چند ادبی لطیفے

جیہ نے 'علمی و ادبی لطیفے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 12, 2009

  1. atta

    atta محفلین

    مراسلے:
    90
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت عمدہ لڑی ہے یہ ادبی لطائف.مرتبین کا شکریہ
     
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,341
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ایک دفعہ مولانا ظفر علی خان کے نام مہاشہ کرشنؔ ، ایڈیٹر ’’پرتاب‘‘ کا ایک دعوت نامہ آیا جس میں لکھا تھا:
    ’’(فلاں) دن پروشنا (فلاں) سمت بکرمی میرے سُپّتر ویرندر کا مُونڈن سنسکار ہوگا۔ شریمان سے نویدن ہے کہ پدھار کر مجھے اور میرے پریوار پر کرپا کریں‘‘۔ (شُبھ چنتک کرشن)
    (فلاں دن میرے بیٹے ویرندر کی سرمنڈائی ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ تشریف لاکر مجھ پر اور میرے خاندان پر مہربانی کریں)
    مولانا نے آواز دی:
    ’’سالک صاحب! ذرا آیئے گا۔ فرمایا کہ مہربانی کرکے اس دعوت نامے کا جواب میری طرف سے آپ ہی لکھ دیجیے۔ برسات کے دن ہیں، بارش تھمنے کا نام نہیں لیتی۔ میں کہاں جاؤں گا۔ معذرت کردیجیے‘‘۔
    میں نے اسی وقت قلم اٹھایا اور لکھا:
    ’’جمیل المناقب، عمیم الاحسان معلی الالقاب، مدیرِ پرتاب
    السلام علیٰ من التبع الہدیٰ
    نامۂ عنبر شمامہ شرفِ صدور لایا۔ ازبسکہ تقاطرِ امطار بحدے ہے کہ مانعِ ایاب و ذہاب ہے۔ لہٰذا میری حاضری متعذّر ہے۔
    العُذر عِندَ کِرامِ النَّاسِ مقبول‘‘۔
    الرّاجی الی الرحمۃ والغفران
    ظفر علی خان
    مہاشہ کرشن نے یہ خط پڑھنے کی کوشش کی۔ کچھ پلے پڑنا تو درکنار، وہ پڑھنے میں بھی ناکام رہے۔ آخر مولانا کو دفتر ’’زمیندار‘‘ ٹیلی فون کرکے پوچھا:
    ’’مولانا! آپ کا خط تو مل گیا، لیکن یہ فرمایئے کہ آپ آسکیں گے یا نہیں؟‘‘
    اس پر مولانا ظفر علی خان نے بے اختیار قہقہہ لگایا اور مہاشہ جی سے کہا کہ:
    ’’آپ کا خط میں نے ایک پنڈت جی سے پڑھوایا تھا۔ آپ بھی کسی مولوی صاحب کو بلاکر میرا خط پڑھوا لیجیے‘‘۔
    (ماخوذ ’’نوادراتِ سخن‘‘ صفحہ 82، 83)
    بشکریہ ہفت روزہ فرائیڈے سپیشل
     
    • پر مزاح پر مزاح × 11
    • زبردست زبردست × 1
  3. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    انور صابری ایک بار پاکستان گئے ہوئے تھے۔ راولپنڈی کے مشاعرہ میں شرکت کے بعد تفریحاً بس سے مری جانے کی ٹھانی اور تنہا ہی نکل کھڑے ہوئے۔ بس میں ان کے ساتھ والی نشست پر انہی کے سے جان جثہ کی ایک بزرگ خاتون آ کر بیٹھ گئیں۔ انور صابری صاحب نے وقت گزاری کے لئے ان خاتون سے پوچھا: آپ کہاں جا رہی ہیں ؟
    خاتون نے کہا:
    میں مری جا رہی ہوں۔

    صابری صاحب خاموش بیٹھے رہے۔ اب ان خاتون نے پوچھا، اور بھائی آپ کہاں جا رہے ہیں ؟
    انور صابری صاحب نے بڑی متانت سے جواب دیا:
    میں مرا جا رہا ہوں !
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
    • زبردست زبردست × 1
  4. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,702
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    جوش ملیح آبادی اپنے بے باک خیالات کے باعث خاصی شہرت رکھتے تھے۔ ایک مشاعرے میں اپنا کلام سنانا شروع کیا تو ان کے جرات مندانہ خیالات سن کر فورا ایک جذباتی صاحب بولے:
    ہم مشاعرہ سننے آئے ہیں، کفر سننے کے لیے نہیں۔

    جوش نے ترکی بہ ترکی جواب دیا:
    ہم بھی مشاعرہ سنانے آئے ہیں، تراویح پڑھانے نہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. راشد اشرف

    راشد اشرف محفلین

    مراسلے:
    1,443
    سائل مجھ کو کہتے ہیں شاد میں اس سے ہوتا ہوں
    (یہ مصرع یاد نہیں رہا)
    دکھیا ہوں ملنگتا ہوں بول نہ ہوگا کیوں بالا
    غالب میرے دادا تھے اور میں غالب کا پوتا ہوں

    دوسرا مصرع کوئی دوست بتا سکیں تو عنایت ہوگی وارث
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  6. ایچ اے خان

    ایچ اے خان معطل

    مراسلے:
    14,183
    موڈ:
    Cool
    معاف کرنا مجھے علم نہیں
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  7. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,680
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    افسوس راشد صاحب، میرے علم میں نہیں ہے!
     
  9. sani moradabadi

    sani moradabadi محفلین

    مراسلے:
    101
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cheerful
    یہ ڈائیلاگ تو عدم کے لیے جوش ملیح آبادی نے مارا تھا شاید
     
  10. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    نوعمر ی کے زمانے میں شوکت تھانوی نے ایک غزل کہی اور بڑی دوڑ دھوپ کے بعد ماہنامہ’’ترچھی نظر‘‘ میں چھپوانے میں کامیاب ہوگئے ۔ غزل کا ایک شعر تھا ۔
    ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے
    ترے کوچے میں جاکر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں
    شوکت تھانوی کے والد کی نظر سے اپنے صاحبزادے کایہ کارنامہ گزرا تو اس شعر کو پڑھ کر بہت سیخ پا ہوئے اور شوکت کی والدہ کو یہ شعر سناکر چیختے ہوئے بولے۔’’میں پوچھتا ہوں یہ آوارہ گرد آخر اس کوچے میں جاتا ہی کیوں ہے؟‘‘
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • زبردست زبردست × 1
  11. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,705
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    فیروز خان نون کی پہلی بیوی بیگم نون کے نام سے موسوم تھیں۔ جب فیروز خان نون نے دوسری شادی کر لی تو ان کی ایک شناسا نے مولانا سالک سے بطور مشورہ پوچھا، “ اب دوسری بیوی کو کیا کہا جائے گا؟“

    مولانا نے بے ساختہ جواب دیا، “آفٹر نون۔“
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  12. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,705
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جناب تابش صدیقی صاحب بہت عمدہ :flower::flower::flower::flower::flower:
     

اس صفحے کی تشہیر