداً" کچھ عرض کرنا نہ صرف اپنے لیے باعثِ شرف و عزت جانتے ہیں بلکہ اسے مال و دولت میں اضافے کا تعویذ بھی مانتے ہیں۔

    شاعری میں ایسی کئی صنائع ہیں جن کا استعمال شعر کو خوبصورت بنا دیتا اور قاری کے دل و دماغ کو معانی کے ساتھ ساتھ اس کی ہیئت بھی لطف دیتی ہے۔ شاعر انہی صنائع کو اگر "بر محل" اور "تکنیک" کے ساتھ استعمال کرے تو اس کا شعر گراں مایہ کہلاتا ہے جب کہ اس کے بر عکس ان کا بھونڈا استعمال شعر کو پستی میں گرا دیتا ہے۔
    محمود مغل صاحب اور جیہ صاحبہ کی ادبی بحث بھی اسی قسم کی ایک صنعت کے متعلق ہے اور یہی قاعدہ اس پر لاگو ہوتا ہے کہ بر محل اور عمدگی کے ساتھ تخلص کو بطور صفت، اسم یا فعل برتنا اعلیٰ پائے کے شعرا کا خاصہ رہا ہے لیکن بہرحال اس شعر سے یہ واضح ہوتا ہو کہ تخلص کا یہ استعمال کسباً ہے۔ جیسا کہ وارث صاحب نے چند شعرا کے نام بھی لیے ان میں کئی اور ناموں کے ساتھ ایک نام خمارؔ بارہ بنکوی کا بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
    میرؔ کے درج ذیل شعر کی تشریح میں بھی کئی شارحین کا اتفاق ہے کہ اس میں میرؔ صاحب نے تخلص کو بطور اسم، بمعنی بادشاہ استعمال کیا ہے۔
    ہم ہوئے، تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
    اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے​
    اس طرح کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 10
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,193
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں نے تو ابھی دیکھا ہے اس کو۔۔
    وارث سے میں متفق ہوں۔ لیکن اس کی وضاحت میں یہ کہوں گا کہ تخلص محض نام کے طور پر آئے، محض تقطیع کے لئے تو وہ بھی معیوب نہیں، جائز تو ہے لیکن حسن بھی نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9

اس صفحے کی تشہیر