چند ادبی لطیفے

جیہ نے 'علمی و ادبی لطیفے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 12, 2009

  1. راجہ صاحب

    راجہ صاحب محفلین

    مراسلے:
    6,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    پڑا ہوں میکدے کے در پر اس انداز سے حیدر
    کوئی سمجھا کہ بے خود ہے کوئی سمجھا کہ سائل ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. عمران القادری

    عمران القادری محفلین

    مراسلے:
    725
    واقعی ادبی لطیفے ادبی ہی ہوتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. آفت

    آفت محفلین

    مراسلے:
    507
    جھنڈا:
    England
    بہت خوب
    کیپ اٹ اپ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اردو کا جنازہ

    محفل میں کسی شخص نے سر عبد القادر کے سامنے عطاء اللہ بخاری کی جادو بیانی کی بہت تعریف کی۔ سر عبد القادر بولے، " ہاں بھائی، عطاء اللہ شاہ بخاری خوب بولتے ہیں لیکن محسن الملک مرحوم بھی کسی سے کم نہ تھے۔"

    پھر انہوں نے نواب محسن الملک مرحوم کی جادو بیانی کا ذکر کرتے ہوئے دو واقعات سنائے، کہنے لگے۔

    1900ء میں‌یوپی کے لفٹیننٹ گورنر سر انتونی میکڈانل نے اردو کے خلاف مہم شروع کی تو نواب محسن الملک نے اس کا جواب دینے کے لیے لکھنؤ میں ایک بہت بڑا جلسہ کیا جس میں، میں بھی شریک ہوا۔ محسن الملک نے اس جلسے میں جس جوش و خروش سے تقریر کی، اس کی نظیر میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ یوں سمجھئے کہ الفاظ کا ایک لاوا تھا جو اُبل اُبل کر پہاڑ سے نکل رہا تھا۔ آخر میں نواب محسن الملک نے یہ کہتے ہوئے کہ اگر حکومت اردو کو مٹانے پر ہی تُل گئی ہے تو بہت اچھا، ہم اردو کی نعش کو گومتی دریا میں بہا کر خود بھی ساتھ ہی مٹ جائیں گے اور والہانہ انداز میں یہ شعر پڑھا :

    چل ساتھ کہ حسرت دل محروم سے نکلے
    عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

    (اقتباس : نور احمد چشتی کی کتاب "یادگار چشتی" سے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 14
  5. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مولوی مدن کی تلاش

    معروف ہندو رہنما مدن موہن مالویہ کی بے ہنگم ڈاڑھی پر ایک شاعر نے پھبتی کسی تھی :

    ہزار شیخ نے ڈاڑھی بڑھائی سن کی سی
    مگر وہ بات کہاں مالوی مدن کی سی

    اس شعر کے ساتھ "حسن سلوک" یہ ہوا کہ بعد کے دور میں کسی کاتب نے اس کی "اصلاح" کر دی اور مالوی کو مولوی کر دیا۔ اس نے سوچا ہو گا، ایک مولوی ہوتا ہے ایک مولانا، یہ مالوی تو سنا نہیں۔ ضرور پہلے والے کاتب کی غلطی ہے۔ چنانچہ اب یہ شعر یوں لکھا جاتا ہے :

    ہزار شیخ نے ڈاڑھی بڑھائی سن کی سی
    مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

    حالانکہ بے چارے "مدن" نام کا کوئی مولوی کبھی تھا ہی نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    راستے میں صابر کرائیلا کو جب علم ہوا کہ عنقریب ہمارے اور حمایت علی شاعر کے صاحب زدگان بھی تعلیم کی غرض سے امریکا آنے والے ہیں تو انہوں نے اطاعاً بتایا کہ جاں نثار اختر کے بیٹے ڈاکٹر سلمان بھی یہاں رہتے ہیں اور بہت کامیاب ڈاکٹر ہیں۔ جگن ناتھ آزاد کہنے لگے بہت پہلے کی بات ہے، بمبئی میں جاں نثار اختر کے یہاں میں اور بنے بھائی بیٹھے تھے۔ اتنے میں سلمان آ گیا۔ میرے پوچھنے پر ان نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر ہے۔ میں نے اسے فوراً اپنی تکلیف بتائی، بیٹا میری دائیں پنڈلی میں کبھی کبھی شدید درد اٹھتا ہے۔ ان نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا "انکل، میں تو دماغی امراض کا ڈاکٹر ہوں۔" میں نے یہ سن کر کہا "اچھا، تو جاؤ اپنے ابا کا علاج کرو۔"

    (اقتباس : محسن بھوپالی کے سفر نامے "حیرتوں کی سر زمین" سے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  7. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مشاعرہ ہو رہا تھا۔ طرح مصرع تھا :

    خوگر ہوں میں دلبر ہوں !

    سامعین میں سے ایک صاحب “میں ہوں، میں ہوں“ کا شور کر کے شعر کا مزہ کرکرا کر رہے تھے۔ ایک شاعر اُن سے چڑ گیا۔ اس نے اپنا کلام یوں شروع کیا :

    غم نہ کر تُو، بڑے رنج کا خوگر ۔۔۔۔ “میں ہوں، میں ہوں“

    وہ صاحب حسب عادت “میں ہوں، میں ہوں“ کہہ کر داد دینے لگے۔ شاعر نے ان کے شور سے زچ ہو کر یہ مصرع پڑھا۔

    لگا جس کے ہاتھ ناریل، وہ بندر ۔۔۔۔

    اور حست عادت وہی صاحب “میں ہوں، میں ہوں“ کہہ کر زور سے داد دینے لگے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک دفعہ ایک مشہور شاعر کسی ہوٹل میں کھانا کھانے کے لیے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک دوست مل گئے۔ انہیں بھی ساتھ لیا۔ ہوٹل پہنچ کر شاعر صاحب نے پوچھا : “کیا کھاؤ گے؟“

    ان صاحب نے جواب دیا، “میں تو کھانا کھا کر آیا ہوں۔ اگر آپ اتنا ہی اصرار کر رہے ہیں تو دودھ پی لیتا ہوں۔“

    چناں چہ انہوں نے اپنے لیے مرغی اور دوست کے لیے دودھ منگوایا۔ جب شاعر صاحب مرغی کھا چکے تو اس کی ہڈیوں پر زور آزمائی کرنے لگے۔ جب ہڈیوں میں سے کڑاک کڑاک کی آوازیں آنے لگیں تو ان کے دوست نے ان سے طنزیہ پوچھا، “ آپ کے شہر کے کُتے کیا کرتے ہیں؟“

    شاعر نے اپنے کام کو بڑے اطمینان و سکون سے جاری رکھتے ہوے کہا، “بھئی وہ دراصل دودھ پیتے ہیں۔“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. ام نور العين

    ام نور العين معطل

    مراسلے:
    2,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    D : عطاء الحق قاسمی کہتے ہیں کہ جملہ باز ، دوستی کا نقصان برداشت کر لیتے ہیں ، مگر ذہن میں آیا جملہ کہنے سے نہیں رکتے ۔ یہ لطیفہ تو ان کے اس قول کا شاہد ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  10. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک شاعر کا نیا مجموعہ مارکیٹ میں آیا تو ان کے ایک قاری نے ایک محفل میں ملاقات کے دوران میں انہیں مجموعے کے بارے میں مبارک باد دی اور بولا، “ اس مجموعے کا اختتام بہت اچھا ہے۔“

    “اور آغاز کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ شاعر نے پوچھا۔

    “ابھی میں وہاں تک نہیں پہنچا۔“ قاری نے جواب دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک شاعر نے ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا “میں کیوں زندہ ہوں“

    شاعر نے یہ نظم ایک رسالے کو پوسٹ کر دی۔

    چند ہفتوں بعد شاعر کو ایڈیٹر کا جواب ملا، جس میں لکھا تھا، “کیوں کہ آپ نے یہ نظم ڈاک سے بھیجی ہے، خود لیکر آتے تو زندہ نہ رہتے۔“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  12. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فیروز خان نون کی پہلی بیوی بیگم نون کے نام سے موسوم تھیں۔ جب فیروز خان نون نے دوسری شادی کر لی تو ان کی ایک شناسا نے مولانا سالک سے بطور مشورہ پوچھا، “ اب دوسری بیوی کو کیا کہا جائے گا؟“

    مولانا نے بے ساختہ جواب دیا، “آفٹر نون۔“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بے چارہ

    راولپنڈی کی ایک ادبی تقریب میں ایک مصورہ نے جمیل آذر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے گھر پر اپنے نام کی تختی لگوائیں۔

    “اب تختی لگوانے کا کیا فائدہ؟“ ایک خاتون بولیں “گھر تو تم نے دیکھ ہی لیا ہے بے چارے کا۔“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اچھی بیوی

    ادبی تنظیم قافلہ کے اجلاس میں سیما پیروز نے کہا، “میرے میاں اتنے اچھے ہیں کہ میں ان کی غیر حاضری میں بھی ان کی بہت تعریف کرتی ہوں۔“

    “اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ بہت اچھی بیوی ہیں۔“ شہزاد احمد نے کہا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  15. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بے ادب

    عبد الحمید عدم نے اپنے ایک ملاقاتی سے پوچھا، “حضور کیا آپ بھی ادب سے شوق رکھتے ہیں۔“

    ملاقاتی ایک مال دار تاجر تھا، بولا، “کبھی کبھار کوئی کتاب پڑھ لیتا ہوں، یوں میرا ادب سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔“

    عدم نے بڑی معصومیت سے کہا، “تو گویا آپ بے ادب ہوئے؟“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    علامہ اقبال کی حاضر جوابی

    بچپن میں علامہ اقبال کے استاد نے انہیں املا لکھوائی تو انہوں نے “غلط“ کو ط کے بجائے ت سے لکھا۔ استا د نے ٹوکا کہ “غلط“ کو ط سے لکھا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے برجستہ کہا “کہ غلط کو غلط ہی لکھنا چاہیے۔“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
  17. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    معروف قرض

    شاعر مشرق ایک روحانی شخصیت کے پاس تشریف فرما تھے۔ اس دوران ایک دیہاتی مرید وہاں آیا اور پیر صاحب کے ہاتھ چومتے ہوئے کہا “سرکار مجھ پر ایک سور وپے کا قرض ہے۔ دعا کریں کہ یہ قرض جلد اتر جائے۔“ یہ کہہ کر دیہاتی نے پانچ روپے پیر صاحب کی خدمت میں پیش کیے۔ علامہ اقبال مسکرائے “پہلے سو روپے قرض تھا اب ایک سو پانچ ہو گئے ہیں۔“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 12
  18. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,072
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    بہت خوب۔۔۔۔
     
  19. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت زبردست شمشاد بھائی۔
     
  20. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    204,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جوتوں کی دکان

    اکبر الٰہ آبادی سے ایک شخص نے آ کر کہا کہ میں نے جوتوں کی دکان کھولی ہے۔ اس کے لیے آپ کوئی شعر عطا فرمائیے۔ اکبر الٰہ آبادی نے برجستہ یہ شعر کہا :

    شو میکری کی کھولی ہے ہم نے دکان آج
    روٹی تو ہم کمائیں گے جوتوں کے زور پر​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3

اس صفحے کی تشہیر