نسخ کی حمایت میں۔۔۔

arifkarim

معطل
بہترین نستعلیق فونٹ نہیں بن پایا اسی طرح ہر لحاظ سے مکمل کوئی بہترین نسخ فونٹ بھی موجود نہیں ہے۔۔۔ البتہ تصمیم اور کلک وغیرہ کا نسخ فونٹ کافی حد تک اصل نسخ خطاطی سے مطابقت رکھتا ہے
بہترین نستعلیق فانٹ تو کیریکٹر میں ہی بن سکتا ہے اور فی الحال اسے سپورٹ کرنے والے انجنز یا تو بہت مہنگے یا تجرباتی مراحل سے گزر رہے ہیں۔
 

سعادت

تکنیکی معاون
سعادت کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کے باعث کچھ رسم الخطوط کے فانٹس میں خطاطی کو کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔ ڈیکو ٹائپ کے تھامس مائلو اس کمپرومائز کے قائل نہیں تھے اسی لئے انہوں نے کئی دہائیوں کی ریسرچ کے بعد ایڈوانسڈ عربی انجن بنایا جسے متلاشی نے اوپر تصمیم میں دکھایا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ بلاشبہ ہر عربی رسم الخط کیلئے بہترین ہے البتہ ناقص سافٹوئیر اسپورٹ اور قیمت خرید سے باہر ہونے کی وجہ سے فی الحال قابل استعمال نہیں۔
میری تھامس مائلو سے اسے آزاد مصدر کرنے کیلئے بات ہوئی تھی تو اسکا کہنا تھا کہ وہ کردے گا اگر اگلے ۲۰ سال تک کوئی اسکی کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنے کیلئے راضی ہو جائے۔
یاد رہے کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے کلاسِک اصولوں میں ترمیم ایک علیحدہ بحث ہے۔ نسیم اوپن ٹائپ کے علاوہ ڈیکوٹائپ کے ACE کے لیے بھی دستیاب ہے جہاں اوپن ٹائپ جیسی تکنیکی مشکلات کا کوئی وجود نہیں، لیکن دونوں ٹیکنالوجیز میں نسیم کا ایک ہی ڈیزائن ہے جو خبروں، میگزین، اور دیگر ادارتی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔
 

زیک

مسافر
لاطینی رسم الخط نے سادہ پن کی طرف سفر کیا ہے وہی نسخ یا نستعلیق میں بھی ہو رہا ہے۔
 

طالب سحر

محفلین
جس طرح آج تک ہر لحاظ سے مکمل کوئی بہترین نستعلیق فونٹ نہیں بن پایا اسی طرح ہر لحاظ سے مکمل کوئی بہترین نسخ فونٹ بھی موجود نہیں ہے۔۔۔ البتہ تصمیم اور کلک وغیرہ کا نسخ فونٹ کافی حد تک اصل نسخ خطاطی سے مطابقت رکھتا ہے ۔۔۔۔
کمپیوٹر پر عربی لکھنے کے لئے زھیر البازی نسخ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ دیکھیے: تصمیم نسخ کے ساتھ اس کا موازنہ

یہ جو 4 کریکٹر بیسڈ سمپل نسخ نما فونٹس ہے انہیں میرے خیال سے نسخ کا فونٹ کہنا مناسب نہیں ۔۔۔
کمپیوٹر پر عربی، فارسی اور اردو لکھنے کے لئے نسیم اور ڈرائڈ عریبک نسخ کے علاوہ مامون صقال کے بنایا ہوا Arabic Typesetting بھی تو نسخ اسلوب کا ٹائپ فیس مانا جاتا ہے۔ تاہم انہی کا بنایا ہوا صقال المجلۃ نسخ پر مبنی ضرور ہے لیکن اس کو وہ خود بھی نسخ نہیں کہتے-

سمپل 4 کریکٹر بیس فونٹ
اگر میں صحیح سمجھ پا رہا ہوں تو آپ غالباً حرف کی مفرد، ابتدائی، درمیانی، اور آخری شکل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں- ایک ضمنی بات کہنا چاہوں گا: اگر ایک اچھا فونٹ صرف ان چار شکلوں سے بنتا ہوتا، تو کیا بات تھی- نادین شاہین جنہوں نے Zapfino Arabic بنایا (جو کہ نسخ اسلوب کا نہیں ہے)، ایک انٹرویو میں کہتی ہیں:

“The most important thing in an Arabic typeface is to maintain the illusion that one brushstroke wrote the whole word. When they connect, you need to feel that it's one single movement, but in reality these are very different characters that are just put side-by-side. If you don't have the logic of how to combine them and how to draw a curve that is actually cut in half and then put it together so that it looks like it's one curve, it becomes quite complicated.

“For example, the letter 'b' - which in Arabic is called ‘baa’. You have four forms for it: when it's isolated, when it's in the initial, in the middle, or the final position. But in this typeface, I had many, many different shapes. I had the initial ‘baa’, the normal, and then another one if it comes before a ‘miim’, another one if it comes before a ‘jiim’, another one it comes before a ‘raa’.

“It had to change and to take into consideration what comes after and what comes before. You start [creating] words, and then the words look funny, and then you redraw and you redraw until the word shapes start to look good. And finally you have that illusion that there is a continuous line connecting all of these different shapes.”
 

سعادت

تکنیکی معاون
کل رات ہی ٹائپوگرافیکا کے ذریعے کلاسیکی نسخ پر مبنی ’بُستانی‘ فونٹ کا علم ہوا۔ انتہائی شاندار ہے!

bustani_zps1z0oct8u.png

bustani-02_zpsskbmkgiv.png

(تصاویر ٹائپوگرافیکا سے لی گئیں)

- ٹائپوگرافیکا پر (ٹائٹس نیمتھ کا لکھا ہوا) بُستانی کا ریویو
- بُستانی خریدنے کے لیے: فونٹس ڈاٹ کام، مائی فونٹس
- بُستانی کا یوزر گائیڈ (پی‌ڈی‌ایف)؛ فونٹ کی اوپن ٹائپ انجینیئرنگ کمال کی ہے۔
 

متلاشی

محفلین
کمپیوٹر پر عربی لکھنے کے لئے زھیر البازی نسخ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ دیکھیے: تصمیم نسخ کے ساتھ اس کا موازنہ
زہیر البازی صاحب سے میرے قریبی تعلقات ہیں ان سے دو تین دفعہ ملاقات بھی ہو چکی ہے ۔۔۔ جی عریبک اوپن ٹائپ فونٹ میں زہیر البازی صاحب کا فونٹ بحیثیت فونٹ یقیناً ایک بہترین کاوش ہے۔ البتہ اس فونٹ کی خطاطی کا مزاج پاکستانی نسخ ہے اس لیے عریبک ورلڈ میں وہ فونٹ کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں کر سکا۔۔۔ تصمیم کے فونٹس چونکہ صرف انڈیزائن تک محدود ہیں اس لحاظ سے زہیر البازی صاحب کے فونٹ کو بحیثیت اوپن ٹائپ فونٹ ان پر فوقیت حاصل ہے ۔۔۔ کیونکہ اس فونٹ کے جدید اوپن ٹائپ فیچرز ہر سوفٹ وئیر میں سپورٹڈ ہیں ۔۔۔ البتہ کلاسیکل خطاطی کے لحاظ سے تصمیم کے فونٹس زیادہ بہتر ہیں ۔۔۔
 

متلاشی

محفلین
کمپیوٹر پر عربی، فارسی اور اردو لکھنے کے لئے نسیم اور ڈرائڈ عریبک نسخ کے علاوہ مامون صقال کے بنایا ہوا Arabic Typesetting بھی تو نسخ اسلوب کا ٹائپ فیس مانا جاتا ہے۔ تاہم انہی کا بنایا ہوا صقال المجلۃ نسخ پر مبنی ضرور ہے لیکن اس کو وہ خود بھی نسخ نہیں کہتے-
جی عریبک ٹائپ سیٹنگ کی بیس نسخ اسلوبِ خطاطی پر ہی مبنی ہے ۔۔۔ البتہ صقال المجلۃ کو نسخ فونٹ نہیں کہا جاسکتا۔۔۔ وہ تو اسٹائلش سا خط ہے ۔۔۔ اسی طرح نسیم اور ڈرائڈ عریبک کو بھی میرے خیال سے نسخ اسلوبِ خطاطی کا حامل فونٹ کہنا نسخ خطاطی کے ساتھ زیادتی ہے ۔۔۔
 

متلاشی

محفلین
اگر میں صحیح سمجھ پا رہا ہوں تو آپ غالباً حرف کی مفرد، ابتدائی، درمیانی، اور آخری شکل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں- ایک ضمنی بات کہنا چاہوں گا: اگر ایک اچھا فونٹ صرف ان چار شکلوں سے بنتا ہوتا، تو کیا بات تھی- نادین شاہین جنہوں نے Zapfino Arabic بنایا (جو کہ نسخ اسلوب کا نہیں ہے)، ایک انٹرویو میں کہتی ہیں:
جی 4 کریکٹر بیس سے میری یہی مراد ہے اور میرے خیال سے کسی بھی اسلوب کا اچھا فونٹ صرف 4 کریکٹر بیس سے نہیں بن سکتا ۔۔۔ یا تو لگیچرز ڈالنے پڑیں گے یا پھر ابتدائی درمیانی اور آخری اشکال ایک سے زائد استعمال کرنا پڑیں گی ۔۔۔۔
 

متلاشی

محفلین
کل رات ہی ٹائپوگرافیکا کے ذریعے کلاسیکی نسخ پر مبنی ’بُستانی‘ فونٹ کا علم ہوا۔ انتہائی شاندار ہے!

bustani_zps1z0oct8u.png

bustani-02_zpsskbmkgiv.png

(تصاویر ٹائپوگرافیکا سے لی گئیں)

- ٹائپوگرافیکا پر (ٹائٹس نیمتھ کا لکھا ہوا) بُستانی کا ریویو
- بُستانی خریدنے کے لیے: فونٹس ڈاٹ کام، مائی فونٹس
- بُستانی کا یوزر گائیڈ (پی‌ڈی‌ایف)؛ فونٹ کی اوپن ٹائپ انجینیئرنگ کمال کی ہے۔
بہت اچھا فونٹ ہے ۔۔۔ اگر اس فونٹ کو بھی دیکھا جائے تو اس کی کرسی بدل رہی ہے ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں
Bustani-Typ-05_w-1.png
 

متلاشی

محفلین
اس بات سے تھوڑا سا اختلاف ہے۔ کلاسیکی نسخ کے اصول اور ان کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن خطاطی سے ٹائپ فیس کے سفر کے دوران ٹائپ ڈیزائنرز اکثر ان اصولوں میں اپنے ٹائپ فیس کی ضروریات کے مطابق ترامیم کرتے ہیں۔ [۱] ایک مثال نسیم ہی کی ہے، اور دوسری ڈرائیڈ عریبک نسخ کی (جو اینڈرائیڈ میں عربی سکرپٹ (بشمول اردو) کا ڈیفالٹ فونٹ ہے اور چھوٹے پوائنٹ سائز کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا)۔ ڈرائیڈ عریبک نسخ کے ڈیزائنز، پاسکل زغبی، نے اس کے ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ کے بارے میں ایک دلچسپ بلاگ پوسٹ لکھی تھی، جس میں سے کچھ اقتباسات پیش ہیں:

اب کیا ڈرائیڈ عریبک اور نسیم فونٹس ’نسخ‘ کہلائے جا سکتے ہیں؟ میرے خیال میں، ہاں۔ (اور میں سمجھتا ہوں کہ اردو پڑھنے کے لیے بھی یہ کافی اچھے فونٹس ہیں!)

اسی طرح نوٹو نستعلیق اردو میں بھی ڈیزائن کے ایسے فیصلے دیکھے جا سکتے ہیں جو کلاسیکی نستعلیق کے اصولوں پر سو فیصد فِٹ نہیں بیٹھتے (نوٹو نستعلیق اردو کے اجرا کے بعد شاید فیس‌بُک پر کچھ ایسا پڑھا تھا کہ یہ کیسا نستعلیق فونٹ ہے جس میں نستعلیق کے معانی ہی بدل گئے :) )، لیکن اس فونٹ کو نستعلیق نہ کہنا میری ناقص رائے میں تو مناسب نہیں ہو گا۔
سعادت بھائی یہاں میں آپ کی بات سے تھوڑا اختلاف رکھتا ہوں ۔۔۔ اگر خطاطی سے ٹائپ فیس کے سفر کے دوران ٹائپ ڈیزائنر فونٹ کی اشکال اس قدر بدل دیں فونٹ کا رسم الخط ہی بدل جائے جیسا کہ نسیم اور ڈرائڈ عریبک نسخ کے ڈیزائنرز نے کیا ہے تو میرے خیال سے پھر ان فونٹس کو نسخ اسلوبِ خطاطی کا فونٹ کہنا نسخ خطاطی کے ساتھ زیادتی ہے ۔۔۔
اسی طرح نوٹو نستعلیق بھی کسی بھی طرزِ نستعلیق (لاہوری، دہلوی، ایرانی ، عریبک ) کا غماز نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ مکسچر سا ہے ۔۔۔ اس لیے میرے خیال اسے نستعلیق نما کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔۔۔۔ ! نستعلیق فونٹ کی نستعلیقیت ہی اگر ختم ہو جائے تو پھر اسے نستعلیق کہنا چہ معنی دارد؟؟؟؟؟
 

سعادت

تکنیکی معاون
سعادت بھائی یہاں میں آپ کی بات سے تھوڑا اختلاف رکھتا ہوں ۔۔۔ اگر خطاطی سے ٹائپ فیس کے سفر کے دوران ٹائپ ڈیزائنر فونٹ کی اشکال اس قدر بدل دیں فونٹ کا رسم الخط ہی بدل جائے جیسا کہ نسیم اور ڈرائڈ عریبک نسخ کے ڈیزائنرز نے کیا ہے تو میرے خیال سے پھر ان فونٹس کو نسخ اسلوبِ خطاطی کا فونٹ کہنا نسخ خطاطی کے ساتھ زیادتی ہے ۔۔۔
اسی طرح نوٹو نستعلیق بھی کسی بھی طرزِ نستعلیق (لاہوری، دہلوی، ایرانی ، عریبک ) کا غماز نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ مکسچر سا ہے ۔۔۔ اس لیے میرے خیال اسے نستعلیق نما کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔۔۔۔ ! نستعلیق فونٹ کی نستعلیقیت ہی اگر ختم ہو جائے تو پھر اسے نستعلیق کہنا چہ معنی دارد؟؟؟؟؟
دیکھیے، یہاں پر دو باتیں ہیں:

(۱) نسخ یا نستعلیق کی کلاسیکی اشکال؛
(۲) نسخ یا نستعلیق میں اشکال کے باہمی تناسب اور جوڑوں کے اصول۔

نسیم، ڈرائیڈ عریبک نسخ، یا نوٹو نستعلیق اردو میں آپ کو (۱) تو نہیں ملے گا، لیکن (۲) ضرور ملے گا (اگرچہ کہیں کہیں (۲) کے اصولوں میں بھی (۱) کی غیر موجودگی کی وجہ سے ترمیم مل سکتی ہے۔) اوپر ایک پوسٹ میں مَیں نے ڈرائیڈ عریبک نسخ اور کلاسیکی نسخ کی اشکال کے موازنے کی ایک تصویر شیئر کی تھی، جس کے بارے میں ڈرائیڈ عریبک نسخ کے خالق کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان اشکال (کے دائروں اور کاؤنٹرز وغیرہ) میں چھوٹے پوائنٹ سائز کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے تبدیلیاں کی گئی ہیں لیکن ان کا مجموعی تناسب نسخ کی کلاسیکی اشکال سے مماثل ہی ہے۔ ایک اور اچھی مثال ’ثریا‘ نامی فونٹ کی ہے (یہاں، یہاں، اور یہاں دیکھیے) جو خطِ دیوانی کے اصولوں پر مبنی لیکن جدید، ٹائپوگرافِک اشکال کا بھی حامل ہے (شاید پہلے بھی محفل میں کہیں اس کا ذکر کِیا تھا)۔

سو میری ناقص رائے میں اگر کوئی ٹائپ فیس کسی کلاسیکی خط کے تناسب اور جوڑوں کے اصولوں کو بنیاد بنا کر اشکال میں تبدیلی کرتا بھی ہے تو اسے اس خط کی ایک جدید انٹرپریٹیشن سمجھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ کا موقف یہ ہے کہ ایسے ٹائپ فیسز کی اشکال کو کلاسیکی خطاطی کی اشکال سے ہرگز دور نہیں ہٹنا چاہیے، تو پھر مجھے اور آپ کو غیر متفق ہونے پر متفق ہونا پڑے گا۔ :)
 

محمد سعد

محفلین
اسی طرح نوٹو نستعلیق بھی کسی بھی طرزِ نستعلیق (لاہوری، دہلوی، ایرانی ، عریبک ) کا غماز نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ مکسچر سا ہے ۔۔۔
ایک سوال ذہن میں آتا ہے۔ یہاں آپ نے بھی تو نستعلیق کے چار الگ الگ انداز گنوا دیے ہیں۔ فرض کریں ایک شخص ان سب کے اساتذہ سے سیکھتا ہے اور پھر جب خود لکھتا ہے تو اس کا انداز ان سب سے تھوڑا تھوڑا جدا اور ایک مکسچر سا ہوتا ہے۔ کیا اسے بھی ہم نستعلیق نہیں کہیں گے؟ مجھے یہ تو یاد نہیں کہ نستعلیق کا پہلا پہلا انداز کون سا تھا۔ لیکن اگر آپ اس دور میں ہوتے جہاں اسی کا دور دورہ تھا اور پھر معلوم ہوتا کہ کسی استاد نے ایک نئے انداز سے لکھنا شروع کر دیا ہے (جو کہ انہی باقی تین اندازوں میں سے ہوتا) تو کیا ہم دوسرے، تیسرے اور چوتھے کو نستعلیق نہ کہتے؟ پھر تو اس کی درستگی ہونی چاہیے۔ صرف ابتدائی انداز کو نستعلیق کہا جائے اور باقی سب کو نستعلیق نما؟ یہ نکتہ ہضم نہیں ہوتا۔
 

متلاشی

محفلین
دیکھیے، یہاں پر دو باتیں ہیں:

(۱) نسخ یا نستعلیق کی کلاسیکی اشکال؛
(۲) نسخ یا نستعلیق میں اشکال کے باہمی تناسب اور جوڑوں کے اصول۔

نسیم، ڈرائیڈ عریبک نسخ، یا نوٹو نستعلیق اردو میں آپ کو (۱) تو نہیں ملے گا، لیکن (۲) ضرور ملے گا (اگرچہ کہیں کہیں (۲) کے اصولوں میں بھی (۱) کی غیر موجودگی کی وجہ سے ترمیم مل سکتی ہے۔) اوپر ایک پوسٹ میں مَیں نے ڈرائیڈ عریبک نسخ اور کلاسیکی نسخ کی اشکال کے موازنے کی ایک تصویر شیئر کی تھی، جس کے بارے میں ڈرائیڈ عریبک نسخ کے خالق کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان اشکال (کے دائروں اور کاؤنٹرز وغیرہ) میں چھوٹے پوائنٹ سائز کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے تبدیلیاں کی گئی ہیں لیکن ان کا مجموعی تناسب نسخ کی کلاسیکی اشکال سے مماثل ہی ہے۔ ایک اور اچھی مثال ’ثریا‘ نامی فونٹ کی ہے (یہاں، یہاں، اور یہاں دیکھیے) جو خطِ دیوانی کے اصولوں پر مبنی لیکن جدید، ٹائپوگرافِک اشکال کا بھی حامل ہے (شاید پہلے بھی محفل میں کہیں اس کا ذکر کِیا تھا)۔
سعادت بھائی میں آپ کے نقطۂ نظر سے جزوی طور پر متفق ہوں ۔مگر یہاں دو باتیں قابلِ ذکر ہیں
1۔ جیسا کہ آپ نے کہا کہ دوباتوں کو مد نظر رکھنا چاہیے
(۱) نسخ یا نستعلیق کی کلاسیکی اشکال؛
(۲) نسخ یا نستعلیق میں اشکال کے باہمی تناسب اور جوڑوں کے اصول۔
اور نسیم یا ڈرائیڈ عریبک نسخ میں (۲) ضرور ملے گا۔۔۔ تو میرے خیال سے ان دونوں فونٹس میں (۲) نمبر بھی آدھا ملتا ہے ۔۔۔ یعنی بیسک اشکال ملتی جلتی ہیں کلاسیکل نسخ کی اشکال سے ۔۔۔ لیکن بے شمار ایسی اشکال ہیں جو کلاسیکل نسخ کی اشکال سے بالکل نہیں ملتیں بلکہ کلاسیکل خطاطی کی اشکال اور ان کے اصولوں سے جان بوجھ کر انحراف کیا گیا ہے ۔۔۔ مثال کے طور پر
اونچے شوشے کا نہ ہونا ۔۔۔ نسخ کا بنیادی اصول ہے جب بھی تین شوشے اکھٹے آ جائیں تو درمیان والا شوشہ اونچا لکھا جاتا ہے ۔۔۔ لیکن ایسا نہیں ہے ۔۔۔ اسی طرح میر مین وغیرہ کے الفاظ میں ن اور ر کا پیوند اوپر سے ملتا ہے نہ کہ بیس لائن سے ۔۔۔ اسی طرح بی نی یی آئسولیٹڈ اور ی فائنل والنے سارے الفاظ نسخ میں اونچے لکھے جاتے ہیں ۔۔ اور بھی بہت کچھ ہے :۔۔۔
تفصیل اور مثالوں کے لیے میرے اردو نسخ فونٹ کا یہ تعارف ملاحظہ کریں :۔ یہی الفاظ نسیم یا ڈرائیڈ وغیرہ میں لکھ کر دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اصولوں سے بہت زیادہ انحراف کیا گیا ہے ۔۔۔
mhernaskh.png



نسیم اور ڈرائڈ عریبک فونٹ محض 4 کریکٹر بیس فونٹ ہیں ۔۔۔ اور آپ خود ہی محض 4 کریکٹر بیس فونٹس کو نسخ فونٹ نہیں مانتے ۔۔۔

آپ کی اس بات سے متفق ہوں۔ ایریل، تاہوما، یا سمپلیفائیڈ عریبک جیسے فونٹس کو نسخ کہنا نسخ کے ساتھ اچھی خاصی زیادتی ہے۔
سمپلفائیڈ عریبک ، ایریل یا تاہوما وغیرہ میں جوڑوں کے جو اصول ہیں سیم وہی اصول نسیم اور ڈرائیڈ نسخ میں بھی ہیں ۔۔۔۔
پھر آخر کیا وجہ ہے کہ کہ آپ سمپلیفائیڈ عریبک وغیرہ کو تو نسخ فونٹ نہیں مانتے جبکہ نسیم اور ڈرائیڈ نسخ کو مانتے ہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟
ثریا فونٹ میں دیوانی طرزِ خطاطی کے اصولوں سے انحراف نہیں کیا گیا صرف اشکال میں تھوڑی بہت موڈیفیکیشن ہے اس لیے اسے دیوانی طرز کا فونٹ کہا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔

دوسری بات :۔ باقی عریبک پرشین اسکرپٹ کے جتنے بھی طرزِ خطاطی ہیں ان کے بنیادی اصول سیم ہیں ۔۔۔۔ یعنی بنیادی 4 کریکٹرز اور انہیں کا آپس میں ملنا ۔۔۔ یہ پرشین یا عریبک اسکرپٹ کا بیسک اصول ہے نا کہ نسخ کا اسی لیے ان دو فونٹس کو پرشین یا عریبک یا اردو وغیرہ کے فونٹس تو کہا جا سکتا ہے لیکن نسخ کا فونٹ نہیں ۔۔۔ امید ہے اتنی وضاحت کے بعد میرا نقطہ نظر آپ سمجھ گئے ہوں گے
 

متلاشی

محفلین
سو میری ناقص رائے میں اگر کوئی ٹائپ فیس کسی کلاسیکی خط کے تناسب اور جوڑوں کے اصولوں کو بنیاد بنا کر اشکال میں تبدیلی کرتا بھی ہے تو اسے اس خط کی ایک جدید انٹرپریٹیشن سمجھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ کا موقف یہ ہے کہ ایسے ٹائپ فیسز کی اشکال کو کلاسیکی خطاطی کی اشکال سے ہرگز دور نہیں ہٹنا چاہیے، تو پھر مجھے اور آپ کو غیر متفق ہونے پر متفق ہونا پڑے گا۔
یہاں آپ نے مجھے سمجھنے میں غلطی کی ہے ۔۔۔ میرے خیال سے نسخ یا نستعلیق کی کلاسیکی اشکال سے زیادہ ان کے جوڑوں کے اصول زیادہ اہم ہیں ۔۔۔ اگر ان اصولوں سے انحراف نہیں کیا گیا ہو چاہیے اشکال میں تھوڑی بہت موڈیفیکیشن کی بھی گئی ہو تو پھر انہیں نسخ یا نستعلیق طرز کا فونٹ کہنے میں کوئی حرج نہیں ۔۔۔۔ :)
 

arifkarim

معطل
سو میری ناقص رائے میں اگر کوئی ٹائپ فیس کسی کلاسیکی خط کے تناسب اور جوڑوں کے اصولوں کو بنیاد بنا کر اشکال میں تبدیلی کرتا بھی ہے تو اسے اس خط کی ایک جدید انٹرپریٹیشن سمجھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ البتہ اگر آپ کا موقف یہ ہے کہ ایسے ٹائپ فیسز کی اشکال کو کلاسیکی خطاطی کی اشکال سے ہرگز دور نہیں ہٹنا چاہیے، تو پھر مجھے اور آپ کو غیر متفق ہونے پر متفق ہونا پڑے گا۔ :)
متفق۔ زیادہ دور نہ جائیں۔ لاطینی الفابیٹس کو ہی لے ہیں۔ انکی کلاسیکل اشکال گوتھک اور کرسو ہیں لیکن دور جدید میں یہ اب مستعمل نہیں رہیں۔ ماڈرن زمانہ کے بعد جہاں دیگر فنون میں جدت آئی وہیں لاطینی فانٹوگرافی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ آج بھی سکرین والے لاطینی فونٹس اور چھپائی والے فانٹس بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ یوں اردو کیلئے کلاسیکل خطاطی کی ضد چہ معنی ہے۔
 
آخری تدوین:

arifkarim

معطل
دوسری بات :۔ باقی عریبک پرشین اسکرپٹ کے جتنے بھی طرزِ خطاطی ہیں ان کے بنیادی اصول سیم ہیں ۔۔۔۔ یعنی بنیادی 4 کریکٹرز اور انہیں کا آپس میں ملنا ۔۔۔ یہ پرشین یا عریبک اسکرپٹ کا بیسک اصول ہے نا کہ نسخ کا اسی لیے ان دو فونٹس کو پرشین یا عریبک یا اردو وغیرہ کے فونٹس تو کہا جا سکتا ہے لیکن نسخ کا فونٹ نہیں ۔۔۔ امید ہے اتنی وضاحت کے بعد میرا نقطہ نظر آپ سمجھ گئے ہوں گے

یہاں آپ نے مجھے سمجھنے میں غلطی کی ہے ۔۔۔ میرے خیال سے نسخ یا نستعلیق کی کلاسیکی اشکال سے زیادہ ان کے جوڑوں کے اصول زیادہ اہم ہیں ۔۔۔ اگر ان اصولوں سے انحراف نہیں کیا گیا ہو چاہیے اشکال میں تھوڑی بہت موڈیفیکیشن کی بھی گئی ہو تو پھر انہیں نسخ یا نستعلیق طرز کا فونٹ کہنے میں کوئی حرج نہیں ۔۔۔۔ :)

یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ ہر عربی رسم الخط فانٹ کی اصل پہچان اسکے جوڑوں سے ہوتی ہے۔ اشکال کا معاملہ ثانوی ہے۔ ہم جن فانٹس کو آج تک نسخ گردانتے آئے وہ درحقیقت نسخ ہیں ہی نہیں بلکہ نسخ کی سمپلی فائیڈ چار حرفی ورژنز ہیں۔ اسی طرح جمیل نوری نستعلیق کا بیس فانٹ جوہر نستعلیق گو کہ جوڑوں کے مطابق نستعلیق کہلاتا ہے مگر ہر حرف کی صرف ۴ اشکال ہونے کی وجہ سے وہ اصل نستعلیق نہیں ہے۔ یہ نستعلیق کی سمپلی فائیڈ ورژن ہے۔
 

متلاشی

محفلین
ایک سوال ذہن میں آتا ہے۔ یہاں آپ نے بھی تو نستعلیق کے چار الگ الگ انداز گنوا دیے ہیں۔ فرض کریں ایک شخص ان سب کے اساتذہ سے سیکھتا ہے اور پھر جب خود لکھتا ہے تو اس کا انداز ان سب سے تھوڑا تھوڑا جدا اور ایک مکسچر سا ہوتا ہے۔ کیا اسے بھی ہم نستعلیق نہیں کہیں گے؟ مجھے یہ تو یاد نہیں کہ نستعلیق کا پہلا پہلا انداز کون سا تھا۔ لیکن اگر آپ اس دور میں ہوتے جہاں اسی کا دور دورہ تھا اور پھر معلوم ہوتا کہ کسی استاد نے ایک نئے انداز سے لکھنا شروع کر دیا ہے (جو کہ انہی باقی تین اندازوں میں سے ہوتا) تو کیا ہم دوسرے، تیسرے اور چوتھے کو نستعلیق نہ کہتے؟ پھر تو اس کی درستگی ہونی چاہیے۔ صرف ابتدائی انداز کو نستعلیق کہا جائے اور باقی سب کو نستعلیق نما؟ یہ نکتہ ہضم نہیں ہوتا۔
محمد سعد بھائی ۔۔۔ کوئی بھی شخص جب کوئی بھی طرزِ نستعلیق سیکھنا چاہتا ہے تو وہ اسے جداگانہ طرز کی حیثیت سے سیکھتا ہے ۔۔۔ مطلب اگر وہ لاہوری طرزِ نستعلیق سیکھنا چاہتا ہے تو وہ لاہوری طرزِ نستعلیق سیکھے گا اگر ساتھ ہی وہ دہلوی یا ایرانی طرزِ نستعلیق سیکھنا چاہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ کوئی دوسرا خط یعنی دیوانی ، نسخ ، یا رقعہ وغیرہ سیکھے۔۔ اس لیے جب وہ لکھنے بیٹھے گا تو وہ سوچے گا کہ اسے کس طرز میں لکھنا ہے یا لکھنے کے لیے کہا گیا ہے تو وہ اسی طرز کو فالو کرے گا۔۔۔
مثال کے طور پر ایک درزی ہے اس نے ایک ہی استاد سے قیمض، شیروانی اور شرٹ کی سلائی کرنا سیکھا۔۔۔ تو کیا اب جب وہ خود سلائی کرنے بیٹھے گا تو وہ ان تینوں کا مکسچر سی دے گا ؟؟؟؟ نہیں نا وہ سلائی کرنے سے پہلے فیصلہ کرے گا کہ اسے کیا سلائی کرنا ہے اور پھر وہ وہی سلائی کرے گا ۔۔۔ سیم یہی بات خطاطی میں بھی ہے ۔۔۔
رہی آپ کی دوسری بات تو سب سے پہلے ایرانی تعلیق رسم الخط میں لکھا کرتے تھے بعد میں نسخ اور تعلیق کو ملا کر نستعلیق ایجاد ہوا ۔۔۔ اب مختلف علاقوں میں بسنے والوں ماہر اساتذہ خطاطین نے اپنے رجحان کے مطابق اس نستعلیق میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کر لیں تو چار قسم کے مشہور نستعلیق طرزِ خطاطی وجود میں آئے ۔۔۔ جن میں ایرانی نستعلیق ، ایران والوں نے اپنایا ، عریبک نستعلیق عریبک ورلڈ میں مقبول ہوا، دہلوی طرز دہلی یعنی انڈیا میں مقبول ہوا ، اور لاہوری طرز لاہور یعنی پاکستان میں مشہور ہے ۔۔۔ اب یہ 4 مستند طرزِ نستعلیق بن چکے ہیں اب اگر کوئی ان سے ہٹ کر ان سے الگ کوئی نیا طرزِ نستعلیق ایجاد کرے اور وہ مقبولیت کا ایسا ہی درجہ حاصل کرے جیسا کہ ان چاروں کے پاس ہے تو پھر اسے بھی انہی کی طرح ایک طرزِ نستعلیق مان لیا جائے گا۔۔۔
اب آپ وہی درزی والی مثال لے لیں ۔۔۔ کہ وہی درزی شیروانی ، قمیض اور شرٹ کا مکسچر سلائی کر دے تو آپ ہی بتائیں اسے کیا نام دیا جائے گا ؟؟؟؟
 
Top