چشم تر میں ڈوب کر میری وہ کیوں حیران تھا

ہو جفا فطرت میں جس کی قابل چاہت نہیں
میں نے چاہا زندگی کو کس قدر نادان تھا
بات قسمت کی ہے راجا ہم الجھ کر رہ گئے
مل گئی منزل اسے رستے سے جو انجان تھا

واہ بہت خؤب۔ بہت داد قبول فرمائیے امجد علی راجا بھائی۔ بہت خوبصورت غزل۔
 

نایاب

لائبریرین
جگ جگ جیو راجہ بھائی
کیا خوب کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نازکی اس گلبدن کی جس طرح شبنم کی بوند
جسم سنگ مرمریں یا کانچ کا گلدان تھا
 
زیر اور واو کے ساتھ تراکیب سازی (مرکب توصیفی یا مرکب اضافی) صرف عربی اور فارسی اسماء و افعال میں جائز ہے۔​

اس جملے کو یوں پڑھئے:
تراکیب سازی: زیر کے ساتھ (مرکب توصیفی یا مرکب اضافی) اور واو کے ساتھ (مرکب عطفی) صرف عربی اور فارسی اسماء و افعال میں جائز ہے۔
 
چلتے چلتے ایک اور نکتہ دیکھ لیجئے:

ال تعریفی عربی کا خاصہ ہے اس کے ساتھ ترکیب سازی صرف عربی اسماء میں ہو سکتی ہے۔
’’جوان العمر‘‘ درست ترکیب نہیں ہے۔ ’’الشہباز‘‘ کوئی لفظ نہیں۔
 

یوسف-2

محفلین
سرخ پھولوں میں چھپے کانٹوں کو مت الزام دو
مجھ کو خود ہی پھول چننے کا بڑا ارمان تھا
:great:
 

شیزان

لائبریرین
وقت نے نوچے ہیں چہرے سے نقاب خوش نما
آج نفرت ہے اسی سے کل جو میری جان تھا

بہت ہی خوب!
حاصلِ غزل ہے یہ شعر۔۔
سدا جیئو راجا جی
 
Top