چشم تر میں ڈوب کر میری وہ کیوں حیران تھا

چشم تر میں ڈوب کر میری وہ کیوں حیران تھا
اس سے پہلے وہ مری الفت سے کیا انجان تھا؟
سرخ پھولوں میں چھپے کانٹوں کو مت الزام دو
مجھ کو خود ہی پھول چننے کا بڑا ارمان تھا
وقت نے نوچے ہیں چہرے سے نقاب خوش نما
آج نفرت ہے اسی سے کل جو میری جان تھا
نازکی اس گلبدن کی جس طرح شبنم کی بوند
جسم سنگ مرمریں یا کانچ کا گلدان تھا
ہو جفا فطرت میں جس کی قابل چاہت نہیں
میں نے چاہا زندگی کو کس قدر نادان تھا
بات قسمت کی ہے راجا ہم الجھ کر رہ گئے
مل گئی منزل اسے رستے سے جو انجان تھا

 
واہ راجا بھائی چھا گئے آپ تو:applause:
ہر شعر کو میری طرف سے "زبردست" کی ریٹنگ(y)
اور ان اشعار کو دو بار کی ریٹنگ(y)(y)


سرخ پھولوں میں چھپے کانٹوں کو مت الزام دو
مجھ کو خود ہی پھول چننے کا بڑا ارمان تھا

ہو جفا فطرت میں جس کی قابل چاہت نہیں
میں نے چاہا زندگی کو کس قدر نادان تھا
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
واہ راجا بھائی۔۔۔ کمال ہے۔۔ بہت سی داد وصول کر لیں جلدی سے۔۔۔ :)

وقت نے نوچے ہیں چہرے سے نقاب خوش نما​
آج نفرت ہے اسی سے کل جو میری جان تھا​
واہ کیا کہنے​
 
بھائی امجد علی راجا صاحب طویل غیر حاضری کےبعد آج آپ کا کلام پڑھنے کو ملا ، بہت خوب
ہو جفا فطرت میں جس کی قابل چاہت نہیں
میں نے چاہا زندگی کو کس قدر نادان تھا
زبیر بھیا حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ
طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے غیرحاضری رہی کافی دن۔ الحمد للہ اب طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو حاضر ہو گیا۔
 
واہ راجا بھائی۔۔۔ کمال ہے۔۔ بہت سی داد وصول کر لیں جلدی سے۔۔۔ :)

وقت نے نوچے ہیں چہرے سے نقاب خوش نما​
آج نفرت ہے اسی سے کل جو میری جان تھا​
واہ کیا کہنے​
بہت شکریہ نیرنگ خیال بھیا! آپ دی داد سر آنکھوں پر
 
آپ کی یہ کاوش بھی اچھی لگی، امجد علی راجا صاحب۔
’’قابلِ چاہت‘‘ درست ترکیب نہیں ہے، ’’نوچے ہیں‘‘ کی بجائے ’’نوچا ہے‘‘ کر کے دیکھ لیجئے۔ باقی ساری غزل مناسب ہے۔

اب کیسی ہے آپ کی صحت، طبیعت، مزاج؟
 
آپ کی یہ کاوش بھی اچھی لگی، امجد علی راجا صاحب۔
’’قابلِ چاہت‘‘ درست ترکیب نہیں ہے، ’’نوچے ہیں‘‘ کی بجائے ’’نوچا ہے‘‘ کر کے دیکھ لیجئے۔ باقی ساری غزل مناسب ہے۔

اب کیسی ہے آپ کی صحت، طبیعت، مزاج؟
حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ استادِ محترم!
"قابل" اور "چاہت" ایک زبان کے الفاظ نہیں یا کوئی اور وجہ ہے ترکیب درست نہ ہونے کی؟
واہ، نوچے کی بجائے نوچا خوب لگ رہا ہے کہ دوسرے مصرعے میں فردِ واحد کا ذکر ہے، شکریہ۔

الحمداللہ، صحت اور طبیعت دونوں پہلے سے بہتر ہے، دعائوں کی درخواست ہے۔
 
کیا کہنے جناب کیا خوب غزل ہے واہ واہ
چچا غالب نے کیا خوب کہا
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
اب روانی طبع کا سبب کیا ہے؟
یہ تو آپ کا سر ٹٹول ٹٹول کر ہی پتہ چلے گا :thinking:
 
"قابل" اور "چاہت" ایک زبان کے الفاظ نہیں یا کوئی اور وجہ ہے ترکیب درست نہ ہونے کی؟​

زیر اور واو کے ساتھ تراکیب سازی (مرکب توصیفی یا مرکب اضافی) صرف عربی اور فارسی اسماء و افعال میں جائز ہے۔ ’’چاہت‘‘ نہ فارسی ہے نہ عربی؛ یہ مقامی (عرفِ عام میں ہندی) ہے۔ اس کا مصدر ’’چاہنا‘‘ ہے؛ چاہ، چاہت، چہیتا، چہیتی۔

وضاحت مزید: چاہ (کنواں) فارسی کا ہے: چاہِ یوسف، چاہ کَن را چاہ درپیش۔


امجد علی راجا
 
زیر اور واو کے ساتھ تراکیب سازی (مرکب توصیفی یا مرکب اضافی) صرف عربی اور فارسی اسماء و افعال میں جائز ہے۔ ’’چاہت‘‘ نہ فارسی ہے نہ عربی؛ یہ مقامی (عرفِ عام میں ہندی) ہے۔ اس کا مصدر ’’چاہنا‘‘ ہے؛ چاہ، چاہت، چہیتا، چہیتی۔

وضاحت مزید: چاہ (کنواں) فارسی کا ہے: چاہِ یوسف، چاہ کَن را چاہ درپیش۔


امجد علی راجا
شکریہ استادِ محترم
 

مہ جبین

محفلین
سرخ پھولوں میں چھپے کانٹوں کو مت الزام دو
مجھ کو خود ہی پھول چننے کا بڑا ارمان تھا
وقت نے نوچے ہیں چہرے سے نقاب خوش نما
آج نفرت ہے اسی سے کل جو میری جان تھا
بہت عمدہ کلام امجد علی راجا
 

شوکت پرویز

محفلین
بہت اچھی غزل لکھی ہے راجا بھائی، داد قبول کیجئے۔۔۔

اللہ آپ (اور ہم سب) کو بیماری اور تکالیف سے محفوظ رکھے، اور ہمیں صابر و شاکر بنائے۔۔۔ آمین۔۔
 
بہت اچھی غزل لکھی ہے راجا بھائی، داد قبول کیجئے۔۔۔

اللہ آپ (اور ہم سب) کو بیماری اور تکالیف سے محفوظ رکھے، اور ہمیں صابر و شاکر بنائے۔۔۔ آمین۔۔
شکریہ شوکت بھیا!
آمین، اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
 
Top